- الإعلانات -

صحرائی زندگی اور عرب

اللہ رب العزت نے جب دنیا تشکیل دی تو اس دن کو ہر نوع کے رنگ جمال سے بھر دیا پرند چرند حیوان اور بنی آدم کی تخلیق سے اپنی صناعی کے جو رنگ بھرے وہ اپنی مثال آپ ہیں جہاں چٹیل میدان تخلیق کئے وہیں پہاڑوں کو جھیلوں آبشاروں سے نوازا سبزے سے ان کو سجایا اور اس میں رزق پیدا کیا پانی پیدا کیا جھیلیں اور تالاب بنائیاور دریا بہائے کہیں وادیوں کو برف کا لبادہ اوڑھایا اور کہیں تپتے صحراؤں کی چادر تخلیق ہوئی اور کہا پھرانسانوں کو کئی رنگوں اور نسلوں میں بانٹا اور کہا انسان کے جوڑے بنائے اور اسکیلئے حیوان پیدا کئے گئے تاکہ وہ انسان کے کام آئیں اناج اور پھل کی صورت میں رزق عطا کیامعاشرت سکھائی اور فطرت کے مطابق جینا سکھایا اور پھر کہا فطرت نے ارد گرد کے ماحول سے انسان کو متاثر کیا اور اس کی عادات واطوار اسی مناسبت تبدیل ہوتے رہتے ہیں کہیں سردی کی شدت بچنے کے لیے اونی لباس زیب تن کیا جاتا ہے توکہیں گرمیوں میں سائبانوں تلے بسیرا ہوتا ہے اور کہیں ریت کے طوفان مد مقابل ہوتے ہیں تو کہیں پانیوں پہ پا بہ رکاب یہی تنوع ہماری دنیا کی رنگینیوں کا سبب ہے اہل بادیہ کی زندگی شہری باسیوں کی بودوباش کلیا مختلف ہوتی ہے جہاں اونٹ ان کا قابل اعتماد ساتھی ہوتا ہے کھجور اور اونٹنی کا دودھ بنیادی غذا جس سے آج بھی بے انہیں بے حد رغبت ہوتی ہے ہماری زندگی کا زیادہ حصہ انہی صحرائی لوگوں میں گزرا جن کی سب سے بڑی خوبی ان کا کھلا پن سچائی اور بے تکلفی ہوتی ہے بہت اچھے دوست اور غمگسار ہوتے ہیں عربی میں خوش آمدید کہنے کیلئے ایک لفظ اہلا بولا جاتا ہے جس کا مطلب ہے کہ آپ ہمارے اہل میں سے ہیں اور دوسرا لفظ سہلا بولا جاتا ہے جس کا مطلب سہل ہو جانا یعنی easy ہو جانا اس کا حقیقی مفہوم آپ کو تب سمجھ میں آتا ہے جب آپ ان کے گھر جاتے ہیں اور ان کا عملی رویہ دیکھتے ہیں یعنی ا ہلا و سہلا آپ ہمارے اہل ہیں اور ایزی ہو جائیں جب بھی آپ کسی عرب کے گھر جائیں کچھ نہ کچھ کھائیں ضرور جس کو عرب بہت پسند کرتے ہیں مہمان خانہ جس کو عرب مجلس کہتے ہیں فروٹ کی ایک آدھ ٹرے اور قہوہ موجود ہوتا ہے آپ اگر بے تکلفی سے اس میں سے کچھ کھا لیں تو سمجھ لیجئے کہ آپ نے ان کا دل جیت لیا وہ صحراء4 کیاور صحراء4 ان کا دوست ہوتا ہے توکل ان کا اوڑھنا بچھونا مادی وسائل پہ انحصار کم کم صحرا ء کی وسعتوں میں بسیرا انہیں خوب بھاتا ہے جب کبھی موقع ملتا ہے خاص کر اختتام ہفتہ کی