- الإعلانات -

جناح، بھٹو ، نواز شریف اور نریندر مودی

قارئین کرام ! بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اچانک کابل کے دورے کے بعد لاہور تشریف لائے ہیں ، باہنوں میں باہیں ڈال کر میاں نواز شریف کی سالگرہ کا کیک کاٹ کر واپس نئی دہلی چلے گئے ہیں ۔ اِس سے قبل میاں صاحب کے گذشتہ دور حکومت میں بھارتی وزیراعظم باجپائی لاہور تشریف لائے تھے تو اُنہوں نے مینار پاکستان کو سیلوٹ کیا تھا لیکن نامعلوم کیوں میاں صاحب اپنے آپ کو قائداعظم ثانی کہلوانے کے باوجود نریند مودی سے قائداعظم کے یوم پیدائش کا کیک کٹوانے کے بجائے اپنا کیک کٹوانے پر ہی اکتفا کیا جبکہ تقریباً اُسی وقت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک ترجمان پاکستان اور بنگلہ دیس کو اکھنڈ بھارت میں شامل کرنے کی بات کر رہے تھے ۔بہرحال کیک کٹوانا یا نہ کٹوانا کوئی اہمیت نہیں رکھتا لیکن حقیقت یہی ہے کہ پاکستانی قوم برصغیر جنوبی ایشیا میں انتہا پسند ہندوؤں کی اکھنڈ یا متحدہ بھارت کی تحریک سے کس طرح چشم پوشی کر سکتی ہے جبکہ 3 جون 1947 میں قائداعظم کی جہد مسلسل کے بعد کانگریس، مسلم لیگ اور سکھ رہنماؤں کی جانب سے ہندوستان میں برطانوی حکومت ہند کے آخری وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے تقسیم ہند کے ایجنڈے کو من و عن تسلیم کرنے اور بین الاقوامی دنیا میں پاکستان کے نام سے ایک آزاد و خودمختار مملکت کے وجود میں آنے کے باوجود بھارت نے قیام پاکستان کو کبھی دل سے تسلیم نہیں کیا اور آج بھی انتہا پسند ہندو اکھنڈ بھارت کے خواب دیکھ رہے ہیں۔جس کا اظہارماضی میں ریاست جموں و کشمیر ، ریاست جونا گڑھ اور ریاست حیدرآباد پر فوج کشی کے ذریعے قبضہ کرنے کے بعد بھارت سابق مشرقی پاکستان میں تخریب کاری کے ذریعے پاکستان کو دولخت کرچکا ہے جس کی تصدیق خود موجودہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی بنگلہ دیش کے حالیہ دورے میں بخوبی کر چکے ہیں ۔ چنانچہ سقوط ڈھاکہ کے بعد بھارت اپنا چولہ بدل کر افغانستان میں بیس کمپ بنا کر دہشت گرد گروپوں میں اپنے لنک قائم کرکے اکھنڈ بھارت کی جارہانہ تحریک کو فاٹا، بلوچستان اور کراچی میں نہ صرف مہمیز دے رہا ہے بلکہ ایٹمی پاکستان کی جوہری استعداد کوکیپ کرنے کی بین الاقوامی سازش کا حصہ بھی بن چکا ہے ۔ اِسی تناظر میں بھارت، پاکستان چین تجارتی راہداری منصوبے کو نشانہ بناتے ہوئے واہگہ ، جلال آباد روٹ کو وسط ایشیا ئی ریاستوں تک پھیلانے کے بین الاقوامی منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی جو پاکستان کے خلاف منظم پروپیگنڈا مہم کے ذریعے ہی ہندوستان میں اقتدار کی غلام گردشوں تک پہنچے ہیں تو کیا پاکستانی قوم یہ نہیں جاننا چاہے گی کہ نریندر مودی کی قیادت میں بھارتی حکومت جو پاکستان کیساتھ کسی تیسرے ملک میں کرکٹ کھیلنے کیلئے بھی تیار نہیں ہے اب یکایک وزیراعظم میاں نواز شریف سے ملاقاتیں کرکے بھارتی تجارت کو فروغ دینے کی آڑ میں کس خفیہ منصوبے پر کام کر رہی ہے ؟ کیا پاکستانی قوم یہ نہیں جانتی ہے کہ ماضی میں پاکستانی تجارتی حلقوں میں بھارتی خفیہ عزائم کو بھارتی ہائی کمیشن میں تجارتی قونصلر کے روپ میں سفارتی تحفظات کے تحت پاکستان میں بھارتی حمایت یافتہ تجارتی لابی کو مہمیز دینے والی انڈر کور شخصیت ہی اب نریندر مودی کے قومی سلامتی کے مشیر کے طور پر کام کر رہی ہے؟ جناب وزیراعظم عوام جاننا چاہتے ہیں کہ بھارت نے ابھی چند ماہ قبل ہی مسئلہ کشمیر کو متنازع کہنے اور پاکستانی ہائی کمشنر کی جانب سے کشمیری رہنماؤں سے ملاقات کے حوالے سے ہی سیکریٹری لیول کے مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کرتے وقت بھارتی وزیر داخلہ جو بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر بھی ہیں اور وزیر خارجہ شسما سوراج نے انتہائی سخت پاکستان مخالف بیانات دینے سے بھی گریز نہیں کیا تھا تو اب بھارت تعلقات کو معمول پر لانے کے غیر مخلص حوالے سے کیوں تجارتی پس منظر رکھنے والے پاکستانی وزیراعظم کے گرد جال بننے میں مصروف ہے ؟ حقیقتاً فوجی آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کے بعد پاکستان میں اپنے تجارتی مفادات کو فروغ دینے اور دفاعی صلاحیت کو فروغ دینے کیلئے بھارتی اسٹیل ملز کیلئے افغانستان سے سستا لوہا اور اسکریپ درامد کرنے کیلئے واہگہ ، جلال آباد روٹ کو فوقیت دینا چاہتا ہے ؟ حقیقت یہی ہے کہ بھارت اپنے مخصوص مفادات کی خاطر وقتی طور پر مفاہمت کا روپ دھارتا تو ضرور ہے لیکن اپنے مفادات کی تکمیل کے بعد چناکیہ صفت سے اپنا چولہ بدل لیتا ہے۔
محترم قارئین ، ماضی کے جھروکوں سے جھانک کر دیکھا جائے تو یہی حقیقت سامنے آتی ہے کہ معاہدوں اور وعدوں کی پاسداری کے حوالے سے بھارت کا ٹریک ریکارڈ ٹھیک نہیں ہے ۔ بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے جب برّصغیر ہندوستان کی سیاست میں قدم رکھا اور پہلے کانگریس اورپھر مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے مسلم قومیت کے سیاسی حقوق کے تحفظ کیلئے کام کیا تو ہندو مسلم اتحاد کے سفیر کہلائے چنانچہ مسلمانانِ ہند کے سیاسی حقوق کے تحفظ کیلئے اُن کی بہترین کاوش 1916 کے لکھنو پیکٹ کے حوالے سے دیکھی جا سکتی ہے لیکن جناح کی اِس کاوش کو 12 برس کے اندر ہی نہرو رپورٹ کے ذریعے سبوتاژ کر دیا گیا چنانچہ سرسید احمد خان کی طرح قائداعظم بھی اسی نتیجے پر پہنچے کہ انتہا پسند ہندو، مسلمان قومیت کیساتھ کبھی مخلص نہیں ہو سکتے۔ لندن میں ہونے والی پہلی گول میز کانفرنس میں بھی قائداعظم نے محسوس کیا کہ ہندو اپنی اکثریت اور ہندوستان میں برطانوی حکومت ہند کی شراکت میں مضبوط ہندو انتظامیہ کے توسط سے مسلمانوں کو گروہی سیاست میں اُلجھا کر اُنہیں سیاسی اور معاشی طور پر تباہ کرنے کی پالیسی پر بدستور قائم ہیں۔ لہذا جب چند برس کے بعد قائداعظم واپس ہندوستان تشریف لائے اور مسلم لیگ کو دوبارہ منظم کرکے 1937 میں تحریک پاکستان کا آغاز کیا تو پھر اکھنڈ بھارت یا متحدہ ہندوستان کے تصور کے خلاف اُن کی جدوجہد کی گونج دنیا بھر میں سنی گئی۔ 22 جون 1939 میں وائسرائے کی کونسل میں ہندو اکثریت کو مخاطب کرتے ہوئے قائداعظم نے فرمایا تھا کہ تمہاری تعداد سب سے زیادہ ہوا کرے اور تم سمجھا کرو کہ سروں کی گنتی ہی آخری فیصلہ ہے لیکن تم ہماری روح کو کبھی فنا کرنے میں کامیاب نہیں ہو گے ، تم اس اسلامی تہذیب کو مٹا نہ سکو گے جو ہمیں ورثہ میں ملی ہے ۔ ہمارا نور ایمان زندہ ہے ، زندہ رہا ہے اور زندہ رہے گا ۔ 23 مارچ 1940 میں لاہور میں قرارداد پاکستان کی منظوری کے موقع پر قائداعظم نے فرمایا : قومیت کی تعریف چاہے کسی انداز میں کی جائے ، مسلمان ہر طرح سے ایک علیحدہ قوم ہیں اور اِس بات کے مستحق ہیں کہ اُن کی علیحدہ اور خود مختار ریاست ہو ۔ 18 دسمبر 1943 میں برطانوی صحافی بیورلے نکولس نے قائداعظم سے انٹرویو کے دوران یہ سوال کیا کہ آپ مسلمانوں کو ایک قوم کہتے ہیں تو کیا آپ کے پیش نظر مذہب ہوتا ہے ۔ قائداعظم نے اِس سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا : کسی حد تک آپ کو یہ معلوم ہونا چاہئیے کہ اسلام صرف مذہبی عبادات یا اعتقادات کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک مکمل طریقِ حیات ہے ۔ میں جب مسلمانوں کو ایک قوم کہتا ہوں تو زندگی کے تمام شعبے اور زندگی کی تمام ضروریات میرے پیش نظر ہوتی ہیں ۔ مسلمان ایک علیحدہ قوم ہیں ، ہر اعتبار سے ہماری تاریخ علیحدہ ہے ، ہمارے ہیرو الگ ہیں ، ہمارا آرٹ مختلف ہے ، ہمارا فن تعمیر ، ہماری موسیقی ، ہمارے قوانین ، ہمارا آئین سب کچھ یکسر مختلف ہے ۔ ہندو گائے کو مقدس دیوی گردانتے ہیں لیکن گائے کا گوشت ہماری غذا میں شامل ہے ، ہم در اصل ہندوؤں سے ایک الگ وجود ہیں ، زندگی میں ہماری کوئی قدر مشترک نہیں ہے ، ہمارا لباس ، ہمارے کھانے ، ہماری معاشی زندگی ، ہمارے اصولِ تعلیم ، ہمارا خواتین کیساتھ رویہ ، ہمارا جانوروں کے متعلق نظریہ سب کچھ ہی مختلف ہے ۔ چنانچہ نہرو اور گاندہی کی تحریک پاکستان کی شدید مخالفت کے باوجود 27 مارچ 1947 میں بمبئی چیمبر آف کامرس سے خطاب کرتے ہوئے قائداعظم نے فرمایا : میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میرے دل میں ہندو قوم کی بہت عزت ہے ، اُن کا اپنا دھرم ہے ، اپنا فلسفہ ہے ، وہ اپنا تمدن رکھتے ہیں عین اُسی طرح جس طرح مسلمان اپنا ایمان ، فلسفہِ حیات اور تمدن رکھتے ہیں لیکن دونوں الگ الگ قومیں ہیں اور میں پاکستان کیلئے لڑ رہا ہوں کیونکہ ہمارے مسائل کا یہی حل ہے ۔ ہم ہندوؤں کو یقین دلاتے ہیں کہ پاکستان میں اقلیتوں کیساتھ منصفانہ اور برادرانہ سلوک کیا جائے گا ، اِس کے ثبوت میں(میثاق مدینہ) ہماری تاریخ شاہد ہے ، اسلامی تعلیمات نے ہمیں یہی سکھایا ہے ۔ لیکن اِن یقین دھانیوں کے باوجود بھارت نے پاکستان کو اقتصادی دباؤ ڈالنے کیلئے مشرقی پنجاب ، دہلی، بہار ، بنگال اور مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کا قتل عام کرکے لاکھوں لٹے پٹے مہاجروں کو پاکستان میں دھکیل دیا جس کا کچھ ردعمل پاکستان میں بھی دیکھنے میں آیا۔پاکستان کو اندونی خلفشار سے دوچار کرنے کیلئے بھارت نے آزادی کے ایک ماہ کے اندر ہی اندر سابق صوبہ سرحد میں پختونستان تحریک کو ہوا دی اور سابق مشرقی پاکستان میں اُردو بنگلہ زبان کے جھگڑے کو کھڑا کیا لیکن قائداعظم کی سیاسی بصیرت کے سبب یہ دونوں تحریکیں ناکام ہوئیں البتہ مشرقی پاکستان میں کشیدگی قائداعظم کی وفات کے بعد پھر سے کشیدہ ہوگئی جسے منظم بھارتی تخریب کاری اور مسلح مداخلت سے دولخت کر دیا گیا۔سقوط ڈھاکہ کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے اقوام متحدہ کے منشور کیمطابق بھارت کیساتھ شملہ معاہدے پر دستخط کئے۔جس میں بھارت نے دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ بات چیت کے ذریعے تجارتی اور سفارتی تعلقات کی بحالی اور مسئلہ کشمیر کے حتمی فیصلے کا وعدہ کیا لیکن 1974 میں بھارت نے ایٹمی دھماکہ کرکے کشمیر پر بات چیت کے دروازے کو بند کردیاالبتہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی ایٹمی صلاحیت کے زور پر پاکستان کے ایٹمی طاقت بننے کے باوجود بھارت مسئلہ کشمیر پر پیش رفت کرنے سے گریزاں ہے ۔چنانچہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ قائداعظم سے ذوالفقار علی بھٹو اور وزیراعظم میاں نواز شریف کی موجودہ حکومت تک بھارت مسائل کو حل کرنے کے بجائے اپنی جدوجہد کے تسلسل سے پاکستانی موقف کو نچوڑنے میں ہی لگا ہوا ہے ۔ درج بالا تناظر میں آنیاں جانیاں اپنی جگہ ہیں لیکن بھارت سے کسی خیر کی اُمید رکھنا ایک ناقابل فہم اَمر ہے لہذا ہمارے غور و فکر کرنے والے اداروں کو نریندر مودی کے منافقانہ طرز عمل پر بہت زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت مسلمہ ہے۔