- الإعلانات -

قائداعظم کا یوم پیدائشؒ، کرسمس اور مذہبی رواداری

آج 25 دسمبر بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کا 139 واں یوم پیدائش ہے ، زندہ قومیں اپنے قائدین کے دن پورے ملی جوش و جذبے سے مناتی ہیں یہی تاریخ کا درس ہے۔ہم اپنے محسن اورقائدؒ کا دن جتنا ملی جوش و جذبے سے منائیں اتنا کم ہے کیونکہ قائدؒ نے وہ کردکھایا جسکی توقع تاریخ دانوں اور اس وقت کے غاصب حکمرانوں کے وہم و گمان میں بھی نہ تھی۔یہ مملکت خداداد عطیہ خداوند ی ہے تو اس کا بانی بھی عطیہ خداوندی تھا۔ پاکستان کا وجود میں آنا اور قائدؒ  کے وجود کے پیچھے تائید ایزدی صاف دکھائی دیتی ہے۔اس کی ایک مثال اس سے ملتی ہے کہ 14 اگست 1947، جس شب اس نئی مملکت کے وجود میں آنے کاباضابطہ اعلان ہورہا تھا وہ شب ماہ رمضان کی 27ویں شب تھی جسے لیلۃ القدر یعنی ہزار راتوں سے عظیم رات قرار دیا جاتا ہے۔ ایک اور تائید ایزدی کی جھلک دیکھیں، جس دن قائداعظم محمد علی جناحؒ  کی پیدائش کی تاریخ(۲۵دسمبر) ہوتی ہے اسی سال وہی دن قیام پاکستان کا دن اور وہی دن قائدؒ کی وفات کا دن بھی ہوتا ہے۔ اب ذرا 2015ء کے سال کا جائزہ لیتے ہیں ، آج 25 تاریخ ہے اور جمعۃ ا لمبارک کا دن ہے۔ ذرا پیچھے چلیں 11ستمبر قائد کی وفات کی تاریخ ہے، یہ تاریخ بھی جمعۃ المبارک کو آئی ۔ ذرا ایک ماہ اور پیچھے چلیں 14 اگست، پاکستان کی آزادی کی تاریخ ہے، رواں برس ہم نے جویوم آزادی منایا وہ بھی جمعۃ المبارک کا ہی دن تھا۔ یعنی یوم آزادی ، یوم وفات قائداوریوم پیدائش قائد جب بھی جس سال بھی آئے وہ ایک ہی دن ہوتا ہے۔یہ سلسلہ پچھلے 68 برسوں سے چلا آرہاہے اور آئندہ قیامت تک جاری رہے گا۔ اگلے برس انشاء اللہ ہم 14 اگست ، 11ستمبر اور 25دسمبر کے یہ اہم قومی دن اتوارکومنائیں گے۔ اسے حسین اتفاق قرار دے کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس میں حاکم اعلیٰ کی حکمت اور منشا پوشیدہ ہے۔ قدرت بڑے کاموں کیلئے بڑے آدمیوں کا ہی انتخاب کرتی ہے۔ ذرا سوچئے کہ پاکستان کی تخلیق کیسے حالات میں ہوئی اورکس طرح پنجہ استبداد سے مسلمانوں کی گردنیں آزاد کرائی گئیں۔ایک طرف برطانوی سامراج کی سلطنت تھی جس میں سورج کے غروب ہونے کا تصور ہی نہ تھا یعنی شرق سے غرب تک برطانوی راج تھا جبکہ دوسری طرف ہندو ذہنیت تھی جو ہندوستان پر بلا شرکتِ غیرے حاکمیت کے خواب میں پیچاں و غلطاں تھی۔ ہندو ہندوستان سے اسلام اور مسلمانوں کودیس نکالا دینے کی کوششوں میں مصروف تھے۔ طاقت اور غرورکے ان بتوں کو آپ نے عزمِ مصمم سے پاش پاش کیا۔ آپکا عزم اور اصل طاقت آپ کی اصول پسندی تھی۔مرتے دم تک آپ نے آئین،قانون اور اصولوں کی پاسداری کی ۔ نئی مملکت کیلئے جوراستہ متعین کیا اس پر خود بھی چلتے رہے اور اپنی قوم کوبھی اس پر کاربند رہنے کی تاکید کرتے تھے۔آپ کی اعلیٰ صفات کے اپنے تو اپنے غیر بھی معترف تھے۔ اُس وقت کے امریکی صدر ہیری ٹرومین نے آپ کے بارے میں کہا :
مسٹر جناح کو ایسی عقیدتیں اور وفائیں میسر آئیں جو کم ہی کسی انسان کو میسر آتی ہیں ۔ ہندؤں کے رہنما گاندھی جی نے لوئس فشر کو لکھا۔جناح کو خریدنا، بہکانا یا گمراہ کرنا ممکن نہیں، وہ بہت دلیر انسان ہے۔ ’’ دی ٹائمز ‘‘ نے قائد اعظم محمد علی جناح کے بارے میں لکھا :دنیا کے بہت کم سیاستدانوں نے جناح کی مانند اپنی حکمت عملی کے مطابق حالات کو ڈھالا۔ وہ اپنی زندگی میں ہی ایک عظیم انسان تھے‘‘۔
