- الإعلانات -

یونیسیف کی نیپالی بچوں کے بارے تشویش

رواں سال بچوں پر بھاری رہا۔ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کی ایک رپورٹ کے مطابق 2015 میں ایک کروڑ ساٹھ لاکھ سے زائد بچے جنگی علاقوں میں پیدا ہوئے ہیں۔ بچوں کیلئے کام کرنے والی اس تنظیم کے مطابق دنیا بھر میں پیدا ہونے والے ہر آٹھ بچوں میں سے ایک بچہ ایسے علاقوں میں پیدا ہو رہا ہے جہاں حالات معمول نہیں ہیں۔اس بات کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ان میں زیادہ تر بچے پانچ سال تک زندہ بھی نہ رہ پائیں گے جبکہ جو زندہ رہ جائیں گے وہ دباؤ اور ڈپریشن جیسی بیماریوں کا شکار بن جائیں گے۔ بہت سارے بچے اپنی زندگی انتہائی سخت حالات میں شروع کرتے ہیں ۔قدرتی آفات سے متاثرہ بچوں کے بارے یونیسیف ایک کی اور رپورٹ کے مطابق رواں سال ماہ اپریل میں نیپال میں زلزلے سے دس لاکھ سے زائد بچے متا ثرہوئے تھے مگر اب ان بچوں کو ایک نئی مصیبت کا سامنا ہے ۔ اقوام متحدہ کے بچوں کے عالمی ادارے یونیسیف نے بھارت کو تنبیہ کی ہے کہ نیپال میں موسم سرما کے آتے ہی ایندھن، خوراک، ادویات اور ویکسینز کی قلت سے 30 لاکھ سے زائد کم عمر بچوں کو ہلاکت یا بیماریوں کا خطرہ لاحق ہے۔نیپال کے جنوبی علاقے میں دو مہینوں سے جاری سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے صورتحال بہت خراب ہو گئی ہے۔ادارے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ ’میں نے نیپال کے اپنے حالیہ دورے میں دیکھا کہ زلزلہ متاثرین انتہائی بری حالت میں زندگی گزار رہے تھے تو اب انہیں ایک اور آفت کا سامنا ہے۔شدید سردی، ناکافی خوارک اور سردی سے بچنے کیلئے محفوظ مقام میسر نہ ہونا تشویش ناک ہے۔اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ نیپال کی مہیسی اقلیت نے بھارت سے ملحقہ سرحد کو گزشتہ دو ماہ سے بند کر رکھا ہے جسکی وجہ سے خوراک اور ادویات کی کمی ہو گئی ہے ۔ نیپال میں گزشتہ دنوں دارالحکومت کھٹمنڈو میں سکول کے ہزاروں بچوں نے انسانی زنجیر بنا کر مہیسی لسانی اقلیت کے خلاف مظاہرہ بھی کیا۔ مظاہرے میں بچوں نے ’سرحدی بندش ختم کرو، تعلیم ہمارا حق ہے، ہم بھارت کے سامنے نہیں جھکیں گے‘ کے نعرے لگائے گئے۔ مہیسی اقلیت کے بارے میں نیپالی حکومت کا کہنا ہے بھارت ان کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ چونکہ نیپال میں 60 فیصد ادویات کے علاوہ تیل، خوراک اور دیگر اشیا بھی بھارت ہی سے آتی ہیں لہذا سرحد کی بندش سے غذائی قلت کا شدید خطرہ ہے۔ نیپال نے حال ہی میں نیا آئین منظور کیا تو اس پر بھارت نے ناپسندیدگی کا اظہارکیا تھا جسکے بعدبھارت سے ملحقہ جنوبی علاقوں میں احتجاج شروع ہو گیا اور انڈیا نیپال کی سرحد پر ضروریات زندگی سے لدے ٹرک پھنس گئے۔مہیسی اقلیت کی طرف سے سرحد کی ناکہ بندی کو بھارتی سازش سمجھا جا رہا ہے جسکے رد عمل میں نیپالی ٹی وی کیبل آپریٹرز نے بھی احتجاجاً 42 بھارتی چینل بند کر دیے ہیں۔ ٹی وی چینل بند کرنے کا قدم نیپال میں انڈین ٹی وی چینلز اور فلموں کیخلاف سابق ماؤسٹ پارٹی کی مہم چلانے کے بعد اٹھایا گیا۔ نیپال کیبل ٹی وی ایسوسی ایشن کے صدر نے بی بی سی نیپال کو بتایا کہ یہ بلیک آؤٹ غیر معینہ مدت کیلئے ہے۔اسی طرح دارالحکومت کھٹمنڈو کے ایک سینما گھر نے بھی بھارتی فلمیں دکھانا بند کر دی ہیں۔جہاں بھارتی پالیسیوں پر تنقید اور احتجاج ہورہے ہیں وہاں نیپالی وزیر اعظم بھی ان پر برس پڑے اور نیپال کے اندرونی معاملات میں آئندہ مداخلت نہ کرنے کی وارننگ دی ہے۔ادھر نیپالی پولیس نے بھارت کو جانیوا لے سرحدی راستے پر دھرنے پر بیٹھے مظاہرین کیخلاف کریک ڈاؤن کرکے راستے کھول دیئے تو بھارت نے الزام لگایا کہ پولیس کی فائرنگ سے سرحد پر ان کا شہری ہلاک ہوگیا ہے، مودی نے رعب ڈالنے کیلئے اپنے نیپالی ہم منصب کو فون کیا تو آگے سے توقع سے ہٹ کر نیپالی وزیر اعظم نے وارننگ دی کہ آئندہ بھارت نیپال کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرے۔نیپال کا محاصرہ ہندوتوا کا تسلسل ہے۔ دراصل یہ بیمارذہنیت کی لمبی کہانی ہے۔تقسیم ہند کے وقت جب برطانیہ برصغیرنکلا تو دو ممالک پاکستان اور بھارت نے جنم لیا، کئی دیگرریاستیں بھی وجود میں آئیں۔ شاطر انگریز سامراج نے بعض ایسے تنازعات بھی ادھورے چھوڑ ے کہ جن کا بھارت نے فائدہ اُٹھاتے ہوئے قبضہ جمالیا۔ پاکستان اور چین کے متعددعلاقے جن میں اسکائی چن، ارونا چل پردیش، جموں اینڈ کشمیر، سیاچن گلیشئر، سالتارو، سرکریک شامل ہیں پر بھارت نے قبضہ جما رکھا ہے۔ صرف یہی نہیں مالدیپ، سری لنکا، برما، نیپال اور بنگلہ دیش کے ساتھ بھی تنازعات چل رہے ہیں، جن میں کالا پانی، نیپالی پٹی، منی کوئے، کچا چٹھایو، جنوبی تل پتی جزیرہ، بنگالی انکلیو اور دیگر شامل ہیں۔ان متنازعہ علاقوں کی وجہ سے بھارت پاکستان ، چین اور سری لنکا کے ساتھ جنگیں بھی کرچکا ہے۔مالدیپ بھی اپنے پڑوسی بھارت کی مداخلت کا شکار ہے، مالدیپ کے صدر عبداللہ یامین نے بھارت سے نہ صرف اس کی شکایت کی ہے بلکہ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کو اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے پرسخت انتباہ بھی کرچکے ہیں۔ پڑوسی ملکوں میں مداخلت اور وہاں تنازعات کو ہوا دینا بھارت کا شیوہ رہا ہے ۔