- الإعلانات -

زلزلہ زدگان کی امداد

پاکستان میں سیلاب‘ زلزلوں اور فوجی آپریشنوں کے نتیجے میں لاکھوں افراد بے گھر ہوکر مسائل و مشکلات کا شکار ہوئے مگر الحمداللہ کسی ایک موقع پر متاثرہ افراد کی جانب سے پاکستان کیلئے منفی جذبات کا اظہار دیکھنے میں نہیں آیا۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس میں ڈاکٹر آصف جاہ کے کردار کا بھی حصہ ہے تو غلط نہ ہوگا۔ یہ کبھی نہیں ہوا ملک کے کسی بھی حصے میں ناگہانی صورتحال نے جنم لیا ہو اور ڈاکٹر آصف جاہ نے اپنی ٹیم کے ہمراہ پہنچنے میں پہل نہ کی ہو۔ ان کی جانب سے متاثرین کی فوری خبرگیری کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ متاثرین کے کیمپ پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونجنے لگتے ہیں۔ اسی طرح دیکھا جائے تو ڈاکٹر آصف جاہ کی جانب سے مصیبت زدہ بھائیوں کی امداد کیلئے تگ و دو میرے نزدیک ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کا مشن بھی ہے۔
راقم الحروف سے ایک انٹرویو کے دوران ڈاکٹر آصف جاہ نے حال ہی میں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں چترال اور دیگر علاقہ جات میں ریلیف کاموں کے متعلق معلومات دیں، جو پیش خدمت ہیں۔ ڈاکٹر آصف جاہ کہتے ہیں کہ شمالی علاقہ جات کی سخت سردی میں 26 اکتوبر 2015ء کے زلزلہ زدگان کا تصور کر کے دل پریشان ہو رہا ہے کہ وہ کھلے آسمان تلے کس حال میں ہونگے۔ شانگلہ اور چترال کے زلزلہ زدگان کی دوبارہ خبر گیری کے لیے لاہور سے نکلے ۔ الحمدللہ! 26 اکتوبر 2015ء سے آج تک چترال اور شانگلہ کے زلزلہ زدگان کی مسلسل خدمت جاری ہے۔ وسائل بھی مہیا ہو رہے ہیں اور اشیاء بھی۔ میڈیکل کیمپ بھی لگ رہے ہیں اور ریلیف اشیاء بھی تقسیم ہو رہی ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ چترال میں زلزلہ زدگان کے گھروں کی تعمیر بھی شروع کر دی گئی ہے۔
امدادی رقوم و سامان کی تفصیل بتاتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ کراچی سے شیخ غلام احمد نے رقم بھجوائی۔ ملک میں ٹینٹ بنانے والے بڑے ادارے کے سربراہ فرحان سرور نے اپنے نوجوان آفیسر ساجد محمود کے ذریعے شانگلہ اور چترال کے زلزلہ زدگان کے لیے اعلیٰ اور دیدہ زیب خیمے ترپالیں مہیا کیں۔ خدمت اور ایثار کے لیے ہر دم تیار اعجاز سِکا نے پانچ سو رضائیاں تیار کروا کے بھیجیں اور کیش دیا۔ عمر رسید کرنل ظفر اور اُن کی اہلیہ کلینک آئے اور کیش کے علاوہ کپڑوں کا عطیہ دیا۔ ڈاکٹر نہدیٰ اشرف کے ماموں چوہدری امین کا بھی عطیہ پہنچ گیا۔ راشن اور ادویات کا بھی انتظام ہو گیا۔ سجاد شاہ، اقبال، فائزہ نے بچوں اور بڑوں کے لیے جیکٹس خریدیں۔ علی عمر اور حافظ اشعر نے ساہیوال سے بچوں کے لیے جرسیاں، سویٹرز اور ٹوپیاں بھیجوائیں۔ سجاد شاہ نے بچوں کے لیے گفٹ پیکس تیار کروائے۔ ہسپتال میں ساری رات رونق رہی۔ سب سے پہلے خیموں اور ترپالوں سے لدا پھدا ٹرک چترال روانہ کیا۔ مینگورہ سے صبح سویرے شانگلہ پہنچے۔ الپوری سے ہوتے ہوئے ڈھیری پہنچے جہاں ہمارے کارکنان شانگلہ کے علاقہ ڈھیری میں عبدالرؤف، توفیق اور سہیل خان پہلے سے سامان کے ساتھ گاڑیوں سے اترتے ہی فوراً کیمپ کا آغاز کر دیا۔ ڈاکٹر قدرت اللہ نیازی ڈھیری میں یونیسف کے طرف سے بنے نئے مرکز میں بیٹھ گئے۔
