- الإعلانات -

حرم کی پاسبانی اورمسلم امہ کااتحاد

1968ء میں ہونیوالی عرب اسرائیل جنگ کے دوران مسلم امہ کے اتحادکے بارے میں پہلی بار سنجیدگی سے سوچاگیا کہ مسلم ممالک ایک ہوکرغیرمسلم طاقتوں کیخلاف اپنے اتحاد تشکیل دیں 1974ء میں لاہور میں ہونیوالی اسلامی سربراہی کانفرنس میں بھی اس بات پرہی زوررہا اور جب کانفرنس کے اختتام پراعلامیہ جاری کیاگیاتواس کے واضح نکات یہ تھے کہ جدہ میں ایک اسلامی مشترکہ بنک قائم کیاجائے اورمسلم ممالک آپس میں ایک مشترکہ ویزہ سسٹم رائج کریں اورآخری نکتہ مسلم ممالک کے مشترکہ دفاع کیلئے ایک اسلامی فورس کی تشکیل تھا۔ اس کانفرنس کے روح رواں ذوالفقارعلی بھٹو ،شاہ فیصل شہید اورکرنل قذافی تھے جو امت مسلمہ کے اتحاد کے زبردست داعی اورخواہش مند تھے ۔ اسلامی سربراہی کانفرنس کو مانیٹرکرنیوالے یورپی ممالک نے اس اہم سربراہی کانفرنس کے فیصلوں کواپنانے کافیصلہ کیا اوراس کے نتیجے میں مشترکہ کرنسی یورو ،مشترکہ ویزا شن جن اورایک مشترکہ دفاعی فورس وجود میں آئی جبکہ اسلامی سربراہی کانفرنس کاانعقاد کرانیوالے سعودی عرب کے بادشاہ شاہ فیصل کو ان کے اپنے ایک عزیز کے ہاتھوں شہید کرالیاگیا جبکہ ذوالفقارعلی بھٹو کوبھی المناک انجام سے دوچار ہوناپڑا۔مسلم دشمن طاقتوں نے عراق کے صدرصدام اورلیبیاکے سربراہ کرنل قذافی کوبھی ایک خوفناک انجام سے دوچار کیا۔ان تمام باتوں کے باوجود مسلم امہ کااتحاد کاخواب بکھرا نہیں۔ سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز آج اسلامی دنیا کے بلاشبہ متفقہ قائد کے طورپرابھرے ہیں انہوں نے سعودی عرب میں عنان اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد مسلم امہ کودرپیش نازک مسائل کوبھانپ لیاتھا۔چنانچہ انہوں نے مسلم امہ کے اتحاد کیلئے روز اول سے کوششوں شروع کردیں۔سعودی عرب کاکردار روزاول سے قائدانہ رہا ہے کیونکہ اسے یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ حرمین شریفین کے پاسان ہیں اوریہی اعزاز انہیں باقی مسلم دنیا سے منفردکرتا ہے ۔اقتدارسنبھالنے کے بعد فوراً بعد شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے مسلم دنیا کے اہم سربراہان کوریاض میں دعوت دی اور مسلم امہ کو درپیش مسائل ان کے سامنے رکھتے ہوئے ایک مشترکہ دفاعی فورس کی تشکیل کی تجویزبھی سامنے رکھی جسے تمام مسلمان ممالک نے نہایت خوش دلی سے سراہا۔ اس وقت سعودی عرب کی قیادت میں 34اسلامی ممالک کااتحاد عمل میں آچکا ہے اورانشاء اللہ وہ وقت دورنہیں کہ جب اسلامی ممالک کے مشترکہ دفاع کیلئے بنائی جانیوالی مسلم فورس کاخواب بھی شرمندہ تعبیرہوجائیگا۔دراصل مسلم اتحادکافیصلہ سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی دوراندیشی کانتیجہ ہے کیونکہ جس طرح دہشتگردی کاعفریت مسلم ممالک کو اپنی لپیٹ میں لیتاچلاآرہاتھا اس کی روک تھام کیلئے اس اتحاد کاتشکیل دیاجاناازحد ضروری تھا۔