- الإعلانات -

یہ مودی کی آنیاں جانیاں

25دسمبر کی صبح قوم معمول کے مطابق ملی جوش و جذبے کیساتھ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کا139 واں یوم پیدائش منا رہی تھی کہ اچانک یہ خبر سامنے آئی کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف سے ملنے لاہور پہنچنے والے ہیں۔ یہ خبر میڈیا پر ایسی بجلی بن کر گری کہ پھر کسی چینل کو قائداعظمؒ کا یوم پیدائش یاد رہا نہ ایسی تقریبات۔ سارا دن میڈیا پر مودی کی آمد کا اودھم مچا رہا ۔ امکانات ،خدشات ، تحفظات اور خطرات کے تمام پہلو چھان مارے گئے۔ایسا شاید اسلئے ہوا کہ ایک ڈیڑھ ماہ قبل تک انہی مودی جی کی زبان پاکستان کے خلاف روز شعلے اُگل رہی تھی۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا تھا کہ مودی اور اس کی پاکستان دشمن انتظامیہ پاکستان کے خلاف زہر نہ اُگلتی یا کوئی بھونڈا الزام نہ لگایا جاتا۔حیرت ہے کہ عین اسی روز جب وہ روس سے افغانستان کی نئی پارلیمنٹ بلڈنگ کا افتتاح کرنے کابل پہنچے تو وہاں بھی اپنی تقریر میں پاکستان کو نہ بخشا اور نام لئے بغیر الزام لگایا کہ جب تک سرحد پار ٹھکانے تباہ نہیں ہوتے افغانستان میں امن نہیں آسکتا ۔ پھر اچانک مودی کے من میں کیا سوجھا کہ وہ کابل سے اڑان بھر کر لاہور تشریف لے آئے اور میٹھی میٹھی زبان میں کہتے رہے کہ ہاں ہم اکٹھے ہی ہیں۔ اپنی پسند کا ساگ بھی کھایا اور کشمیری چائے بھی نوش فرمائی ۔ شایدمودی کو وہ اقبال جرم بھول گیا تھا جب چند ماہ قبل بنگلہ دیش کے دارالخلافہ ڈھاکہ میں انہوں نے کہا کہ ہاں پاکستان توڑنے میں مکتی باہنی کے ساتھ وہ اور ان کاملک بھی شامل تھا۔یہ اچانک پاکستان نے ایسا کونسا معرکہ انجام دیا یا کوئی ایسا کام کیا کہ مودی جی سب کچھ بھول گئے۔پاکستان بھی وہی پاکستان کے سیکورٹی ادارے بھی وہی، مقبوضہ کشمیر پر پاکستان کی پالیسی بھی وہی، جو آئندہ بھی وہی رہے گی کہ مقبوضہ کشمیر پر بھارت نے جابرانہ قبضہ جما رکھا ہے۔کشمیریوں کو انکا بنیادی حق،حق خودارادیت ملنا چاہیے۔ اس کے باوجود بھارتی وزیراعظم مودی جی اگر اچانک موم ہوئے ہیں تو پھر یقیناً دال میں کچھ ضرور کالا ہے۔ اس لئے پاکستانی حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ نمستے کے انداز میں ادا کیے جانے والے خیر سگالی کے الفاظ کے چنگل میں پھنسنے کی بجائے عملی اقدامات پر دھیان دیں۔ منہ سے رام رام کہنا بنئے کی فطرت ہے مگر پاکستان کو اُس چھری پر نظر رکھنی ہے جو اس نے بغل میں چھپا رکھی ہے۔سفارتی دنیا کی یہ مجبوری ہوتی ہے کہ دشمن کی سرزمین پرکھڑے ہوکردشمنی جاری رکھنے کے عزم کا اظہار نہیں کیا جاتا بلکہ باہمی مسائل کو مل کر حل کرنے کا اعادہ کیا جاتا ہے۔ حقیقت وہ ہوتی ہے جب وہ اپنی سرزمین پر اترتا ہے، جیسے رواں ماہ کے آغاز میں7دسمبرکو سشما سوراج اسلام آباد آئیں تو مشترکہ پریس کانفرنس میں کشمیر کے مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی بات کی۔ لیکن اپنے دورہ پاکستان کے حوالے سے بھارتی لوک سبھا میں اپنے پالیسی بیان کے اگلے ہی روز یہ بیان دے کر بھارتی ہٹ دھرمی کا اعادہ کر دیا ہے کہ پاکستان سے مذاکرات مقبوضہ کشمیر پر نہیں بلکہ پاکستان سے ملحقہ آزاد کشمیر پر ہوں گے جس پر ان کے بقول پاکستان نے قبضہ کر رکھا ہے۔ یہ ہے ان کا اصل چہرہ ، انکے دانت جو دکھانے کے اور کھانے کے اورہیں ۔ یہی وہ تلخ حقائق ہیں کہ جنکے باعث سنجیدہ محب وطن پاکستانی حلقے تشویش میں مبتلا رہتے ہیں ۔ وہ بجا طورپر اعتراض کرتے ہیں کہ پچھلے 68 سال کی تاریخ بھارتی حکمرانوں کی کہہ مکرنیوں اور مکرو فریب سے بھری پڑی ہے۔ لہذا ضروری ہے کہ ہر قدم پھونک پھونک کر رکھا جائے۔ ہمیں دوستی اور تعلقات کی بحالی کے لئے بھارتی وزیراعظم کی جانب سے کی جانے والی پیش رفت پر انتہائی محتاط رہنا ہو گا،یہ مرحلہ سنجیدگی کا متقاضی ہے ۔قابل غور بات یہ ہے کہ کیا مودی حکومت کشمیر پراٹوٹ انگ والی رٹ چھوڑ کر یو این قراردادوں کی روشنی میں اس مسئلے کے حل کے لئے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے پر آمادہ ہے۔ درپیش حالات تو اس جانب ایسا کوئی امکان ظاہر نہیں کرتے کیونکہ اوفا ملاقات، پیرس ملاقات‘ بنکاک میں پاکستان بھارت قومی سلامتی کے مشیروں کی ملاقات اور پھر سشما سوراج کی اسلام آباد میں خوش بیانیاں اور سازگار تعلقات کی خواہش کے اظہار کے باوجود مسئلہ کشمیر پر بھارتی پالیسی کی سوئی وہیں کی وہیں اڑی نظر آتی ہے۔ کشمیر پر بھارتی ہٹ دھرمی برقرار رکھ کر مودی سرکار کی جانب سے پاکستان کے لئے دوستی کا ہاتھ بڑھایا جارہا ہے جس کیلئے خود نریندر مودی سب سے زیادہ سرگرم نظر آتے ہیں تواس تناظر میں مودی کی ’’اچانک‘‘ لاہور آمدکو خارجہ امور کے ماہرین عالمی برادری کو بے وقوف بنانے سے تعبیر کر رہے ہیں۔مودی سرکار انتہا پسندانہ پالیسیوں کے باعث اس وقت عالمی دباؤ میں ہے۔بین الاقوامی طاقتیں بی جے پی کے وزیراعظم کی پالیسیوں کو علاقائی و عالمی امن کیلئے خطرہ محسوس کررہی ہیں۔اسی خطرے کے پیش نظر اقوام متحدہ اور امریکہ مودی پر پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر دو طرفہ مسائل حل کرنے کے لئے دباؤ بڑھارہے ہیں۔یہ اسی دباؤ کا نتیجہ ہے کہ وہ میاں نواز شریف کے ’’آلے دوآلے‘‘ پھر رہے ہیں اوراسے بھارتی چال سے ہی تعبیر کیا جا سکتا ہے۔پاکستان کی بھاری اکثریت مودی کی نمودونمائش والی ان خیر سگالیانہ پھرتیوں سے مرعوب ہونے والی نہیں ہے۔جب تک بھاتی حکمرانوں کے قول فعل میں فاصلے کم نہیں ہوتے ایسی آنیاں جانیاں گونگلیوں سے مٹی جھاڑنے یا پھر پاکستان سمیت عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