- الإعلانات -

سعودی ساختہ اسلامی اتحاد اور پاکستان کی شمولیت

کیسے ممکن ہے کہ انسان کوئلوں کی کان میں جائے اور منہ کالا کروائے بغیر واپس آ جائے۔ ترکی اور سعودی عرب سمیت دیگر اسلامی ممالک نے پاکستان سے سبق نہیں سیکھا۔ پاکستان نے جس طرح غیروں کی جنگ کو اپنا بنایا اور لہو لہو ہو گیا، آج تک ہو رہا ہے۔ 70ہزار سے زائد شہریوں کے جنازے اٹھائے، ابھی تک سلسلہ جاری ہے۔ اربوں اس جنگ میں جھونکے جا چکے اور اب تک جھونکے جا رہے ہیں مگر یہ ناسور اب تک وطن عزیز کے رگ و پے میں موجود، کیونکہ ممکن ہی نہیں کہ انسان کوئلوں کی دلالی کرے اور اس کا منہ کالا نہ ہو۔ سعودی عرب اور ترکی کو برادر اسلامی ملک پاکستان کی حالت زار سے سبق سیکھنا چاہیے تھا اور کوئلوں کی دلالی سے خود کو دور رکھنا چاہیے تھا، مگر وہ بھی وہی غلطی کر چکے ہیں جو پاکستان نے کی، اور سزا بھی وہیں پائیں گے جو پاکستان نے پائی، یا شاید اس سے کچھ بڑھ کر، کیونکہ ان کے پاس پاکستان جیسی فوج ہے اور نہ ہی پاکستانیوں جیسے عوام، جو اتنا کچھ سہہ کر بھی عزم و ہمت کا پہاڑ بنے ہوئے ہیں، جنازے اٹھا اٹھا کر جن کے کندھے تھکتے ہی نہیں، شہیدوں کو دفناتے جاتے ہیں اور ان درندوں سے لڑنے کا عزم دہراتے جاتے ہیں۔
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ سعودی عرب اور ترکی نے غلطی کیا کی؟ انہوں نے یہ غلطی کی کہ داعش کے ’’خلاف‘‘ لڑنے کے لیے داعش کے ’’حامیوں‘‘ کے گروپ میں شامل ہو گئے۔ کون نہیں جانتا کہ امریکہ، اسرائیل اور برطانیہ داعش کو تخلیق کرنے والے ہیں۔ یہ بات خود امریکی تحقیقاتی اداروں کی رپورٹس سے ثابت ہو چکی ہے، برطانیہ کی عدالت خود اپنے ایک فیصلے میں برطانوی حکومت کی طرف سے داعش کی سرپرستی کا اعتراف کر چکی ہے، اس فیصلے کا ذکر ہم اپنے اسی کالم میں تفصیل کے ساتھ کر چکے ہیں۔اس کے بعد کیا شک رہ جاتا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ خود داعش کو پیدا کرنے والے ہیں، اس خونخوار درندے کو پیدا کرنے کا مقصد شام کے صدر بشارالاسد کو حکومت سے ہٹا کر اپنی مرضی کی ’’جمہوری‘‘ حکومت قائم کرنا ہے۔ تو وہ کیسے داعش کے مخالف ہو سکتے ہیں اور کیسے اسے ختم کرنے کے لیے اقدامات کر سکتے ہیں۔ ترکی اور سعودی عرب نے یہ کیوں نہ سوچا کہ امریکہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے داعش کے خلاف نام نہاد جنگ لڑ رہا ہے لیکن داعش روز بروز بڑھتی چلی گئی۔ روس کے میدان میں آنے پر داعش اور ساتھ ہی ساتھ امریکہ اور اس کے حواریوں کی تکلیف دنیا نے محسوس کی۔ اگر امریکہ داعش کا مخالف ہوتا تو جو کام روس نے تنہاء محدود کارروائیوں کے ساتھ دو مہینے میں کر دکھایا وہ امریکہ اپنے تمام حواریوں کے ساتھ مل کر گزشتہ ڈیڑھ برس میں کیونکہ نہ کر سکا، بلکہ الٹا اس سارے عرصے میں داعش مضبوط تر ہوتی رہی۔افغانستان کی طرح ایک روز امریکہ بہادر شام سے بھی رخصت ہو جائے گا اور یہی داعش ترکی اور سعودی عرب کے گلے کی ہڈی بن جائے گی، بالکل اسی طرح جیسے طالبان پاکستان کے گلے کی ہڈی بنے ہوئے ہیں۔
ترکی میں آج بھی ایک بم دھماکہ ہو گیا ہے، استنبول ایئرپورٹ پر۔ اور اسی دھماکے سے آج اس تحریر کی تحریک ملی۔ اس سے قبل بھی ترکی میں کئی دھماکے ہو چکے ہیں، اور ان میں بتدریج تیزی آ رہی ہے۔ یمن کی صورتحال کی وجہ سے سعودی عرب میں بھی کئی دھماکے ہو چکے ہیں اور اب داعش نے بھی سعودی عرب کے خلاف باقاعدہ اعلان جنگ کر دیا ہے اور اس کی وجہ وہ اتحاد ہے جو سعودی عرب نے 34اسلامی ممالک کو شامل کر کے بنایاہے اور اس اتحاد کو امریکہ کی پشت پناہی حاصل ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ سعودی عرب نے اس اتحاد میں ازخود ہی پاکستان کو بھی شامل کر رکھا ہے اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ پاکستانی حکومت نے اس اتحاد اور اس میں اپنی شمولیت سے لاعلمی کا اظہار تو کر دیا ہے مگر دو ٹوک انداز میں یہ نہیں کہہ پائی کہ ہم اس اتحاد میں شامل نہیں ہوں گے۔ ہم رونا رو رہے ہیں ترکی اور سعودی عرب کا، کہ اس نے پاکستان سے سبق نہیں سیکھا لیکن حد تو یہ ہے کہ پاکستان نے خود ابھی تک سبق نہیں سیکھا۔ پہلا ناسور تاحال سوہانِ جاں بنا ہوا ہے اور اب ہم دوسرے عفریت کو للکارنے جا رہے ہیں، سعودی عرب اور ترکی کی محبت میں۔حکمرانوں کو سوچنا چاہیے کہ ان کی غلط پالیسیوں کے سبب پاک فوج اور پاکستانی عوام بہت قربانیاں دے چکے ہیں۔ اب ایسی کوئی غلطی مت کریں۔ ابھی ہم پہلے سے مسلط عفریتوں سے تو لڑ لیں، ان سے نجات تو پالیں۔ ابھی سے انہیں کیا جلدی پڑی ہے نیا عذاب سر پر مسلط کرنے کی۔کاروبار ان حکمرانوں کے ہیں، سعودی عرب میں، ہم عوام کے نہیں، مگران کی ایسی کاروباری محبتوں اور مفاہمتوں کا عذاب پہلے کی طرح عوام ہی کو سہنا پڑے گا۔ خدارا اب بس کریں، سعودی عرب کو دوٹوک انداز میں جواب دیں کہ ہم آپ کے اس اتحاد میں شامل نہیں ہو رہے۔ پاکستانی اپنے پیاروں کے جنازے اٹھا اٹھا کر ہلکان ہو چکے ہیں۔ آپ کو اپنا کاروبار عزیز ہے تو حکومت چھوڑیں اور سعودی عرب جا کر اپنا کاروبار سنبھالیں، پاکستانیوں کو اس نئے عذاب میں مبتلا نہ کریں۔