موبائل کلینک سج گیا۔ اسلم مروت، عبدالرؤف اور اشفاق مقامی ساتھیوں سے مل کر ریلیف اشیاء کی تقسیم میں لگ گئے۔ مریضوں کی آمد شروع ہو گئی۔ بچے، بوڑھے، جوان، عورتیں، لڑکیاں سب جمع ہو گئے۔ سخت سردی میں مریضوں کا تانتا بندھ گیا۔ مریضوں کا چیک اَپ دوپہر تک جاری رہا۔ ہم اپنے علاج اور خدمت کے کام میں مگن رہے۔ 350 مریضوں کا چیک اَپ اور علاج ہوا۔ میڈیکل کیمپ میں بچے، بوڑھے، عورتیں لڑکے، لڑکیاں سب چیک اَپ اور علاج کے لیے آئے۔ پٹھان عورتیں آج بھی مرد ڈاکٹر کے پاس جانے سے پرہیز کرتی ہیں۔ یہاں کی خواتین میں زیادہ تر خون کی کمی کی وجہ سے جسم میں کمزوری اور دردوں کی شکایت تھی۔ لڑکیوں کی بہت جلد شادی کر دی جاتی ہے۔ پھر پے در پے بچے پیدا ہونے کی وجہ سے 25 سال کی لڑکی 40 سال کی بوڑھی خاتون لگتی ہے۔ مگر یہاں کی عورت بڑی سخت جان ہے۔ صبح سے رات گئے تک گھر میں کام کرے گی مگر مجال ہے حرفِ شکایت زبان پر لائے۔
زلزلہ زدگان کا احوال ڈاکٹر صاحب نے یوں بتایا کہ اسلم مروت، اشفاق اور عبدالرؤف زلزلہ زدگان کی لسٹیں بنانے میں محو ہو گئے تاکہ بلقیس سرور فاؤنڈیشن کی طرف سے عطیہ کیے گئے خوبصورت دیرپا اور دیدہ زیب ٹینٹ اور ترپالیں ایسے متاثرین کو دئیے جائیں۔ جن کے گھر زلزلہ میں تباہ ہوئے ہیں اور وہ اسی سخت سردی میں کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ کیونکہ ریلیف کی تقسیم میں ابھی خاصا وقت صرف ہونا تھا۔ ریلیف ٹیم کو چھوڑ کر آگے بڑھے۔ 5 کلو میٹر کے فاصلے پر چکٹ گاؤں میں کیمپ کا آغاز کر دیا۔ شروع میں مریض کم تھے مگر آہستہ آہستہ مریضوں کی آمد و رفت شروع ہو گئی۔
چکٹ میں 100 مریضوں کا چیک اَپ اور علاج کر کے جلدی فارغ ہوگئے تو آگے کا قصد کیا۔ کہروڑہ بازار آ کر گاڑیاں خود بخود رُک گئیں۔ موبائل ہسپتال اور ہماری گاڑی کو دیکھ کر اور پہچان کر ایک دم لوگ جمع ہوگئے۔ کئی لوگ محبت سے آگے بڑھ کر ملے۔ شناسا چہرے بھی نظر آئے ایک مہینہ پہلے زلزلے کے فوراً بعد اِدھر آنا ہوا تھا۔ یہاں آ کر زلزلہ زدگان کی خدمت کی تھی۔ مزید مریض آئے۔ زرولی سپیشل بچہ بھی اپنے والد کے ساتھ آگیا۔ پچھلی دفعہ بھی اس بچے کو خصوصی طور پر دیکھا تھا۔ خدمت کی تھی۔ بچے نے خوش ہو کر ہاتھ اُٹھا کر دعا دی تھی۔ زرولی کو دیکھا چیک کیا۔ دوا دی تو اس نے پھر دعا کے لیے ہاتھ اُٹھا لیے۔ بابا گل جان کے گھٹنوں میں درد تھی۔ گرم پٹی باندھی تو مسجد میں سب لوگ پوچھنے لگ گئے۔ کہروڑہ میں 250 مریضوں کا علاج کر کے آگے بڑھے۔ کیمپ کے دوران خائستہ گل نے اپنی غریبی کا رونا رویا۔ اپنی داستان غم سنائی۔ اس کا چپک اَپ کیا۔ علاج کیا۔ خدمت کی تو دُعا دیتا رخصت ہوا۔ پتاؤ کی طالب علم علیمہ خان اپنے بھائی کے ساتھ آگئی میرے گاؤں کا کوئی پرسان حال نہیں۔ لوگ بے گھر ہیں۔ ان کی مدد کریں۔ اُن کو خیمے دیں۔ بیمار ہیں ان کا علاج کریں اس کا اپنے لوگوں کے لیے جذبہ ہمدردی دیکھ کر اس کا ساتھ دینے کا وعدہ کیا۔ ڈھیری میں اسلم مروت اینڈ کمپنی ریلیف اشیاء تقسیم کرنے میں لگے ہوئے تھے۔ پچھلے ہفتے بھی کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی کی ٹیم شانگلہ آئی تھی اور شانگلہ کے سب سے زیادہ متاثرہ گاؤں پیجوبانڈہ کے متاثرین میں گرم کپڑے، رضائیاں نئے کپڑے اور بچوں میں گفٹ تقسیم کیے تھے۔ اخوت کلاتھ بنک اور کارکنان ختم نبوت کی طرف سے آئے ہوئے کپڑے اور راشن کے پیکٹس پیجو بانڈہ کے متاثرین میں بٹے تو ان کے چہروں پر رونق آگئی اور وہ خوش ہو کر دعائیں دینے لگے۔ اسلم مروت، عبدالرؤف اور پرویز نے اکیلے شانگلہ تک سفر کر کے متاثرین تک ریلیف اشیاء پہنچائیں۔
ریلیف کیمپ کی کارکردگی بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر آصف جاہ نے بتایا کہ شانگلہ ریسٹ ہاؤس کے نیچے جہاں آس پاس چند گھر آباد تھے، کیمپ کا آغاز کر دیا۔ شروع میں کیمپ میں زیادہ رش نہ تھا لیکن جونہی آس پاس کے لوگوں کو پتہ چلا کہ میڈیکل کیمپ لگا ہوا ہے۔ لاہور سے آئے ہوئے ڈاکٹر مریضوں کا مفت چیک اَپ کر کے ادویات دے رہے ہیں تو اوپر پہاڑوں سے بھی لوگ نیچے آنا شروع ہو گئے۔ راہ چلتے مسافر بھی آگئے۔ دو گھنٹے تک سخت سردی لیکن سہانے موسم میں کیمپ چلتا رہا۔ سورج نکلنے کے ساتھ ہی سردی کی شدت میں کمی آگئی۔ موبائل کلینک میں بھی دھوپ آگئی۔ جو بہت بھلی لگ رہی تھی۔ اس کیمپ میں زیادہ تر بچے کھانسی، بخار، پیٹ خراب، ڈائریا، جسم پہ دانے وغیرہ کی تکالیف کے ساتھ آئے۔ عورتیں بھی آئیں جن کو زیادہ تر سانس اُکھڑنے اور جسم میں دردوں اور معدہ خراب کی علامات تھیں۔
شانگلہ کے ساتھ چترال کے زلزلہ زدہ علاقوں میں بھی خدمت اور علاج کا سلسلہ جاری ہے۔ زلزلہ کے پہلے دن سے لے کر آج تک چترال کے تمام زلزلہ زدہ علاقوں میں کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی کے کارکنان گاؤں گاؤں نگر نگر پھر کر زلزلہ زدگان تک راشن اور دوسری ریلیف اشیاء پہنچاتے رہے اور تباہ شدہ گھروں میں پہنچ کر انہیں پُرسہ دیتے رہے۔ زلزلہ کے دوسرے دن کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی کی ٹیمیں چترال کے دور دراز علاقوں اور تباہ شدہ بستیوں میں ریلیف اشیاء اور راشن پہنچایا۔ گرم کپڑے اور رضائیاں پہنچائیں اور سب سے پہلے چترال میں اپنا گھر ہاؤسنگ پراجیکٹ شروع کیا۔ جس کے تحت زلزلہ زدگان کے تباہ شدہ گھروں کی تعمیر شروع کر دی گئی ہے۔ چترال کے تباہ شدہ گاؤں ہُون کے نذیر نے گورنمنٹ سے ملی رقم اور کچھ اُدھار لے کر اپنے گھر کی دیواریں کھڑی کر لی تھیں۔ چترال میں رضائیوں کے لیے بلقیس سرور فاؤنڈیشن کی طرف سے عطیہ کیے گئے خوبصورت خیموں اور ترپالوں کی تقسیم بھی جا رہی ہے۔
پورن شہر میں ہمارا علاج اور خدمت کا سلسلہ دوپہر تک چلتا رہا۔ یہاں بھی ہر طرح کے مریض آئے۔ اپنا حالِ دل و جسم سنا کر اور دکھا کر دوائی لیتے۔ خیبرپختونخواہ کے مختلف شہروں میں کام کرتے ہوئے تو اب لگتا ہے کہ صدیاں بیت گئیں ہیں۔ شانگلہ سے خوازہ خیلہ، مینگورہ، بری کوٹ، بٹ خیلہ، مالاکنڈ ٹاپ، درگئی، مردان سے ہوئے ہوئے اگلے دن صبح سویرے واپس لاہور پہنچے اور اللہ کا شکر ادا کیا جس نے اتنی سخت سردی میں سینکڑوں میل سفر کر کے آفت زدوں کی مدد کرنے کی توفیق دی۔