آج دنیا بھر میں مسیحی برادری عیسی ٰ ؑ کا یوم پیدائش بھی منا رہی ہے۔پاکستان میں بھی کرسیچن برادری اس دن کو مکمل مذہبی آزادی کے ساتھ مناتی ہے۔سرکاری سطح پر خصوصی پیغامات جاری کئے جاتے جبکہ کرسمس کی کئی اہم تقریبات میں پاکستان کے نمایاں سیاسی و مذہبی رہنما بھی شرکت کرتے ہیں۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جہاں ہمیں اسلام مذہبی رواداری سکھاتاہے وہاں ہمیں اپنا آئین اور قائد ؒ کے فرمودات اقلیتوں کے حقوق پر زور دیتے ہیں۔ جس کا واضح ثبوت آپ کی گیارہ اگست ۱۹۴۷ کی تقریر سے ملتا ہے آپ نے کہا: ’’آپ آزاد ہیں، آپ پاکستان کی اس مملکت میں اپنے مندروں میں جانے کے لئے آزاد ہیں۔ اپنی مسجدوں اور دوسری عبادت گاہوں میں جانے کے لئے آزاد ہیں آپ خواہ کسی مذہب، ذات یا عقیدہ سے متعلق ہوں،سب برابری کی بنیاد پر ایک ہی ریاست کے شہری ہیں۔ آپ دیکھیں گے کہ ہندو ہندو نہ رہیں گے اور مسلمان مسلمان نہ رہیں گے۔ مذہبی نقطہ نظر سے نہیں کہ ہر ایک کا ایک ذاتی عقیدہ ہے بلکہ سیاسی نقطۂ نظر سے ریاست کے شہری ہونے کی حیثیت سے۔‘‘ بعض لوگ قائد اعظم کی اس تقریر سیکولرریاست کی بنیاد تصور کرتے ہیں حالانکہ قرآن میں ارشاد رب العزت ہے۔ لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ (دین میں کوئی جبر نہیں)۔ اگر اسلام عقیدے کے معاملے میں جبر کا قائل نہیں تو کوئی دوسرا انسان کس طرح اپنے دین و مذہب کو دیگر انسانوں پر مسلط کر سکتا ہے۔ 25 اکتوبر 1947ء کو کراچی میں رائٹر کے نمائندے سے اپنے انٹرویو میں 11 اگست 1947ء کی اسی تقریر کے حوالے سے مزید روشنی ڈالتے ہوئے آپ نے فرمایا:’’دونوں ریاستوں کی اقلیتوں کو یہ احساس دلایا جانا ضروری ہے کہ ان کی جان و مال اور عزت بالکل محفوظ ہیں اور ان کے ساتھ دونوں حکومتوں کی طرف سے منصفانہ سلوک روا رکھا جائے گا۔ بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ جس وقت تقسیم پر اتفاق رائے ہوا اور دو مملکتیں وجود میں آئیں بھارتی حکومت کی طرف سے پروپگینڈہ شدت سے کیا گیا کہ پاکستان مسلم لیگ کا عارضی جنون ہے جس کی وجہ سے ’’علیحدگی‘‘ عمل میں آئی اور وہ وقت دور نہیں جب پاکستان کو دوبارہ بھارت میں واپس آنا پڑے گا اور یہ جو کچھ ہوا اس کی ذمہ داری دو قومی نظریہ پر عائد ہوتی ہے۔ اس طرح کا پراپیگنڈہ اب ختم ہوجانا چاہئے۔جہاں تک دو قومی نظریہ کا تعلق ہے یہ ایک حقیقت ہے اور ہندوستان کی تقسیم اسی حقیقت کی بنا پر عمل میں آئی۔‘‘
انتقال اقتدار کی تقریب میں جو 14 اگست 1947ء کو منعقد ہوئی لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے جب اس توقع کا اظہار کیا کہ پاکستان اقلیتوں کے ساتھ سلوک روا رکھنے میں اکبر اعظم کی مثال سامنے رکھے گا تو قائداعظمؒ نے جوابی تقریر میں بے ساختہ فرمایا: ’’ شہنشاہِ ہند اکبر اعظم کا غیر مسلموں کے ساتھ حسن سلوک کوئی نئی بات نہیں۔ اس کی ابتدا آج سے تیرہ سو سال پہلے ہمارے نبی اکرمﷺ نے کردی تھی۔ آپ نے محض زبانی نہیں بلکہ عملاً یہود و نصاریٰ پر غلبہ حاصل کرنے کے بعد ان کے ساتھ نہایت اچھا سلوک کیا۔ تحمل و رواداری برتی ا ور ان کے ذاتی عقائد کا احترام کیا۔ تاریخ ایسی انسانیت نواز شاندار اصولوں کی مثالوں سے بھری ہوئی ہے جن کی ہم سب کو تقلید کرنی چاہئے‘‘۔
الغرض دنیا کو یہ بات ملحوظ رکھنی چاہئے کہ وہ پاکستان کے خلاف ایک مخصوص لابی کے منفی پروپیگنڈے کے باعث ایک خاص ماحول بنانے میں کامیاب توہوجاتے ہیں،لیکن اس قوم کے سافٹ امیج کو اس طرح مجروح نہیں کرسکتے کہ اس کا نام نشان مٹ جائے کیونکہ اس قوم کے پاس اسلام کی پر امن تعلیمات اور قائداعظم محمد علی جناحؒ کی پرامن آئیڈیالوجی موجود ہے۔