- الإعلانات -

حضور اکرم ﷺ بحیثیت قانون ساز

آپ جانتے ہیں کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے قانون کی تعلیم لنکن ان (Lincoln’s Inn)سے حاصل کی۔ایک مرتبہ انھوں نے بتایا کہ میں نے لنکن ان (Lincoln’s Inn)میں داخلہ اس لیے لیا تھا کیونکہ وہاں دنیا کے عظیم قانون دانوں کی فہرست میں نبی کریم ﷺ کانام سب سے اوپر لکھا ہے۔اللہ رب العزت قرآن مجید فرقان حمید سورت النجم میں فرماتے ہیں کہ "یہ رسول ﷺ اپنی خواہش سے کچھ نہیں کہتا بلکہ وہی پیش کرتا ہے جو اس کو وحی ہوتی ہے۔”رسول اللہ ﷺ نے جو کچھ کہا اور کیا، وہ خالصتاً اللہ رب العزت کی طرف سے ہی تھا۔اس لئے اس کی اطاعت قیامت تک سب پرفرض ہے۔انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین میں انسانی کمزوری عاری آجاتی ہے لیکن رسول اللہ کی قانون سازی کی بنیاد وحی اور الہام پررکھی گئی ہے اس لئے اس کو استحکام اور دوام حاصل ہے۔ انسانی تجربات اورخیالات میں خامی پائی جاسکتی ہے لیکن رسول اللہ ﷺ کے بنائے ہوئے قوانین ہر نقص اور خامی سے مبرا ہیں۔رسول اللہ ﷺ کی قانون سازی میں انسانی فطرت اور طبعی حدود کو نظر انداز نہیں کیا گیا ہے۔اس میں نہ بے جا سختی اور نہ زیادہ نرمی رکھی گئی ہے۔اس میں توازن اور اعتدال ہے۔اللہ رب العزت سورۃ البقرہ میں فرماتے ہیں کہ”اللہ تعالیٰ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے ، تنگی اور دشواری نہیں چاہتا ہے۔اسی طرح اللہ رب العزت سورۃ المائدہ میں فرماتے ہیں کہ”اللہ تعالیٰ نہیں چاہتا ہے کہ تمہیں کسی دشواری میں مبتلا کرے بلکہ اس کا اصل مقصد تمہیں پاک و صاف کرنا ہے۔”اللہ تعالی سورۃ البقرہ میں فرماتے ہیں کہ "اللہ تعالیٰ کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔” آقاﷺ کارشاد مبارک ہے کہ” دین آسان ہے لیکن جو شخص دین میں مبالغہ کرتا ہے اس پر وہ غالب آجاتا ہے۔(بخاری شریف)۔ایک اور حدیث مبارکہ ہے کہ ” لوگوں کیلئے آسانی پیدا کرنا، انہیں مشکل میں نہ ڈالنا، انہیں رغبیت دلانا، نفرت نہ دلانا، موافقت کو ابھارنا، اختلاف نہ ڈالنا۔ ” (مسلم، بخاری)آقاﷺ کے بنائے ہوئے قوانین متعدد ممالک میں رائج رہے ہیں، ان ممالک کے آب و ہوا، معاشرتی اور تہذیبی فرق ہونے کے باجود کوئی ایسا واقعہ پیش نہیں ہوا جس سے ان کو اس قانون میں ترمیم کی ضرورت محسوس ہوئی ہو۔ رسول اللہ ﷺ کے بنائے ہوئے قوانین میں برابری اور مساوات ہے۔کالا اور سفید، امیر اور غریب اور عربی اور عجمی سب برابر ہیں۔ اسلام میں ذلت اور حقارت کی قطعی کوئی گنجائش ہی موجود نہیں ہے۔انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین کو اس وقت قانونی حیثیت حاصل ہوتی ہے جب اس کو کوئی اسمبلی ، سینٹ یا عدالت یاکوئی حاکم ، صدر یا بادشاہ منظوری دے تب اس کو قانونی حیثیت حاصل ہوتی ہے جبکہ حضور اکرم ﷺ کے بنائے ہوئے قوانین کو تسلیم کرنے کیلئے کسی کے محتاج نہیں ہیں۔انہیں ہر حال میں قانون کی حیثیت حاصل ہے۔رسول اللہ ﷺ کے بنائے ہوئے قوانین سب مسلمان کے لئے قابل احترام ہیں ۔ان قوانین کے نفاذ سے معاشرے میں امن و سکون کی فضاپیدا ہوتی ہے۔ ظلم اور زیادتی سے روکتا ہے۔ان قوانین سے انسانوں کی بہترین تربیت ہوجاتی ہے۔ جس سے جسمانی اور ذہنی صلاحیتوں کی نشوونما ہوتی ہے۔رسول اللہ ﷺ کے بنائے قوانین ایک فرقے، ایک قوم ، ایک نسل، یاایک خطے کے لئے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لئے ہیں۔آقا ﷺ کے بنائے ہوئے فوجداری قوانین بھی بے نظیر ہیں ۔ان میں چند یہ ہیں ۔*ایک بے قصور کو سزا دینے کی نسبت نو(9)مجرموں کو بری کردینا بہتر ہے۔*قصاص اور دیت میں سب مسلمان برابر ہیں۔*جوشخص اللہ تعالیٰ کی مقررہ کردہ سزاؤں میں نرمی برتنے کی سفارش کرتا ہے وہ گویا اللہ تعالیٰ کی مخالفت کرتا ہے۔*اگر کسی حاملہ خاتون کو مار ڈالاجائے تو اس رحم میں مرنے والے بچے کا بھی قصاص لیا جائے گا۔* کوئی قاتل اپنے مقتول کا وارث نہیں بن سکتا۔* کافر مسلمان کا وارث نہیں بن سکتا ہے اور نہ مسلمان کسی کافر کا وارث بن سکتا ہے۔*کسی وارث کے حق میں وصیت جائز نہیں ۔*بیوہ کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک وہ اس کی اجازت نہ دے اور کنواری کا نکاح اس وقت کا نہ کیا جائے جب تک اس کی رضا مندی نہ لے لی جائے۔آقا ﷺ نے خرید و فروخت کے بارے میں بھی واضح قوانین بنائے ہیں۔*آپﷺ نے خرید و فروخت میں نقصان اور دھوکے سے بچنے کیلئے پکنے سے پہلے پھلوں کی فروخت کو ممنوع قرار دیا ہے۔*اگر کوئی شخص اپنا مکان یا زمین فروخت کرنا چاہتا ہے تو سب سے پہلے اپنے پڑوسی کا حق ہے کہ وہ یہ مکان یا زمین لے۔اس قانون کا مقصد یہ ہے کہ کوئی ناپسندیدہ شخص ایسی جگہ نہ لے جس سے پڑوسیوں کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑے۔*حضورﷺ نے فرمایا کہ فروخت کی جانے والی چیز فروخت کے وقت موجود ہونی چاہیے تاکہ خریدار اس کو دیکھ سکے۔* معاہدے میں کوئی ایسی شق نہ ہو جس سے ایک فریق کے لئے فائدہ ہو اور دوسرے کیلئے سراسرنقصان ہو۔قارئین کرام! حضور اکرم ﷺ کے بنائے ہوئے قوانین قیامت تک ہر انسان ، ہر نسل ،ہر قوم ، ہر ملک اور ہر خطے بلکہ پوری دنیا کے لئے ہیں۔ان قوانین پر عمل کرنے سے انسان فلاح اور کامیابی حاصل کرتا ہے۔اس لئے بحیثیت مسلمان ہم سب کو چاہیے کہ حضوراکرم ﷺ کے بنائے ہوئے قوانین پر من وعن عمل کریں اسی میں ہماری کامیابی ہے۔