- الإعلانات -

ہم اصلیت نہیں جانتے یا آنکھیں بند کر لیتے ہیں

صبح اتفاقاََ ٹی وی آن کیا تو خبر آرہی تھی کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی تھوڑی دیر میں لاہور پہنچ رہے ہیں۔ کیوں اور کیسے کے سوالات فوراََ ذہن میں ابھرے۔مزید تحقیق پر پتہ چلا کہ یہ دورہ اچانک ہے اور کچھ زیادہ ہی اچانک ہے اب اس اچانک کا حقیقت سے کتنا تعلق ہے یہ تووقت ہی بتائے گا لیکن چلیئے جب تک یہ راز نہیں کھلتا تب تک سمجھ لیتے ہیں کہ یہ اچانک ہی تھااگرچہ تقریب بہر ملاقات دو تھیں ایک وزیر اعظم کی سالگرہ اور دوسری ان کی نواسی کی شادی،اس کے باوجود بھی اچانک ہی سمجھ لیتے ہیں۔ سربراہان حکومت یوں بغیر پروگرام کے راستوں میں نہیں رُکا کرتے اس کے باوجود بھی اچانک ہی سمجھ لیتے ہیں۔ وہ افغانستان میں زہر اُگل چکے تھے اور اپنی پارسائی ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زرو لگا چکے تھے وہ یہ بتا چکے تھے کہ کچھ لوگ نہیں چاہتے کہ افغانستان میں بھارتی قونصلیٹ ہوں کیونکہ یہ اُن کے بُرے ارادوں کی راہ میں حائل ہیں یعنی سو چیے ان قونصلیٹس پر کس کو اعتراض تھا پاکستان کے علاوہ۔انہوں نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ یہ قونصلیٹس افغان عوام کی خواہش پر ان کی خدمت کے لیے قائم کیے گئے ہیں انہوں نے بھارتی خدمات کا ضرورت سے زیادہ ذکر کیاحالانکہ ان تمام خدمات کا بھارت نے دوہرا صلہ وصول کیا، مالی صورت میں بھی اور پاکستان تک رسائی کی صورت میں بھی۔ یاد رہے کہ مودی افغان پارلیمنٹ کی عمارت کے افتتاح کے لیے کابل پہنچے تھے جسے بھارت نے 90ملین امریکی ڈالرز کے عوض تعمیرکیا تھا تحفتاََ نہیں۔پاکستان کے ساتھ کرکٹ کھیلنے سے انکاری بھارتی وزیر اعظم نے افغان کرکٹ ٹیم کے لیے اپنی خدمات کا ذکر بھی ضروری سمجھا اور بلواسطہ طور پر افغانستان کو یاد کرایا کہ پاکستان یہ خدمات انجام نہیں دے رہالیکن یہ بھول گئے کہ ان افغان کھلاڑیوں نے پاکستان کی گلیوں میں کھیل کر کرکٹ سیکھی ہے جسے سازش کے تحت بھارت نے اُچک لیا۔ مودی کے پاس بھارتی فلموں کے فرضی کردار شیرخان اور کابلی والا کا ذکر تھا جن کے تذکرے سے حقیقی کرداروں کی کمی کوپورا کرنے کی کوشش کی گئی۔خیر اس تمام پراپیگنڈے کے بعدجب مودی نے اپنے ملک کا رُخ کیا تو راستے میں پاکستان رُکنے کا اچھوتا خیال انہیں آگیا، یا وہ پہلے ہی یہ خیال دہلی سے لے کر نکلے تھے کیونکہ ان کے ملک میں جو حالات ان کی محبوب شیوسینا نے اور ان کی پارٹی بی جے پی نے ان کی مکمل تعاون کو ساتھ بنا رکھے ہیں انہیں اس تاثر کو زائل کرنے کے لیے ایسے مصنوعی سہاروں کی یقیناًضرورت تھی چنانچہ انہوں نے لاہور میں رُکنے کا پروگرام بنا لیا اور دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ وہ پڑوسیوں سے اچھے تعلقات کے شدید طور پرخواہش مند ہیں۔ہمارے میڈیا پر بھی کچھ چینلز نے چیخ چیخ کر برف پگھلنے کا اعلان کر دیا،اسے امن کی خواہش قرار دیا اورکچھ سیاسی رہنماوءں نے بھی بغیر سوچے سمجھے اسے خوش آئند قرار دیا۔بالکل ایسا ہوتا اگر مودی صاحب واقعی پاکستان آئے ہوتے۔وہ لاہور ضرور آئے لیکن جاتی عمرہ جانے کے لیے جہاں انہوں نے شریف خاندان سے خوشگوار ملاقاتیں کیں نہ کشمیر کا ذکر ہوا نہ پانی کا نہ بلوچستان کا اور نہ مغربی سرحد سے قونصلیٹوں کے ذریعے دخل اندازی کا۔ وہ لاہور آئے ضرور لیکن وہاں سے انہیں سیدھا ذاتی رہائش گاہ پر لے جایا گیا۔اگر یہ واقعی دو وزیر اعظموں کی ملاقات تھی تو ہمارے وزیراعظم اگر کچھ دیر کے لیے اسلام آباد نہ سہی لاہور کے گور نر ہاوس میں ہی یہ ملاقات منعقد کراتے تو بھی اس میں کچھ سرکاری رنگ آجاتا لیکن ایسا بھی نہیں ہوا۔