دہشتگرد تنظیم القاعدہ کے بعداچانک داعش کاسراٹھانا ایک لمحہ فکریہ ہے کیونکہ داعش کے پاس جوہتھیاربرآمدہوئے ہیں وہ جدید ترین ممالک کے مہیاکردہ ہیں ۔ہم کسی حد تک یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ داعش کے پیچھے کسی مسلم دشمن طاقت کاہاتھ ہے اسی سازش کو بے نقاب کرنے اوراس پرقابوپانے کیلئے شاہ عبدالعزیز نے بہت پہلے یہ بات بھانپ لی تھی اوراس کیلئے انہوں نے اسلامی اتحاد کانظریہ دیا۔شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو اقتدارسنبھالنے کے فوراً بعد یمن کے ساتھ نبردآزماہوناپڑاکیونکہ یمن کے اندرجاری خانہ جنگی میں ایرانی مداخلت کے ثبوت کھل کرسامنے آچکے تھے تہران میں بیٹھے ایرانی جرنیل اس حد تک آگے بڑھ چکے تھے کہ انہوں نے مکہ معظمہ اورروضہ رسولﷺ پرقبضہ کرنے جیسے بیانات دینا شروع کردیئے تھے اب ظاہرہے کہ ایران کی پشت پناہی بھی کوئی ایسا ملک کررہا ہے جس کواسلامی مفادات عزیزنہیں اوراس کی خواہش ہے کہ اگر سعودی عرب کے امن کو تہہ وبالاکردیاجائے توعالم اسلام میں خلفشاربرپاکیاجاسکتاہے۔میں اس بات کاکریڈٹ بھی سعودی بادشاہ شاہ سلمان بن عبدالعزیزکودیناچاہوں گا کہ جنہوں نے نہ صرف اپنے ملک کے اندر بلکہ پوری اسلامی دنیا میں امن کے فروغ کیلئے اسلامی اتحاد کی داغ بیل ڈالی لیکن یہاں پر افسوس اس امر کاہے کہ پاکستان کے اندرکچھ سیاسی عناصرنے اس عالم اسلامی اتحاد کوبھی متنازعہ بنانے کی کوشش کی۔ پاکستان کی ایک بڑی سیاسی جماعت تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے اس اتحاد کی تشکیل کی مخالفت کی اورمطالبہ کیاکہ پاکستان اس میں شامل نہ ہو اس کے علاوہ پارلیمنٹ کے اندر بھی سعودی عرب جوہمارامحسن ملک ہے کوبھی تنقیدکانشانہ بنایاگیا۔افسوس اس بات پر ہے کہ پاکستان کی جغرافیائی اورنظریاتی سرحدوں کومضبوط بنانے میں جوکردارسعودی عرب کے حکمرانوں اورعوام نے ادا کیا ہے وہ کسی اورملک نے نہیں کیا سعودی عرب پاکستان کی معاشی ضروریات ایک بڑے بھائی کے طورپرپورا کرتاہے اورپاکستان کے دفاعی نظام کومضبوط بنانے کیلئے اپنے پیٹ پرپتھرباندھ کرہماری ضروریات کو پوراکرتاہے۔مگرپھربھی ایک طبقہ ہے جو سعودی عرب کو برابھلاکہنے میں مصروف ہے حالانکہ پاکستانیوں کے دلوں میں جوسعودی عرب کیلئے عزت واحترام پایاجاتاہے اس کی مثال نہیں ملتی ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک مخصوص طبقہ جوکسی کاآلہ کار بن کرسعودی عرب کیخلاف ہرزہ سرائی میں مصروف ہے انہیں یہ بات باورکرانی چاہیے کہ یہ اتحاد صرف سعودی عرب کیلئے نہیں بلکہ یہ پورے عالم اسلام اوربالخصوص حرم کی پاسبانی کیلئے ہے جس کاخواب شاعرمشرق حضرت علامہ اقبالؒ نے دیکھا تھا
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے
نیل کے ساحل سے لیکرتابخاک کاشغر