- الإعلانات -

ڈاکٹر عاصم کیس ، عدلیہ اور قائم علی شاہ

قارئین کرام ، سابق صدر مملکت اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری دبئی میں مقیم ہیں اور وزیراعلیٰ سندھ کو اپنی وزارت کے اہم وزیروں کے ہمراہ متعدد مرتبہ دبئی میں طلب کر چکے ہیں۔ بادئ النظر میں وزیراعلیٰ سندھ کی دبئی طلبی ڈاکٹر عاصم کی دہشت گردی اور میگا کرپشن کیس میں گرفتاری کے حوالے سے اہمیت اختیار کر گئی ہے جبکہ کرپشن میں مطلوب ایک اور صوبائی وزیر شرجیل میمن پہلے ہی ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں اور دبئی میں زرداری صاحب کی معیت میں وزیراعلیٰ قائم علی شاہ پر بدستور دباؤ کا حربہ استعمال کرنے میں مصروف ہیں جس کے اثرات وزیراعلیٰ سندھ کے احکامات میں بخوبی محسوس کئے جا رہے ہیں ۔اندریں حالات ، ابتدائی طور پر شاہ صاحب نے رینجرز کو عضو معطل بنانے کیلئے رینجرز کے اختیارات کی توسیع کے معاملے کو لٹکایا اورپھر صوبائی اسمبلی میں تیزی رفتاری سے ایک قرارداد منظور کراکے دہشت گردی میں ملوث سہولت کاروں اور سیاست دانوں تک رینجرز کے پہنچنے کو ناممکن بنانے کی سعی کی۔ اِن اقدامات کیساتھ ساتھ اُنہو ں نے مرکزی حکومت کے آئینی اختیارات کو بظاہر چیلنج کرتے ہوئے یہ دھمکی آمیز رویہ اختیار کرنے سے بھی گریز نہیں کیا کہ اگر صوبہ سندھ میں گورنر راج لگایا گیا تو بات بہت دور تک جائیگی ۔قائم علی شاہ صاحب نے اِسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ کیس کے قانونی مراحل میں انتظامی طور پر دخل اندازی کرتے ہوئے ڈاکٹر عاصم کیس میں نہ صرف تفتیشی افسر بلکہ سرکاری وکیل کو بھی تبدیل کر ڈالالیکن جب عدالت عالیہ نے تفتیشی افسر کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے ڈاکٹر عاصم پر دہشت گردی کا مقدمہ برقرار رکھنے کے احکامات جاری کئے تو شاہ صاحب کا یہی ردعمل تھا کہ اُنہیں عدالتی فیصلے سے مایوسی ہوئی ہے اور یہ کہ اگر رینجرز کو اختیارات نہیں ملے تو کوئی آسمان نہیں ٹوٹ پڑے گاجبکہ شاہ صاحب کے مشیر اطلاعات مولا بخش چانڈیو نے عدلیہ پر الزامات کی بارش کرتے ہوئے یہ کہنے سے بھی گریز نہیں کیا کہ ڈاکٹر عاصم کیس میں انصاف نہیں کیا گیا ہے۔
دراصل سابق صدر پاکستان اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے میگا کرپشن کے حوالے سے تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا ہے۔ اِس سے قبل زرداری صاحب عدالت عظمیٰ کی اچھائی کی آواز پر سر تسلیم خم کرنے کے بجائے عدلیہ سے تصادم کی پالیسی کو مہمیز دیتے ہوئے سوئس کورٹ کرپشن کیس میں بطور پارٹی چیف، وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی پر دباؤ ڈالتے ہوئے اِپنے جنون کو اتنی ہائی پچ پر لے گئے جہاں سے یوسف رضا گیلانی کی واپسی ممکن نہ رہی۔ حیرت ہے کہ اُنہوں نے بطور پارٹی چیف ، وزیراعظم گیلانی کو یہ احکامات دینے سے بھی گریز نہیں کیا کہ وہ سوئس عدالت کو خط بھیجنے کے حوالے سے عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر کسی بھی قیمت پر عمل نہیں کریں گے اور سوئس عدالت کو یہ خط نہیں لکھیں گے چنانچہ زرداری صاحب کے اِسی غیر اخلاقی دباؤ کے سبب پاکستان کی تاریخ میں 19 جون 2012ء کے دن آئین و قانون کی عظمت کی بحالی کے حوالے سے عدالت عظمیٰ نے اپنے ایک شہرہ آفاق فیصلے میں یوسف رضا گیلانی کو بطور وزیراعظم نااہل قرار دیتے ہوئے، اُن کی قومی اسمبلی کی رکنیت ختم کردی اور پانچ برس کیلئے کسی بھی عوامی عہدے کیلئے نااہل قرار دے دیا ۔ صد افسوس کہ سیاسی کرپشن اور انتظامی بدحالی کے حوالے سے ایسی ہی صورتحال اب پیپلز پارٹی کے چیف کی جانب سے صوبہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت پر مسلط کی جا رہی ہے۔
محترم قارئین ، بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے 24 اپریل 1943ء میں زرداری صاحب جیسے ہی مسلمان جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کو متنبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ عوام کا استحصال ان کے خون میں سرائیت کر چکا ہے اور وہ اسلام کی تعلیمات کو بھلا بیٹھے ہیں ، لالچ کے باعث یہ لوگ عوام کی بہتری کے بجائے اپنی تجوریاں بھرنے میں مصروف ہیں ، ملک میں لاکھوں مسلمان ایسے ہیں جنہیں ایک وقت کی روٹی بھی میسر نہیں ہے ، کیا اِسی کا نام اسلامی تہذیب ہے اور کیا پاکستان اِسی لئے بنایا جا رہا ہے کہ لاکھوں لوگوں کا استحصال جاری رہے ، اگر یہی پاکستان کا تصور ہے تو مجھے ایسا پاکستان نہیں چاہئیے ۔ صد افسوس کہ پاکستان بننے کے بعد نام نہاد اشرافیہ کا یہی طبقہ عوامی مفادات کو پس پشت ڈال کر دھیرے دھیرے اقتدار کی غلام گردشوں پر چھا گیا ہے جبکہ ملک معاشرتی اور سیاسی گراوٹ کے حوالے سے تنزلی اور بے بسی کی ایسی منفی حدوں کو چھو رہا ہے جس کا تذکرہ تاریخ میں خال خال ہی ملتا ہے۔ ریاستی اسٹیٹ کرافٹس ، بدعنوانی اوربدانتظامی سے اِس حد تک آلودہ ہو چکے ہیں کہ سماجی میڈیا میں بھی لوگ یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ ” چوروں کو بچانے کیلئے چور اکھٹے ہو گئے ہیں” ۔ صد حیف کے قومی سیاسی اداروں میں اعلیٰ تعلیم سے محروم ، جعلی ڈگری یافتہ اور بدعنوانی سے لیس مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے عناصر کی تعیناتی ، مختصر سی ہی مدت میں بے محابا کرپشن اور پھر تفتیشی مراحل میں ایسے ملزموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے بجائے کرپشن سے اَٹے اِن بدکردار چہروں کی سیاہی کو ریاستی مقدس پانی سے دھونے کی کوششیں منظر عام پر آتی جا رہی ہیں ۔ کیا ایسا کوئی بھی انتظامی طریقہ کار کسی بھی جمہوری ملک کیلئے باعث افتخار ہو سکتا ہے یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے ؟ حیرانی کی بات ہے کہ ریاستی حکام جن کا کام ہر حال میں آئین و قانون کی حکمرانی کے سنہری اصولوں کو تحفظ دینا ہوتا ہے ، آمرانہ جمہوری چہرہ رکھنے والے حکمرانوں کی جنبش ابرو سے اِس قدر حواس باختہ کیوں ہو جاتے ہیں کہ اقتدار کی غلام گردشوں میں کرپشن اور بدعنوانی کو تحفظ دینے کیلئے عدالتی احکامات اور قانون کی پاسداری کرنے کے بجائے صریحاً خلاف ورزی کرنے پر اُتر آتے ہیں ؟ کیا وقت کی کرپشن نے اُن کے چہروں کو بھی دھندلا کر رکھ دیا ہے؟ چنانچہ ایسا کیوں ہے کہ حکمرانوں کے چہیتوں کی اربوں روپے کی کرپشن جس کے پیچھے اقتدار اعلیٰ کی غلام گردشوں میں موجزن کچھ پردہ نشینوں کی ادائیں بھی کارفرما نظر آتی ہیں، پر ببانگ دہل پردہ ڈالنے کی خفیہ ڈیل پالیسی کیوں متحرک ہے ؟ حقیقت یہی ہے کہ حکمرانوں کے اِسی سیاسی دیوالیہ پن نے ایٹمی طاقت پاکستان کو بیرونی قرضوں کے لامتناہی جال میں پھنسا کر اقتصادی دیوالیہ ہونے کے قریب تر پہنچا دیا ہے لیکن حکمرانوں کو پھر بھی قومی خزانے سے اپنے اللّے تللّوں پر اخراجات کرنے سے فرصت نہیں ہے ۔ چنانچہ ملک کی اِس دگرگوں صورتحال پر عوام بے بسی اور مایوسی کی آخری حدوں تک پہنچ رہے ہیں اورکسی مشکل کشا کے منتظر ہیں جوپاکستان میں پھر سے جناح و اقبال کی فکری رتوں کو جگائے اور ملک کو ایک بار پھر سے فلاحی ریاست کے عظیم تر مقاصد کی جانب گامزن کردے ۔ مایوس عوام یہی سوچتے ہیں کہ کیا اب کوئی مسیحا نہیں آئے گا اور کیا عوام کو اپنی تقدیر اپنے ہاتھ میں لینا ہوگی؟ کیا حکمران یہ نہیں جانتے کہ سوئس اکاؤنٹس سے لیکر، این آر او سے مستفید ہونے والوں تک اور پھر اہم قومی اداروں بشمول اسٹیل ملز ، نیشنل انشورنس ، افغان ٹرانزٹ ٹریڈ ، پی آئی اے اور حج میں ہونیوالی بے محابا کرپشن کے ذمہ دار کہاں گم ہو گئے ہیں؟ دریں اثنا ، ریاستی چہیتوں کی پردہ پوشی سے لیکر تفتیشی اداروں کی دانشورانہ کرپشن کا قلع قمع کرنے کے بجائے حکمرنوں کے روزمرہ بدلتے ہوئے بیانات عوام کو کیا پیغام دے رہے ہیں؟ کیا حکمران کرپشن کی ریل پیل میں کلی طور پر مسلمہ جمہوری روایات اور انتظامی طریقہ کار سے محروم ہو چکے ہیں اور اپنی قومی ذمہ داریاں پوری کرنے کے بجائے ہر ریاستی منصوبے میں بدانتظامی اور کرپشن کا شکار ہو چکے ہیں ؟ حقیقت یہ ہے کہ اعلیٰ عدالتوں کی جانب سے بدعنوانی ، کرپشن اور بدانتظامی کے خلاف اچھائی کی آواز ہی وہ معتبر آواز ہے جس میں اب آپریشن ضرب عضب کی آواز بھی بخوبی شامل ہو چکی ہے جو مسائل کو گھمبیر ہونے سے روکے ہوئے ہیں کیونکہ بظاہر حکمران پنجابی کی اِس کہاوت "کھای جاؤ کھائی جاؤ ، بھیت کِنے کھولنے نے ، وچو وچی کھائی جاؤ ، اتوں رولا پائی جاؤ ” کا راگ الاپنے میں ہی مشغول نظر آتے ہیں ۔ عام آدمی اور دانشور طبقہ البتہ اِس صورتحال سے سخت نالاں ہے بقول شاعر …….. ؂
کبیرا تیرے جگت میں ، اُلٹی دیکھی رِیت
پاپی بیٹھا راج کرے اور سادھو مانگے بھیک