- الإعلانات -

نیا سال مبارک

سی این جی بند، گیس بند، چولہے بند، ناشتے بند، بجلی بند، پانی بند،کاروبار بند، دفاتر بند، روزگار بند، سڑکیں بند، ٹریفک بند،ہسپتال بند، علاج بند، پارک بند،سکول بند کالج بند، زبان بند ،، اذہان بند ۔اور نا جانے،، کیاکیا بند،، لیکن نیا سال مبارک ہو کہ جمہوریت چھا گئ ہے۔ کیا واقعی جمہوریت چھا گئی ہے یا اندر سے کھا گئ ہے، کیا قران و سنت کے آفاقی نظام کی موجودگی میں، یا دنیا کے دیگر درجنوں ملکوں جہاں جمہوریت کو قریب سے پھٹکنے نہیں دیا جا تا وہ اس کے بغیر آج ترقی کی انتہاووں کو چھو رہے ہیں۔ یہ ہمارے لیے ہی کیوں واحد اور آخری راستہ قرار د یا جاتا ہے،،، یہ ایک بڑا سوال ہے جسکا احاطہ شاید ان گنے چنے الفاظ میں ممکن نہ ہے۔؟ لیکن دورِ جدید کا جمہوری فلسفہ آسمانوں کو چھو رہا ہے اور اتنا سر چڑھ کر بول رہا ہے اور اذہانوں میں ایسا کچھ ٹھونس دیا گیا ہے کہ چاہے انسان کو اسکی بنیادی ضرورتیں ملیں نہ ملیں، عزت، جان ومال محفوظ ہو نہ ہو، لیکن جمہوریت کی کچھ اس طرح کی۔ چِتر کاری ۔کی جا رہی ہے کہ انسان کو اور وہ بھی خاص طور پر ہم پاکستانیوں کو یہ باور کرا دیا گیا ہے کہ اگر اپنی باقی ماندہ سا نسیسں برقرارکھنی ہیں، تو یہ صرف اور صرف موجودہ سیٹ اپ کے اندر ہی ممکن ہے جسکے بغیر ہماری زندگی شاید زندگی نہیں درندگی کے مترادف ہے۔ اوراس کامیاب نسخہِ کیمیا کے کاریگر استاد جنا بِ زرداری اور محترم نواز شریف صاحب ہی ہیں، جنکا بنیادی جمہوری فلسفہ اقتدار سے ہر قیمت پر چمٹے رہنا اور گھوم پھر کر باریاں لینا ہے۔ قوم کو دور جدید کے یہ دونوں ار سطو اور افلا طون بھی مبارک ہوں۔سرکاری ٹی وی بلکہ اب تو تمام کے تمام چینلز پر لمبے طویل اشتہار دیکھ کر ہم ٹھٹک جاتے ہیں کہ یہ کس خوش قسمت ملک کی ترقی کا سنہرا دور دکھایا جا رہا ہے ، لگتا ہے کہ ہر طرف دودھ اور شہد کی نہریں بہنا شروع ہو چکی ہیں یا ابھی چند لمحوں میں اس طلسماتی دنیا کا کوئی بڑا سا دروازہ کھلنے ہی والا ہے، لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ پی پی دور کی لوٹ مار،تباہ کاریوں اور غلط کاریوں کے بعد اب لیگی دور میں تو غریب اور سفید پو ش طبقے کا توسانس لینا مشکل ہو چکا ہے، لوٹ مار، اقربا پروری ، کمیشن خوری اب بھی کم نہیں اور طبقاتی تفاوت کا میدان وسیع سے وسیع تر ہوتا جا رہا ہے۔ گیس بجلی بند لیکن بِل دوہر ے تہرے، تاجر ظالمانہ ٹیکس سے پر یشان، مزدور روزگار کی عدم دستیابی پر بچوں سمیت زہر کھا کر اس دنیا سے منہ موڑ رہے ہیں،، کسان فصلوں کو آگ لگاتے پھرتے ہیں، لیکن لینے والا کوئی نہیں، مجبوراً آڑہتی کے ظالمانہ شکنجے میں اپنا سر دینے پر مجبور۔کھاد مہنگی، پانی نایاب، اوپر سے چوری، جائیں تو جائیں کہاں۔ فصل نا ہو تو پوچھتا کوئی نہیں اور اگر ہو جائے تو بمپر کراپ کا سہرا حکومت اپنے ماتھے پر سجانے میں زرا دیر نہیں لگاتی۔