- الإعلانات -

رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو

یہ وہ نغمہ ہے جس نے1965ء کی جنگ کا نقشہ ہی بدل دیا تھا۔اس وقت ایسے نغمے لکھے گئے کہ دشمن کے دل بزدلی میں تبدیل ہو گئے۔جو سیالکوٹ وزیرآباد کے راستے لاہور فتح کرنے آئے تھے۔ان کو کھیم کرن کے لالے پڑ گئے۔اسی قسم کا ایک بار پھر ماحول بنا۔جب گزشتہ سال دہشت گرد پاکستانی عوام اور خاص کر پاک فوج کے افسروں کے بچوں کو شہید کر کے بہت سخت پیغام دینا چاہتے تھے۔لیکن سچ ہی کہتے کہ بعض حادثے قوموں کی تقدیر بدلنے کا سبب بنتے ہیں۔یہ حادثہ بھی ایسے وقت پر ہوا جب پاکستان میں سخت سیاسی کھچاؤ کا ماحول تھا۔ادھر ضربِ عضب جاری تھی۔12/13لاکھ افراد اپنے گھروں سے بے گھر تھے۔یقینی طور پر ایسے حالات میں اتنا بڑا سانحہ رونما ہواجس سے ایسا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی گئی کہ اب فوجی جوان دہشت گردوں کا پیچھا چھوڑ دیں گے۔پاکستان اور خصوصاً خیبر پختونخواہ کے تعلیمی ادارے خالی ہو جائیں گے ۔لوگ اپنے بچوں کو سکولوں میں بھیجنے سے اجتناب کریں گے۔لیکن ماحول اس کے بالکل برعکس ہوا۔سکولوں ، کالجوں میں طلباء و طالبات کی تعدادبڑھ گئی۔ فوجی جوان زیادہ جوش و جذبہ سے دہشت گردوں کا پیچھا کرنے لگے۔دوسری عالمی جنگ میں ہٹلر کے ایک مشیر نے آکر اسے خبر دی کہ ہماری افواج چاروں طرف سے دشمن کے گھیرے میں آ گئی ہیں۔اب ہمارے لئے لڑنا مشکل ہو گیا ہے۔ تو ہٹلر نے جواب دیا کہ اب ہمارے لئے جنگ جیتنا اور لڑنا زیادہ آسان ہو گیا ہے۔اب ہمیں کسی بھی سمت کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہے۔چاروں طرف بغیر سوچے سمجھے اور تاخیر کئے اپنی تو پوں کا منہ کھول دو۔پھر ایسا ہی ہوا کہ ہٹلر کو اس جنگ میں کامیابی حاصل ہوئی ۔16دسمبر 2014ء سے پہلے پاکستان میں بھی بیرونی طاقتوں کے پیسوں پر چلنے والی تنظیموں اور اسلام کا نام الاپنے والی پارٹیوں کے رہنما شہادتوں کو بھی متنازعہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں شہادت کا رتبہ حاصل کرنے والے افواج پاکستان کے لوگوں کی شہادت کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے یہ گمراہ لوگ کہتے کہ پاک فوج کے جوان شہید نہیں ہوئے۔بلکہ وہ شہید ہیں۔جو پاکستانی افواج کے ہاتھوں ہلاک ہو رہے ہیں۔لیکن اللہ تبارک تعالیٰ کویہ بات منظور نہیں تھی کہ اللہ کی راہ پر شہید ہونے والوں کو شہید نہ کہا جائے۔اللہ نے اپنا یہ فیصلہ صادر فرمانا تھا کہ شہید کون اور ہلاک کون ہے۔16دسمبر 2014ء سوات، خیبر پختونخواہ اور فاٹا میں شہید ہونے والے شہداء کے خون کا ایک ایک قطرہ پکار اٹھاکہ شہداء ہم ہیں۔شہید ہم ہیں۔جو اللہ کی راہ پر لڑ رہے ہیں۔اس دن حق اور باطل کا فیصلہ ہو گیا تھا ۔ اس حملے نے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کا پردہ چاک کر دیا ۔ اس نے حق کو فتح سے ہمکنار کیا۔پاکستان میں بھی دہشت گردی کا ساتھ دینے والوں کو چپ کا تالا لگ گیا۔لیکن یہ سب کچھ دلیر اور بہادر عسکری اور سول قیادت کی بہتر حکمتِ عملی سے ممکن ہو سکا ۔اس دن یا اس کے بعد اگر قیادت بزدلی کا مظاہرہ کرتی یا دہشت گردوں کے رعب کے نیچے آجاتی تو آج پاکستان کا نقشہ کچھ اور ہوتا۔آدھے سے زیادہ تعلیمی ادارے خالی ہو چکے ہوتے۔فوجی افسروں اور جوانوں کی شہادتوں کو (نعوذو باللہ میرے منہ میں خاک) متنازعہ بنا دیا چکا ہوتا۔لیکن قیادت کابر وقت اور دلیرانہ فیصلے نے ضربِ عضب کی جنگ کا نقشہ ہی بدل دیا۔16دسمبر 2014ء کی نسبت آج 16دسمبر 2015ء کوپاکستان کا بچہ بچہ دہشت گردوں کے خلاف اسی جوش و جذبے کے ساتھ لڑنے کے لئے تیار ہے۔ جس جذبے کے ساتھ پاکستانی افواج کے جوان اور افسر لڑ رہے ہیں ۔