- الإعلانات -

ننھی پری بسمہ ،بلاول اور سائیں کی پھرتیاں

کسی کی دنیا اجڑ گئی ،ماں کی کوکھ سونی ہوگئی ،باپ کے ہاتھوں میں دس ماہ کی ننھی پری نے تڑپ تڑپ کر جان دیدی ،کوئی چمچماتی گاڑی میں گزر گیا ،سیکورٹی اتنی سخت تھی کہ غریب باپ کو آگے نہ جانے دیا گیا اس نے موٹرسائیکل دورکھڑا کیا اپنی شیرخوار ننھی معصوم بچی کو ہاتھوں پر اٹھائے ہسپتال کی جانب دوڑ لگانا شروع کردی کہ وہ اسے بروقت لیکر مسیحاؤں کے پاس پہنچ جائے تاکہ ننھی پری کی جان بچ جائے مگر وہاں تو ایک اور ’’بڑا مسیحا‘‘آیاہوا تھا جو خود کو یہ کہتا ہے کہ وہ قوم کامسیحا ہے ،بھٹو کی لاج رکھے گا ،غریب قوم کو اس کا حق دے گا ،روٹی،کپڑا ،مکان ہر سہولت دے گا مگر وہ باپ چیختا چلاتا رہا کسی نے ان کی ایک نہ سنی ،وہ کہتا رہا خدارا مجھے جانے دو میری بیٹی کی طبیعت خراب ہے ،پیدل ہی جانے دو مگر سیکورٹی اہلکار نے کان نہ دھرا اور پھر ایک قیمتی جان بلاول بھٹو کی وجہ سے ضائع ہوگئی ۔موصوف ہسپتال کے دورے پر آئے ہر طرف بڑے بڑے پہرے بٹھا دئیے گئے تاکہ کوئی داخل نہ ہوپائے ،بلاول کی طبیعت پر کوئی بات ،کوئی سوال ،کوئی شخص ،کوئی آنے جانے والا ناگوار نہ گزرے کیونکہ آخر کار ایک بڑے وڈیرے زرداری کا صاحبزادہ ہے ،پھر سندھ میں حکومت بھی سائیں کی ہے ،اب تویوں محسوس ہوتا ہے کہ وہاں سارے کے سارے ہی سائیں اکٹھے ہوگئے ہیں ۔سائیں جاتا ہے تو کسی غریب بھوکے کو لاکھوں کی گاڑی میں بیٹھے ہوئے ایک ہزار کانوٹ دے کرکہتا ہے کہ لو اورا پنی بھوک مٹاؤ ،پھر اسی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری صاحب آتے ہیں جن کے نام کے ساتھ بھٹو بھی ہے ،زرداری بھی ہے ،اب پتہ نہیں یہ پارٹی بھٹو کی ہے کہ زرداری کی ہے ،آج تک یہ فیصلہ ہی نہ ہوپایا،بلاول کہتا پھرتا ہے کہ بھٹو زندہ ہے ،بھٹوزندہ ہے ،ڈیسوں ڈیسوں سندھ نہ ڈیسوں ،پنجاب بھی کھنسوں مگر بلاول صاحب آپ نے تو ایک معصوم پری کی جان لے لی ۔اس کا جوابدہ کون ہے ؟ابھی تو بلاول تم نے الیکشن بھی نہیں لڑا گو کہ سیاست میں آگئے ہو جذباتی تقریر کرلیتے ہو ،اب جاکر اس ماں کے جذبات بھی پوچھو جس کی کوکھ تمہارے وی آئی پی کلچر کی وجہ سے اجڑ گئی ہے ۔پھر مزے کی بات یہ کہ اس بیٹی کے باپ کو سائیں نے اپنے پاس طلب کرلیا کیونکہ قوم تو ان حکمرانوں کیلئے ایک مزارعے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی ،بھلا سائیں وہاں کیوں جاتے ،ان کے جوتوں پر مٹی پڑتی،لوگ طرح طرح کے سوال کرتے ،نعرے بازی ہوتی ،بسمہ کے حوالے سے سوال وجواب ہوتے ،مگر پھر سائیں تو سائیں ہے وہ کیا جواب دیتا ۔