- الإعلانات -

ٹوٹے ٹونے اور ٹوٹکے

سانجھے دکھ
جناب مولی بخش چانڈیو جو سندھ کی صوبائی وزارت اطلاعات کے منصب جلیلہ پر فائزاور سندھ کے طوطی شکر مقال ہیں فرماتے ہیں کہ ڈاکٹر عاصم حسین کراچی کے بڑے والے ہسپتال والے کی بے گناہی کو عدالت نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے اور قرار دیا کہ ڈاکٹرموصوف معصوم عن الخطاء4 نہیں ہیں جس پر مجھے یعنی چانڈیو صاحب کو عدالتی فیصلے سے مایوسی ہوئی ہے اوردکھ ہوا ہے ایسا لگتا ہے کہ وفاقی وزارت داخلہ بھی سندھ پر حملہ آور ہے جی نہیں جناب آپ خود سندھ پر خود کش حملہ کر چکے ہیں جناب ہمیں آپ سے ہمدردی ہے آپ کے دکھ اور دکھتی رگوں کا پورا احساس ہے لیکن یہ عدالتی معاملہ ہے اور عدالتوں کا بہت احترام ہے اب چونکہ پورے پاکستان پر پارسا لوگ مقتدر ہیں لیکن پھر بھی کیا عاصم حسین صاحب زمزم سے نہائے ہوئے ہیں اگر واقعی ایسا ہے تو سرکار اس سے بڑی عدالتیں موجود ہیں چیلنج کردیں ویسے آپ تو سمجھتے ہی ہیں ناکہ سچائی کیا ہے شنید ہے کہ ان کے فرمودات عالیہ بھی کوئی 200 گھنٹے کی ریکارڈنگ پر محیط ہیں جس میں انہوں نے اسرار و رموز کی باریکیوں کی وہ وہ گتھیاں سلجھائی ہیں کہ سننے والا عش عش کر اٹھے جو برسوں تک تحقیق کے طلباء کیلئے بڑے تحقیقی موضوع کا کام دینگی آپ حوصلہ رکھیں اگر وہ معصوم ہیں تو دعا ہے کہ چھوٹ جائیں اور وہ چھوٹ جائیں گے لیکن تاریخی طور پر جو فیصلہ آپ کی پارٹی کے حق میں آتا وہ جج اور عدلیہ آزاد جو فیصلہ مناسب نہ لگا وہ کانگرو کورٹ چانڈیو صاحب کی دھواں دھار پریس کانفرنس
دانشمندی
ایک بڑی پارٹی کے ایک لیڈر دوستوں کے منع کرنے کے باوجود وطن آ پدھارے انکے دوستوں مطابق یہ وقت ان کے آنے کے لئے مناسب نہیں لہٰذا وہ نہ آئیں اور جناب ضرورت سے زیادہ خو ش فہمیوں کے ساتھ آ پدھارے اور آتے ہی حکومتی مہمان بنا لئے گئے جب ان کے معاملات اور ان کی صلاحیتوں پر میزبانوں سے مذاکرات شروع ہوئے وہ غیر متوقع طور پر خاصے خوش گلو واقع ہوئے "غزل اس نے چھیڑی مجھے ساز دینا ” کے مصداق پھر ایسی ایسی راگنیاں چھیڑیں کہ میزبانوں پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے اور ایک ایک کنکرکا ریکارڈ رکھنے لگے پتہ چلا کہ کئی حیرتوں کے کئی پہاڑ بن چکے ہیں اینٹ ماسٹر آگ بگولہ ہوکر غزل گو کو تلاشنے نکل پڑے اور متعلقہ سامعین کو اینٹ سے اینٹ لڑانے کی دھمکی دے ڈالی حقیقت کا علم ہونے پر فنکار کو اس کے حال پر چھوڑ کر سرپٹ بھاگے نکلے اور بیرون ملک آکر دم لیا اب ایک لطیفہ سن لیجئے ایک سردار جی اپنی بہو کو لینے بیٹے کی سسرال گئے وہاں سے واپسی پر راستے میں ڈاکو آگئے جو بھی تھا لوٹ لیا بشمول ہر چیز سردار جی پر تشدد بھی کیا اپنے اور بہو کے لٹنے لٹانے کیبعد سردار جی گھر پہنچے تو اپنے گھر والوں کو سارا قصہ سنایا سب کو دکھ ہوا اظہار افسوس کرنے لگے اچانک سردار جی بولے میں نے اصل کہانی تو ابھی سنائی نہیں سب گھر والے حیرت سے سردار جی کا منہ تکنے لگے سردار جی کہنے لگے تم لوگ اندازہ نہیں کر سکتے کہ ہم نے کسقدر مار کھائی سارا سامان اور پیسے تک لوٹ لئے بہو کے ساتھ ہاتھاپائی بھی سہی لیکن خوشی اس بات کی ہے کہ میں اپنی پستول بچا لے آیا
اردو کی آخری سے ذرا پہلی کتاب
پیارے بچو ہمارے پیارے ملک میں دو قسم کی مخلوق رہتی ہے ایک وی آئی پی اور دوسری کیڑے مکوڑے وی آئی پی اپنی قسمت سونے کے قلم سے لکھوا کر لائے ہیں یہ قلعہ نما گھروں میں رہتے ہیں کیڑے مکوڑے فٹ پاتھ یا اس سے ملتے جلتے جھونپڑی نما گھروں میں رہتے ہیں پیارے وطن میں ان کو عوام کہا جاتا ہے پڑوس میں یہ شودر کہلاتے ہیں یہ اپنے وی آئی پی مخدوموں کی خدمت کے لئے پیدا کئے گئے ہیں بجلی پانی بڑی گاڑیوں پہ صرف ان کا ہی حق ہوتا ہے ہٹو بچو کا پروٹوکول بھی انہیں کے لئے ہوتا ہے ہسپتال میں بھی ان کے لئے الگ جگہیں ہوتی ہیں جنہیں وی آئی پی وارڈ کہا جاتا ہے وی آئی پی سویٹ بھی ان کے لئے ہوتے کیڑے مکوڑے تو کہیں بھی رہ سکتے ہیں یہ اپنے ذاتی جہازوں میں سفر کرتے ہیں کیڑے مکوڑوں کے پیر میں جو تے بھی خال خال ہوتے ہیں پیارے بچو کیڑے مکوڑوں کو بھی اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ وی آئی پیز کے منہ سے گرا نوالہ بھی انہیں کے کام آتا ہے ورنہ ان کو کیسے پتہ چلتا کہ اللہ نے کچھ نعمتیں بھی پیدا کی ہیں وی آئی پی جب مرتے ہیں تو لواحقین کی کوشش ہوتی ہے کہ ان کو تل کر دفنایا جائے کیڑے مکوڑے تو روز دفن ہوتے رہتے ہیں وی آئی پیز کو چھینک بھی آئے تو دبی یا لندن چلے جاتے ہیں جو ان کا پیدائشی حق ہے ان کی آمد و رفت کے لئے سڑکیں بلاک ہوتی ہیں اس دوران کوئی مر بھی جائے تو ان کی بلا سے ان کا تحفظ بھی کیڑے کوڑوں کی ذمہ داری ہوتی ہے اب تک انکو پتہ نہیں کہ موت بھی ہوتی ہے اور قبر بھی اور یوم حساب بھی پیارے بچو یہ تھا آج کا سبق۔ہم مرحومہ بسمہ کے انتقال پر اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہیں جو آج VIP کلچر کی بھینٹ چڑھ گئی لواحقین کے لئے صبر کی دعا کرتے ہیں۔