- الإعلانات -

وارث کون۔۔۔؟؟؟

بینظیربھٹو کی آٹھویں برسی کے موقع پر پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے بڑے جوشیلے انداز میں تقریر کرتے ہوئے وفاق کو آڑے ہاتھوں لیا اور انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے نام پر صوبوں کیخلاف سازش ہورہی ہے اس کی نگرانی کیلئے پارلیمنٹ کی نیشنل سیکورٹی کمیٹی بنائی جائے ۔پھر انہوں نے ایک بات اور بھی اہم کہی کہ سرکاری اداروں کو ماں کے زیور کی طرح سمجھ کر بیچاجارہاہے ہم یہ نہیں ہونے دیں گے ۔اب دما دم مست قلندر ہوگا،عوام کا معاشی استحصال بھی نہیں ہونے دیا جائیگا۔بلاول بھٹو کی ان باتوں میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ یہ حقیقت پسندانہ ہیں مگر جہاں تک نیشنل ایکشن پلان کا تعلق ہے تو اس کے ذریعے دہشتگردوں کی بیخ کنی کی گئی ہے اور کی جارہی ہے ۔پہلے ہی اس کے حوالے سے پارلیمنٹ میں معاملات موجود ہیں جس کی وضاحت وزیراطلاعات پرویز رشید نے بھی فی الفور کی ۔جہاں تک بلاول کا یہ کہنا کہ اداروں کو بیچا جارہا ہے ۔تو یہ بات ان کی خاصی حد تک درست ہے کہ جو بھی نفع بخش ادارے ہیں ان کی نجکاری نہ کی جائے ۔دما دم مست قلندر کی بات اورعوام کے معاشی استحصال کی بات کو لیا جائے تو یہ تو ہر دور میں ہی ظلم ہوتا رہا ہے ۔پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں بھی عوام کون سے سکھ میں تھی ۔اس میں تو کبھی بھی پیپلزپارٹی نے دما دم مست قلندر کی صدا بلند نہیں کی ۔اس دور میں بھی عوام اسی طرح کسمپرسی کی زندگی بسر کرتی رہی اورپیپلزپارٹی جب بھی آئی اس نے ہمیشہ روٹی،کپڑے اور مکان کا نعرہ بلند کیامگر آج حالت یہ ہے کہ پیپلزپارٹی صرف گڑھی خدا بخش تک ہی محدود ہوکر رہ گئی ہے ۔آخراس کی اپنی کیا پہچان ہے ،ذوالفقار علی بھٹو ایک لیڈر تھا جو چلا گیا ،بینظیر آئی وہ بھی چلی گئی،اب پیپلزپارٹی میں کیا بچا ہے ۔اصل وارث کون ہے یہ جھگڑا تو ابھی باقی ہے ۔پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرین کی صدارت کیلئے زرداری کے حق میں قرارداد منظور کرلی گئی ہے ۔جبکہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ہیں یہ تو مصداق اس کے ہے کہ ”اندھا بانٹے ریوڑیاں اپنوں اپنوں کو “صدر بھی خود،چیئرمین بھی خود ،باقی تو سارے مزارعے ہی ہیں ۔زرداری صاحب باہر بیٹھے ہوئے ہیں پہلے بھی جب بینظیر کی شہادت کا وقوعہ رونما ہوا اس وقت بھی موصوف باہر تھے پھر جب یہ سانحہ مکمل ہوگیا تو وہ درد لیکر پاکستان میں آگئے ۔عوام چونکہ ہماری جذباتی ہے اس لیے پیپلزپارٹی کو حکومت کا موقع ملا اس دور میں کون کون سے کیس سامنے نہیں آئے ۔پیپلزپارٹی کے رہنماﺅں کو مختلف القابات ملتے رہے اور یہ خطابات کرپشن کے حوالے سے تھے مگر حکومت چلتی رہی ،عوام مرتی رہی ،حکمران عیش کرتے رہے ،اب جبکہ پیپلزپارٹی سندھ سے بھی ختم ہوتی جارہی ہے تو پھر چراغ سحری کی طرح اس کی رہنما پھڑک رہے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح پھر سے اس میں نئی روح پھونک دی جائے ۔کبھی رینجرز کے اختیارات کا معاملہ اٹھاتے ہیں تو کبھی کہتے ہیں کہ وفاق نے سندھ پر حملہ کردیا،کبھی کہتے ہیں کہ ایک چوہدری سندھ پر قبضہ کرنا چاہتا ہے ،سائیں کہتا ہے کہ ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے ،ایک ڈاکٹر عاصم کیا شکنجے میں پھنسا ہے کہ سب کی نیندیں حرام ہوگئی ہیں ہر کوئی اس کے حق میں بیان داغنے کے چکر میں ہے کیونکہ یہ ڈانڈے کہیں دور جاکر ملتے ہیں اور کچھ ایسے لوگ اس کے چکر میں پھنسیں گے جن کے مقدر میں شاید پھر سے قید وبند آجائے اسی وجہ سے بار بار مطالبات کیے جارہے ہیں کہ ڈاکٹر عاصم کو چھوڑ دیا جائے جبکہ ڈاکٹر عاصم یہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ قصور کسی کا ہے ،غلطی کسی ہے ،سزا میں بھگت رہا ہوں،پکڑا مجھے گیا ہے ،یہ بیانات آخرکار کس چیز کی غمازی کرتے ہیں ۔بہت زیادہ تڑپنے اور دہکنے کی ضرورت نہیں وقت بہت قریب آتاجارہا ہے ۔دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائیگا جب حکومت نے ایک چیز طے کرلی ہے کہ جو امن وامان قائم کیا گیا ہے اس کو کسی طرح بھی نہیں کھویا جاسکتا اور پھر رینجرز وفا ق کا سبجیکٹ ہے ۔قبضے اورچڑھائی کی باتیں تو کرنا پھر بعید ازخیال ہیں یہاں کوئی صوبائیت نہیں ہونا چاہیے ہم سب ایک اکائی ہیں ،ہمارا وطن پاکستان ہے ،پھر کسی صوبے کی کسی صوبے پر کیسی چڑھائی ۔سب کو ملکر اس ملک کو استحکام بخشنا ہے اور اس کے دوام کیلئے ہمیں قربانیاں دینی ہیں ،پاک فوج جو آپریشن ضرب عضب کے ذریعے امن وامان قائم کررہی ہے اس کو خراج تحسین پیش کرنا چاہیے نہ کہ اس کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی جائیں اس سے کچھ بھی حاصل وصول نہیں ہوگا۔کل تک پیپلزپارٹی کے تیور کچھ اور تھے ۔شنید تھی کہ رینجرز کے معاملات کے حوالے سے پیپلزپارٹی عدالت میں جائیگی لیکن پھر اچانک فیصلہ یہ ہوا کہ وفاق کو خط لکھا جائیگا ۔خط لکھنے میں کوئی اعتراض نہیں لیکن اس میں اداروں کی ساکھ کا خیال رکھنا انتہائی ضروری ہے۔کیونکہ کچھ ایسے ادارے ہیں جو اس ملک اور وطن کے قیام کیلئے اشد ضروری ہیں اور ان پر انگشت نمائی کرنے سے ملکی سرحدوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے ۔لہذا کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے سوچ لینا چاہیے کہ اس کے نتائج کیا نکلیں گے ۔اگر کسی نے کرپشن کی ہے ،دہشتگردوں کا معاونت کار ثابت ہوا ہے ،سہولت کاروں کا سہولت کار بنا ہے تو اسے قرار واقعی سزا ضرور ملنا چاہیے ۔