- الإعلانات -

بھارت میں غربت اور اسلحہ کی دوڑ

بھارت میں غربت اور مہنگائی اپنی آخری حدوں کو چھو رہی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں بھیک مانگنے والوں میں اکیس فیصد بھکاری پڑھے لکھے ہیں۔ ہتھیاروں کی دوڑ میں پیش پیش رہنے والے بھارت میں غربت و افلاس عروج پر ہے۔
روزگار نہ ملنے کے باعث لوگ بھیک مانگنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ بھارت کے سرکاری اداروں کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں 3 لاکھ بہتر ہزار افراد بھیک مانگتے ہیں جن میں پچہتر ہزار افراد پڑھے لکھے ہیں جو بھکاریوں کا 21 فیصد بنتے ہیں۔ان پڑھے لکھے بھکاریوں نے بارہویں کا امتحان پاس کیا ہوا ہے اور تین ہزار سے زائد ایسے بھکاری ہیں جنہوں نے پروفیشنل ڈپلومہ ، گریجوایٹ یا پوسٹ گریجوایٹ کی ڈگری لی ہوئی ہے۔یہ صورتحال بھارتی حکومت کی جانب سے ترقی کے دعووں کا پول کھولنے کے لیے کافی ہے۔
جنگی جنون کا شکار اور اسلحہ پر بے شمار دولت خرچ کرنے والے بھارت میں کروڑوں لوگ غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جبکہ اقوام متحدہ کی جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا کی ایک تہائی انتہائی غریب لوگ بھارت میں کسمپرسی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ایک ارب 25 کروڑ کی آبادی والے بھارت میں 30 کروڑ سے زائد انتہائی غربت کی زندگی گزار رہے ہیں، جو تعلیم، صحت، پانی سیوریج سسٹم اور بجلی جیسی بنیادی انسانی ضروریات سے محروم ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اِسی غربت کے باعث بھارت میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کی اموات بھی دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہیں اور ہر سال ایک کروڑ 40 لاکھ بچے اپنی پانچویں سالگرہ منانے سے قبل ہی موت کے بے رحم شکنجوں میں پھنس جاتے ہیں جب کہ ان میں سے 60فیصد لوگ گھر جیسی نعمت سے بھی محروم ہیں اور کھلی فضا میں اپنی زندگی کے شب و روز گزارنے پر مجبور ہیں۔
اقوام متحدہ کے سوشل کمیشن فار ایشیا اینڈ پیسفیک کے انڈر جنرل سیکرٹری نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت کو انتہائی غربت کے خاتمے کے لئے کوششوں میں تیزی لانا ہوگی اورغربت کے بڑھتے ہوئے گراف کو کم کرنے کے لئے کوششیں میں توازن قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو بھارت کی وجہ سے دنیا بھر میں غربت کے خاتمے کے لئے اقوام متحدہ اپنے اہداف کو حاصل نہیں کر پائے گا۔
چین نے بھارت کو کبھی جنگ کی دھمکی نہیں دی اور نہ کبھی بھارت پر حملہ کیا ہے۔ یوں اس خطے میں بھارت کے لئے کوئی ایسا ملک نہیں کہ جس سے بھارت کے وجود کو خطرہ ہو پھر کیا وجہ ہے کہ بھارت اپنی عوام کی حالت سدھارنے، غربت کے خاتمے اور ملک میں جاری آزادی کی تحریکوں کو اچھے طریقے سے ختم کرنے کی بجائے بے تحاشہ جدید سے جدید اسلحہ جمع کر رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ کشمیری مجاہدین یا ماؤنوازوں اور دیگر آزادی پسندوں کے خلاف تو بھاری اسلحہ استعمال نہیں کرے گا۔ اس کے بعد صرف پاکستان ہی رہ جاتا ہے کہ جس کے ساتھ بھارت کے سمندری حدود سرکریک سے لے کر کشمیر، سیاچن تک سرحدوں پر تنازعات ہیں جس کے وہ دو ٹکڑے کر چکا ہے، جس کے کئی حصوں پر اس نے قبضہ جما رکھا ہے۔
اس کی پالیسی یہ ہے کہ کسی طرح پاکستان مضبوط و مستحکم نہ ہو۔ اس کے لئے وہ اتنے اسلحہ کے انبار جمع کر رہا ہے۔ ان سنگین حالات میں اب ہمیں ضرور سوچنا چاہئے کہ بھارت کے ان خوفناک اور خطرناک عزائم پر کیسے قابو پانا اور مقابلہ کرنا ہے۔ بھارت کی ساری تیاری کا مرکز و محور پاکستان ہے۔ ہم جنگ کے طالب ہیں نہ رسیا، لیکن اپنی خودداری کسی صورت قربان نہیں کر سکتے۔اگر بھارت اپنے سارے مْلک کی پروا نہ کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف جنگی تیاریوں میں مصروف ہے تو ہمیں بھی سوچنا چاہئے کہ ہم نے کب تک یوں نرم پالیسی اختیار کئے رکھنا ہے۔