دراصل مودی نے یہ دورہ کیا تو ضرور لیکن اس کا پاکستان کے ساتھ تعلقات سے کوئی تعلق نہ تھااور یہی چیز اُنہوں نے واپس دہلی پہنچنے پر اپنے ٹویٹ سے بھی ثابت کر دی جس میں جناب نواز شریف اور شریف فیملی کے حُسنِ سلوک کا بھی ذکر کیا اور مہمانوازی کا بھی لیکن پاکستان اور پاکستانیوں کو وہ بھول گئے۔اس مختصر دورے سے مودی نے جو دوسرا مقصد حاصل کرنے کی کوشش کی وہ دنیا کو یہ بتانا بھی تھا کہ وہ پاکستان کو دو گھنٹے کے دورے سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے اور اگر وہ پاکستان کو دو گھنٹے کے لیے اپنی مہمانوازی کا شرف بخشتے بھی ہیں تو اس ملاقات کو ذاتی حد تک محدود رکھ سکتے ہیں۔مودی کے موجودہ دورے کو چند پاکستانیوں نے جو پذیرائی دینے کی کوشش کی ہے اُنہیں پہلے پچھلا ریکارڈ چیک کرلینا چاہیے جب اس نے پاکستان کے خلاف بولنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا اور جب اُس نے بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر خود اعتراف کیا کہ وہ اور اُس کا ملک بنگلہ دیش بنانے با الفاظ دیگر پاکستان توڑنے کی سازش میں شامل تھے۔ پاکستان اور بھارت کے تعلقات کبھی خوشگوار نہیں رہے لیکن مودی کے برسر اقتدار آنے کے بعد جس طرح ہماری سرحدوں پر بار بار حملے کئے گئے بے گناہ سول آبادی کو نشانہ بنایا گیا وہ مودی کی پاکستان دشمن پالیسی کا ہی نتیجہ ہے۔ مختلف اوقات میں نہ صرف فوجی اہلکاروں کو شہید کیا گیا بلکہ عام شہریوں حتیٰ کہ عورتوں اور بچوں کو بھی نشانہ بنایا گیااگر مودی آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کا کوئی پروگرام لے کر آتے تو پاکستان واقعتا اُن کے دورے کی قدر کرتالیکن ظاہر ہے کہ اس قسم کے اقدامات کی مودی کی فطرت اجازت نہیں دیتی ۔کشمیر ،پانی یا بلوچستان اور فا ٹا میں اپنی مداخلت کی پالیسی میں کسی قسم کی تبدیلی تو دور کی بات وہ تو کرکٹ جیسے ثانوی مسئلے پر بھی کچھ نہیں بولے جس کے لیے ہمارے خوش فہم لوگوں نے سشما سوراج سے بھی امیدیں باندھ رکھیں تھیں اُنہوں نے تو یہ تک وعدہ نہیں کیا کہ آئندہ اُن کے ملک میں کوئی سمجھوتہ ٹرین نہیں جلائی جائے گی اور یا اس کے مجرموں کو سزا دی جائے گی اس وعدے میں تو شاید مودی کی گردن گجرات میں پھنس جاتی لیکن اُنہوں نے تو یہ تک نہ کہا کہ آئندہ بھارت جانے والے پاکستانیوں کی بے عزتی نہیں کی جائے گی اور منہ پر سیاہی مَلنے والے واقعات بھی روک دیئے جائیں گے ۔ ان تمام حقائق کے باوجود بھی اگر ہم میں سے کچھ لوگ خوشی کا اظہار کر رہے ہیں تو وہ اس کے لیے خوشی کے علاوہ کوئی دوسرا نام بھی تجویز کر لیں تو بہتر ہو گا میں تو اسے ذاتی مفادات کاہی نام دونگی۔ عام لوگوں سے ہٹ کر اگر میں حکمرانوں کے رویے تک آو ءں تو وہ بھی افسوسناک ہی نظر آتا ہے جو مودی کے دورے کو اپنی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔گیارہ سال تک کسی بھارتی وزیر اعظم کا نہ آنا شاید اتنا توہین آمیز نہیں تھا جتنا دو گھنٹے کا یہ دورہ ۔ہمارے حکمران اگر اپنی ذات اور مفادات سے ہٹ کر سوچنا شروع کر دیں تو بہتر ہو گاوہ جو ایسے دوروں کی حقیقت جانتے ہیں شاید پھر اِنہیں اتنی اہمیت نہ دیں۔مودی تو اپنی چال چل گیا لیکن کیا ہم اصلیت واقعی نہیں جانتے یا اپنی آنکھیں بند کر لیتے ہیں لیکن حکمرانوں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ عام آدمی کے پاس تو آنکھیں بندکرنے کی گنجائش ہو سکتی ہے حکمرانوں کے پاس نہیں لہٰذا انہیں اس دورے کی اصلیت کو بھی سمجھ لینا چاہیے تھا اور اگر تب نہیں سمجھا تو اب ذرا حالات و واقعات کا دوبارہ سے جائزہ لے لیں اور قوم کو اصل حقائق سے آگاہ کر دیں۔قوم یقیناًان کی مشکور ہو گی۔