16دسمبر 2105ء کو پاکستان ٹیلی ویژن پر اسی آرمی پبلک سکول کے بچوں کے انٹرویو نشر ہوئے تو وہ کہہ رہے تھے کہ پہلے ہم ڈاکٹر یا انجینئر بننا چاہتے تھے ۔لیکن اس حملے کے بعد ہم نے اپنا فیصلہ تبدیل کر لیا ہے۔اب ہم فوج میں بھرتی ہو کر دہشت گردوں کا پیچھا کرنا چاہتے ہیں۔کچھ والدین کے بھی انٹرویو نشر ہوئے جن کے بچے اس حملے میں جامِ شہادت نوش فرما چکے ہیں۔ان کے دوسرے بچے اسی سکول میں زیرِ تعلیم ہیں۔ان کا جوش و جذبہ بھی دیدنی تھا۔اور وہ بھی اپنے بچوں کو فوج میں بھیجنا چاہتے ہیں۔وزیراعظم پاکستان نے وفاقی دارالحکومت کے122تعلیمی اداروں کا نام بھی ان شہید بچوں کے نام پر رکھنے کے احکامات جاری فرمائے۔جو اس حادثے میں شہید ہوئے۔اب ان بچوں کا نام رہتی دنیا تک زندہ و جاوید رہے گا۔جن بچوں کو دہشت گرد موت سے ڈرانے کی کوشش کر رہے ہیں وہ اب خود شہادت کا مطالبہ کریں گے۔اس سانحہ میں آرمی پبلک سکول کی پرنسپل نے جس ہمت ، حوصلے اور بہادری کا مظاہرہ کیا۔اس کو تاریخ میں سنہرے لفظوں سے لکھا جائے گا۔ان کے علاوہ بھی موقع پر موجود بچوں نے اپنے اساتذہ کی جس انداز میں تعریف کی۔ وہ بھی قابلِ رشک ہے کہ وہ اساتذہ کس طرح چھوٹے چھوٹے بچوں کو دہشت گردوں سے بچانے کے لئے باہر نکالتی رہیں۔اور جن بچوں کو وہ سکول سے باہر نکالنے میں کامیاب نہ ہو سکیں ان کے اوپر لیٹ گئیں۔اور ان بچوں سے پہلے اپنے جان کا نذرانہ پیش کر دیا۔اب صرف وہ بچے اپنے آپ پر فخر نہیں کریں گے۔جو اس آرمی پبلک سکول میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔بلکہ ان بچوں کو بھی اپنے آپ پر فخر ہوگا جو اس سانحے میں شہید ہونے والے بچوں کے نام پر چلنے والے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کر رہے ہونگے۔ہم لوگ تنقید اور الزام تراشی کے بہت عادی ہیں بلکہ اس کو فخر سمجھتے ہیں۔16دسمبر 2015ء کو ان شہیدہونے والے بچوں کے ساتھ اظہارِ محبت اور ان کے والدین کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کے لئے تعلیمی اداروں بھی چھٹی دی گئی۔جس پر کچھ لوگوں کوحکومت کے خلاف باتیں کرنے کا موقع ملا ۔کیا وہ یہ بھول رہے ہیں کہ یکم مئی کو شکاگو کے سانحے میں مارے جانے والے مزدوروں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لئے آج پوری دنیا کے ساتھ ہم بھی چھٹی نہیں کرتے۔کیا یہ سانحہ شکا گو کے مزدوروں سے کم ہے ؟ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ16دسمبر کو دنیا بھر کے تعلیمی ادارے پاکستان کے آرمی پبلک سکول کے بچوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لئے بند ہوتے۔اگر پوری دنیا نہیں تو کم از کم مسلمان ممالک کو16دسمبر کو چھٹی ہونی چاہیئے۔اگر وہ بھی ممکن نہ تھا تو جو جو ملک دہشت گردی کا شکار ہیں وہ دہشت گردی کے خلاف اور ان 122بچوں کی شہادت کے سوگ میں چھٹی کرتے۔پاکستان بھر میں 16دسمبر کو چھٹی کے علاوہ 15دسمبر کو دہشت گردی کے خلاف آواز اٹھانے کے لئے تعلیمی اداروں میں تقریری مقابلوں کا اہتمام کیا جاتا۔تاکہ تعلیم حاصل کرنے والے بچے دہشت گردی کے خلاف آنے والی نسلوں کی رہنمائی کر سکیں۔موجودہ حکومت نے شہدائے آرمی پبلک سکول سے محبت کی بنیادیں رکھ دی ہیں۔اب ساری قوم کا فرض ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف ایک ہو جائے۔نیشنل ایکشن پلان کی کامیابیوں میں حکومت کاساتھ دے۔ یاد رہے دشمن اپنے ایجنڈے پر شب و روز کام کر رہا ہے۔اگر ان حالات میں بھی ہم نے حساس اداروں کے چھاپوں اور ان کی کارکردگی کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی تو ہم تاریخ کی سب سے بڑی غلطی کریں گیاور اپنے ملک کے ساتھ سب سے بڑی زیادتی کریں گے۔