چھٹیاں اپنے اہل و عیال کے ساتھ صحرا ء کے طبعی ماحول میں گزارنا انہیں زیادہ مرغوب ہے گو ان لوگوں نے مادہ پرستی کا کچھ نہ کچھ اثر قبول ضرور کیا ہے لیکن نئی نسل کے عادات اطوار میں کوئی بہت بڑی تبدیلی نہیں آئی خاندان کا بہت خیال رکھتے ہیں بلاشبہ کہیں کہیں تکبر کا عنصرتو موجود لیکن بہت ہی کم لوگ اس کا شکار ان کے حکمران بے تکلف پروٹوکول سے بے نیاز اور متوکل علی اللہ ایک مرتبہ خلیج کے نہایت نامور اور بہت بڑے لیڈر نے دوران شکار کھلے میدان میں کھانا کھایا اس کے بعداپنے سامنے زمین پر گرے ہوئے چاول اٹھائے اور پھانک لئے کہ رزق قدر اور احترام چاہتا ہے اور نہ جانے برکت والا دانہ کون سا ہو اب ان اداؤں پر اللہ رب العزت مہربان کیوں نہ ہو صحرائی لوگوں کا مزاج مبنی برتوکل ہوتا ہے جھوٹ اور خاص طور پر دوغلا پن تو جیسے انہیں معلوم ہی نہیں بزرگ لوگ کی جدید سہولیات سے رغبت نہ ہونے کے برابر ہے ایک مرتبہ کسی عرب دوست کے ہاں رات کے کھانے پر جانے کا اتفاق ہوا ہم سر شام پہنچ گئے اس دوران ان کے والد گرامی سے ملاقات بھی ہوئی انہیں کی اقتداء میں نماز عشاء بھی ادا کی رات خاصی دیر بعد بمشکل اجازت مرحمت فرمائی جیسے نکلنے کے لئے اپنی گاڑی میں بیٹھنے لگے تو سامنے دیکھا کہ گھر کے ایک کونے میں بنے ریت کے ٹیلے پر کوئی شخص لیٹا ہے ابھی پوچھنے والے تھے کہ میزبان کہنے لگے ریت کے ٹیلے پر خوابیدہ شخص ان کے والد ہیں جن کو بستر پر گہری اور مزیدار نیند نہیں آتی لہذا ان کی خاطر گھر کے اندر 4 /5 ٹرک ریت کے ڈلوا رکھے ہیں تا کہ یہ سکون کی نیند سو سکیں یاد آیا کہ پاکستان کے ایک سابق وزیراعظم کے لئے ان کے شہر میں روٹ لگا ہوا ہے ہمارے علم کے مطابق تو وزیراعظم اسلام آباد میں ہیں تحقیق پہ پتا چلا کہ یہ ان کے صاحبزادے کا روٹ لگا ہے جو شیو کرانے کے لئے جانا چاہ رہے ہیں اور سڑک پچھلے ایک گھنٹے سے بند ہے لیکن یہاں حکمران حضرات بھی نہایت بے تکلف کبھی کبھی صحراء کی ریت پر ایسے لیٹ جاتے ہیں جیسے مخملی بستر ہو صبح فجر کی نماز کے لئے عام ٹینکوں میں بھرے پانی سے وضو کر کے نماز پڑھ لیتے ہیں کسی تکلف کا کوئی شائبہ تک نہیں ہوتا تکبر نام کو نہیں بغیر پروٹوکول کے شاپنگ سنٹرزمیں آ نکلتے ہیں لوگوں میں گھل مل جاتے ہیں عام لوگوں سے عام سی باتیں کرتے ہیں ہر بات چاہے ذاتی ہی ہو خوش دلی سے جواب دیتے ہیں Twitter پر براہ راست عوام سے رابطے میں رہتے ہیں لوگ بھی ان سے بے حد محبت اور ادب و احترام کرتے ہیں۔