بسمہ کے باپ کو بلا لیا یا اٹھوا لیا اب یہ تو وہاں کے سیکورٹی والے ہی جانتے ہیں کیونکہ اسی طرح کا ایک واقعہ پہلے بھی سندھ میں پیش آیا جب ذوالفقار مرزا عدالت میں پیشی کیلئے آئے اور باہر سیکورٹی اہلکاروں نے میڈیا والوں پر تشدد کیا ،توہین عدالت کے مرتکب ہوئے،آئی جی اوردیگر افسران کو عدالت نے طلب کیا اور وہ وضاحتیں پیش کرتے رہے مگر عدالت کو مطمئن نہ کرپائے ،اب بھی یہ تو وہاں کے عینی شاہدین ہی جانتے ہیں کہ بسمہ کا باپ کیسے گیا ،سائیں نے بلا کر مرحومہ بچی کے والد کو ملازمت کی پیشکش کردی ،پھر پتہ نہیں کیا کیا باتیں ہوئیں بسمہ کا والد میڈیا کے پاس آیا اور اس نے کہہ دیا کہ بس کسی کی غلطی نہیں یہ تقدیر کا فیصلہ ہے ۔کیسے کمال طریقے سے سائیں نے سارے معاملے کو لپیٹ دیا اورایک مسئلہ رینجرز کا تھا ۔کراچی کے عوام کی زندگیوں کا معاملہ تھا وہاں پر امن وامان قائم ہونا تھا،قتل وغارت گری رکنا تھی ،رینجرز نے وہاں پر دہشتگردی کی کمر توڑ دی ۔ہاں مگر کوئی بلاول نہیں تھا جس کی جان کو خطرہ ہوتا اس لیے سائیں نے رینجرز کے معاملے کو خوب لسی کی مدھانی میں مدھولا کہ کچھ نہ کچھ نکل آئے ۔آخرکار وفاق کو ایکشن لینا پڑا اور جب ان کے مفادات کو زک پہنچی تو شورمچایا جارہا ہے کہ سندھ کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا گیا ۔کوئی بلاول اوروزیراعلیٰ سندھ سے پوچھے کہ جب ان کے پَر جلنا شروع ہوئے تو بسمہ کے والد کو کتنی جلدی بلا کر فی الفور فیصلہ کردیا ۔جب شہر قائد کی سڑکوں پر کتنی معصوم جانیں لقمہ اجل بنتی رہیں ،ٹارگٹ کلنگ جاری رہی،رینجرز جواچھا کام کررہی تھی اس کے اختیارات کو محدود کرنے کیلئے کیا کیا نہیں کیا ۔وہ تو بھلا ہو آئین وقانون کا کہ رینجرز کے معاملات وفاق کے زیرانتظام آتے ہیں اور وفاق نے ان کے مکمل طور پر اختیارات بحال کردئیے ۔کاش اسی طرح ہر معاملے پر حکومتیں ایکشن لیں یہ وی آئی پی کلچر کہاں کا کلچر ہے ،ہر سیاستدان اس وقت یہ کہہ رہا ہے کہ بسمہ وی آئی پی کلچر کی بھینٹ چڑھ گئی کیا یہ کبھی اپنے گریبان میں بھی جھانک کر دیکھتے ہیں کہ ایک گاڑی چلتی ہے تو پروٹوکول کیلئے درجنوں گاڑیوں ہمراہ ہوتی ہیں ،کوئی غریب عوام سڑک کراس کرنا تو درکنار سڑک کنارے بھی کھڑا نہیں ہوسکتا۔بلاول بھٹو زرداری خدارا حالات کو دیکھیں،معاملات کو سمجھیں جانا سب نے اسی زمین کے اندر ہے ،وہ خوش نصیب ہے جس کو دو گز کی قبر مل گئی ،حالات تو اب کچھ اور ہی بتاتے ہیں ،بہرحال اللہ تعالیٰ سب کو حفظ اوامان میں رکھیں ،کیا نوکری دینے سے یا بیان بدلوانے سے بسمہ واپس آجائیگی یہ کبھی بھی نہیں ہوسکتا ۔بلاول آج بھی اپنے وفات پا جانے والے نانا کے حوالے سے نعرے لگاتا پھرتا ہے کہ بھٹو زندہ ہے ،بھٹو زندہ ہے ،کم از کم جو غریب عوام زندہ ہیں ان کی زندگی کو تو ارزاں نہ کریں یہ بار بار نہیں ملتی ۔یہاں اگر دنیا میں ملازمت دینے سے مسائل حل کرلیے تو کیا آخرت میں تو جواب دینا پڑے گا ۔