پنجاب میں ہزاروں سی این جی اسٹیشنز ویران پڑے ہیں، لاکھوں مزدور، بیروزگار بیٹھے ہیں، لیکن شرارت کے طور پر اچانک چند دنوں کیلئے دوبارہ سے سپلائی جاری کر دی جاتی ہے، گیس اسٹیشنوں پر عملے نے سموسوں پکوڑوں کی ریڑھیاں لگا لی ہیں، چند ایک پر تو میں نے بکرے بندھے دیکھے ہیں، لیکن جب اچانک گیس آتی ہے تو اس سے نا گیس بکتی ہے نا پکوڑے۔ اور چند دنوں بعد بکرے پھر سے ۔مےَں، مَیں ۔کی صدا لگا کر وزیرِ پیٹرولیم کی۔ کامیاب پا لیسیوں ۔ پر مبارک باد دیتے نظر آتے ہیں۔ سڑکوں پر ٹریفک کا بے ہنگم اژدہام، ہزاروں گاڑیاں نیچے پھنسی ہوئی لیکن کمال جمہوری ناز و نخروں سے اِکا دُکا میٹرو ان سب کا اوپر سے منہ چڑاتی گذرتی جا رہی ہے۔ گھروں میں گیس بجلی پانی کے بلیک آو ٹ اور گیس کی بندش پرروزانہ سڑکوں پر گھنٹوں بچے بوڑھے، عورتیں، تَوے، تسلے اور بیلنے لہراتی جمہوریت کو کوسنے دے رہی ہوتی ہیں، جمہوریت کو بیلنے لہراتی عوام کے کوسنے مبارک۔جمہوریت کی فنکاریا ں دیکھیں کہ اپنی دُم پر پیر آیا تو رینجرز کے اختیارات پر قدغن لگانے کو چڑھ دوڑے اور کرپشن کے خاتمے پر اُٹھائےجانے والے اب ہر اچھے قدم کو سندھ پر چڑھائی تک قرار دے دیا اور اسی جمہوریت کی چمتکاریاں دیکھیں کہ وی آئ پی پروٹوکول کی بھینٹ چڑھی بچی بسمہ کا باپ فیصل،،، پورے پاکستان کو گھنٹوں رُلاتا،، چند منٹوں میں رام ہو کر کیسے سب کے سب کو بری الزمہ قرار دے دیتا ہے اور وہاں پر موجود عظیم پروٹوکولی فرعونکس فخریہ انداز میں کروڑوں بہتے آنسووں کامذاق اُڑاتا ہے۔ کراچی میں موجود کرپشن کے فرعونوں اور اس غریب فیصل کو بلکہ پوری لیاری کو فوری اور تیز ترین انصاف ملنے پر مبارک ہو۔ کہتے ہیں بہترین آمریت سے بدترین جمہوریت بہتر ہے، ہو گی ضرور ہو گی، لیکن سوال یہ ہے کہ عام آدمی کو اس فلسفہ کی ابھی تک سمجھ کیوں نہیں آ رہی، اگر جمہوریت واقعی ایسی اچھی چیز ہے تو پچاس سال بعد بھی سڑکوں پر ٹرکوں پر صدر ایوب کی دیو ہیکل تصاویر کیوں ہمیں بار بار دکھا ئی دیتی ہیں،کسی عوامی یا جمہوری شخصیت کی تصاویر کیوں نہیں نظر آتیں۔ تمام کے تمام بڑے منصوبے اور انقلابی صنعتی اقدامات کس کے دور میں سر انجام پائےجب پاکستان حقیقتاً ایشین ٹائیگر بننے جا رہا تھا ؟ ان سب سوالواں کا جواب بھی اس نام نہاد جمہوریت کے ٹھیکیداروں کو اپنے گریبان میں جھانک کر فوری طور پر دینا ہو گا۔ آخر میں قارئین کرام نئے سال ک مبارک کے ساتھ ساتھ ایک اور مبارک باد کہ سال کے آغاز سے صرف چند دن قبل ایک نئی سیاسی پارٹی کا ظہور ہوا ہے جسٹس ڈیموکریٹک پارٹیً جسکا نعرہ ہی صدارتی طرز حکومت ہے جو اس جمہوریت زدہ دور میں خاصہ حیران کن ہے ۔ ماضی میں ہم نے ایک نعرہ مستانہ بہت سُنا ہے، چیف تیرے جان نثار، بیشمار بے شمار، لیکن د یکھتے ہیں کہ وہ چیف اب اس بار کتنے مستانے۔ اپنے گرد جمع کر پاتے ہیں اور کسطرح اپنے از خود اقدامات سے اس حبس زدہ ماحول میں اپنی جگہ بنا پاتے ہیں، تاہم یہ اتنا بھی کو ئی مشکل کام نہیں، کیونکہ لوگ پاکستان کے مضبوط اور طاقت ور ترین سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور انکے کردار کو اچھی طرح جانتے ہیں اور انکا نعرہ بھی اچھوتا ہے اور نام بھی،بس صرف کام اچھا ہونا چاہیے ۔