- الإعلانات -

روس بھارت دفاعی تعاون مگر کس قیمت پر

۲۵دسمبر کو بھارتی وزیراعظم نواز شریف کو ملنے لاہور تشریف لائے ،ان کا غیر اعلانیہ لاہورآنا دنیا بھر کے میڈیا کیلئے بریکنگ نیوز بنا۔دورے کو اچانک دورہ کہا جا رہا ہے،لیکن باخبر حلقے اسے مسترد کررہے ہیں،انکاکہنا ہے کہ یہ میڈیا کیلئے ضرور سرپرائز تھا تاہم پاکستان میں بھارتی سفارتی حلقے الرٹ ہوچکے تھے۔بھارتی وزیراعظم مودی افغانستان سے سیدھے پاکستان تشریف لے آئے۔افغان دورہ کے دوران انہوں نے افغان پارلیمنٹ کی نئی بلڈنگ کا افتتاح کیا،جسے بھارتی حکومت نے تعمیرکروایا ہے۔افغان پارلیمنٹ کی نئی عمارت کی تعمیر کیلئے بھارت نے نو کروڑ ڈالر خرچ کئے ،مودی کا بطور وزیراعظم یہ پہلا دورہ افغانستان تھا۔اس موقع پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے خطاب میں کہا کہ افغانستان میں امن، ترقی اور استحکام کے لیے ضروری ہے کہ پڑوسی ممالک تعاون کریں۔ انہوں نے کسی ملک کا نام لیے بغیر کہا کہ اس ضمن میں ضروری ہے کہ دہشت گردی افغان سرحدوں کے اندر نہ آنے پائے اور دہشت گردوں کی پناہ گاہیں تباہ کی جائیں۔ انہوں نے افغان سکیورٹی دستوں کے مارے جانے والے اہلکاروں کے بچوں کیلئے بھارت میں تعلیمی وظیفوں کا اعلان بھی کیا۔ نریندرامودی کابل دورے سے ایک روز قبل روس کے دورے پر تھے جہاں انہوں نے روس 16 سمجھوتوں پر دستخط کئے۔معاہدے کے تحت روسی ہیلی کاپٹر کاموف 226 بھارت میں تیار کیا جائے گا۔ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ براہموس میزائل بنانے میں بھارت کے ساتھ کامیاب تعاون رہا ہے، روس بھارت میں 6 نئے جوہری پاور پلانٹس لگائے گا۔انہوں نے بھارت کو یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ وہ سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کے لئے اس کی حمایت کرے گا۔ ادھر بھارتی دفاعی فرم انڈیا ریلائنس ڈیفنس نے ائر ڈیفنس سسٹم تیار کرنے والی روسی فرم الماز آنتے کے ساتھ مینوفیکچرنگ اور مینٹیننس شعبوں میں شراکت داری کے لئے 6 ارب ڈالر کے معاہدے پر دستخط کئے۔دونوں فرموں کی ائر ڈیفنس سسٹمز، راڈارز، آٹومیٹڈ کنٹرول سسٹمز اور بھارتی وزارت دفاع کیلئے دیگر پیداواری سسٹم میں شراکت داری ہو گی۔ کمپنی ہیلی کاپٹر، آبدوزیں اور بحری جہاز ملک میں تیار کرنے کے سلسلے میں معاہدوں کیلئے منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ بھارت اور روس کے درمیان اس طرح کی دوطرفہ بات چیت 2000ء کے بعد سے ہر سال ہوتی رہی ہے۔ بھارت اور روس سرد جنگ کے دور میں ایک دوسرے کے انتہائی قریبی اتحادی تھے لیکن حالیہ عشرے میںیہ تعلقات ذرا پیچیدہ نوعیت اختیار کر گئے ہیں۔دونوں ملکوں کے درمیان جہاں تقریباً دس ارب ڈالر کی سالانہ باہمی تجارت ہوتی ہے، وہیں روس بھارت کو فوجی ساز و سامان مہیا کرنے والا دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے۔ دونوں ممالک کے دفاعی اور سٹریٹجک تعلقات کافی اہم ہوتے جا رہے ہیں کیونکہ بھارت کی تینوں افواج کی سپلائی کا سات فیصد روس سے حاصل ہوتا ہے۔بھارت کے پاس موجود ٹینک، جنگی طیارے، آبدوزیں اور دیگر جتنے بھی تباہ کرنے والے ہتھیار ہیں، وہ سب بھارت نے روس سے لیے ہیں۔روس کیلئے بھی بھارت اس لیے بہت اہم ہے کیونکہ بھارت ہتھیار درآمد کرنے والا دنیا کا بڑا ملک ہے۔ بھارت اور روس کے درمیان جن اہم سٹرٹیجک معاہدے پر بات ہو رہی ہے اس میں ایک جنگی بحری جہاز پر دستخط شامل ہیں۔بھارت جو پہلے ہی ایٹمی ہتھیاروں کے حوالے سے خطرناک ملک بن چکا ہے اس پر مزید ایسی ’’مہربانیاں‘‘ کہ جس سے اس کے جوہری عزائم کو شہ ملے۔جنوبی ایشیا ہی نہیں بلکہ عالمی امن کیلئے بھی خطرناک ہے۔روس کو یہ بات مدنظر رکھنی چاہئے کہ وہ ایک ایسے وزیراعظم کیساتھ معاہدے کررہا ہے جسکی پشت پر شیوسینا اور بی جے پی جیسی انتہاپسند جماعتیں کھڑی ہیں۔جسکے عزائم پڑوسی ممالک کے حوالے سے کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ بھارت خود کو عظیم قوت بننے کی راہ میں پہلی رکاوٹ اب بھی پاکستان ہی کو سمجھتا ہے۔اسکے نزدیک پاکستان جب تک خطے میں اسکی برتری تسلیم نہیں کرتا، جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک بھی آواز اٹھاتے رہیں گے وہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ پاکستان جب تک اسے جنوبی ایشیا میں الجھائے رکھے گا عالمی سطح پر وہ کوئی بڑا کردار ادا نہیں کرسکے گا، مثلاًبھارت چاہتا ہے کہ اسے اقوام متحدہ میں سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت مل جائے۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی مقابلے کی صلاحیت ختم کرنے کیلئے مودی حکومت نے پاکستان کے خلاف کئی سیاسی و سفارتی محاذ کھول رکھے ہیں۔ اسکی پہلی کوشش اس سلسلے میں پاکستان کے خلاف روایتی و ایٹمی ہتھیاروں اور دیگر فوجی ساز و سامان میں تیزی سے اضافہ کرنا ہے۔اسکی تازہ مثال مودی کا دورہ روس ہے جبکہ دوسری کوشش پاکستان کو دہشت گردی کے مرکز کی حیثیت سے پیش کر کے اسے عالمی برادری میں تنہا کرنا ہے۔پاکستان کو غیرمستحکم کرنے کے لیے بلوچ علیحدگی پسندوں اور افغانستان کے راستے دہشت گردی کیلئے اینٹی پاکستان طالبان کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔ اسی طرح خود پاکستان کے اندراقتصادی اور ثقافتی فوائدکی آڑ میں پاکستان کی سیاسی اشرافیہ کو ’’بھارتی شرائط پر‘‘ تعاون کیلئے قائل کیا جارہا ہے۔جہاں تک بھارت روس دفاعی تعاون کا تعلق ہے تو اس شعبے میں توازن تیزی سے بگڑ رہا ہے۔بھارت کی توسیع پسندانہ اور جارحیت پسندانہ سوچ کے باعث پاکستان کا کم از کم دفاع کیلئے ایٹمی ہتھیاروں پر انحصار بڑھ چکا ہے۔ دونوں ممالک کے مابین کشمیر سمیت کئی امورحل طلب ہیں،جبکہ دو بڑی جنگیں بھی لڑ چکے ہیں، اس پر ایٹمی اور روایتی ہتھیاروں کے مزید معاہدے خطے کی صورتحال کو کسی بھی وقت دو�آتشہ کرسکتے ہیں۔