- الإعلانات -

نجکاری کے بجائے اداروں کو ٹھیک کرنے کی ضرورت

واپڈا، پی آئی ار اور پنجاب میں سکولوں کے نجکاری کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں ۔اب جبکہ تیسری دفعہ نواز شریف دو تہائی اکثریت سے وزیر اعظم مُنتخب ہوئے ہیں، حسب سابقہ ایک دفعہ پھر انکے ارد گر د سر مایہ دار اور کا رخانہ دار جس میں منشاء اور دوسرے بڑے بڑے سرمایہ دار اور کا رخانہ دار اکٹھے ہوگئے ہیں اور انکی پو ری کو شش ہے کہ نواز شریف حکومت سرکاری اداروں ، کا رپوریشنوں اور بڑے بڑے سرکاری فر موں کو پرائیویٹا ئز کر کے انکو کو ڑی کے بھاؤ دیں ۔ ان بڑے بڑے65 سرکاری اداروں میں ریلوے، پی آئی اے، سٹیٹ لائف انشو رنس کا ر پو ریشن، آئل اینڈ گیس ، سوئی گیس کا ا دارہ اور اسکے علاوہ ا یسے بُہت سارے ادارے ایسے ہیں ،جس پر ملک کے کا رخانہ داروں اور سرمایہ داروں کی نظریں لگی ہوئی ہیں، جسکا نتیجہ یہ ہوگا کہ لاکھوں مزدور اور ورکر ز بے رو ز گار ہوجائیں گے۔ 1985ء سے لیکر 2008ئتک مختلف حکومتوں نے496 ارب روپے کے 184اداروں کی پرائیویٹا ئزیشن کی منظو ری دی تھی۔ جبکہ اُ س وقت کی ما رکیٹ کے مطابق اسکی قیمت اس سے 20گنا زیادہ تھی۔ وطن عزیز میں سب زیادہ نج کاری پرویز مشرف اور نواز شریف کے دور حکومت میں ہوئی۔ نواز شریف کے نج کاری کا مقصد اس سے حا صل شدہ رقم کو دفاع، غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی اور فلاحی کاموں کے لئے برابر برابر تقسیم کرنا اور ان شعبوں کو دینا تھا۔ جبکہ جنرل پر ویز مشرف کی نج کا ری کا مقصد 90فی صد رقم کو غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی اور 10 فی صد رقم کو عام لوگوں کی سماجی اور فلا حی کاموں پر خر چ کرنا تھا مگر بد قسمتی سے نج کا ری سے حا صل شدہ رقم نہ تو غیر ملکی قر ضوں کی ادائیگی پر خر چ کی گئی اور نہ ہی اس سے لوگوں کے فلا ح و بہبو د کے کام کئے گئے۔ بلکہ پاکستان کا غیر ملکی قرضہ جو 1991ء میں 23ارب ڈالر تھا سال 2008 ء میں 45 ارب ڈالر اور سال 2012ء میں 85 ارب ڈالر تک پہنچ گیا اور ہر پاکستانی ایک لاکھ روپے قرض دار ہے۔ غُربت کی شر ح بڑھتے بڑھتے 45 فی صد سے تجاوز کر گئی۔ پر ائیویٹائزیشن کے عمل سے لوگوں کا معیار زند گی بڑھنا چاہئے تھا مگر بد قسمتی سے سرکاری اداروں کی نج کا ری سے لوگوں کا معیار زندگی میں کوئی مُثبت تبدیلی نہیں آئی بلکہ نج کا ری کے بعد تقریباً 86 فی صد یو نٹس، جو سرمایہ داروں اور کا ر خانہ داروں نے بینک سے قر ضے لے کر خریدے تھے،بند پڑے ہیں۔ ڈا کٹر حبیب احمد کے ایک تحقیقی مقالے کے مطابق نج کا ری کے بعد نہ تواس سے قیمتوں میں کمی واقع ہوئی اور نہ اس سے مقابلے کے رُحجان میں اضا فہ ہوا بلکہ اس سے مختلف اشیاء کی قیمتوں بے تحا شااضا فہ ہوا ۔ مثلاً فر ٹیلائزر کے کا رخانوں کی نج کاری سے پہلے کھاد کی قیمت 1300 روپے فی بو ری تھی جو نج کا ری کے بعد یکدم 4000روپے تک پہنچ گئی۔ جسکا نتیجہ یہ ہے کہ اب کسان اور ہاری کے لئے کا شتکاری کرنا مشکل ہوگیا۔ اور مختلف قسم کے اجارہ دار استخصالی گروہوں کا قیام وجود میں آیا جن میں آئل، آٹو موبائیل، چینی، سیمنٹ، ٹیلی کام اور فر ٹلائزر میں اجارہ دار گروہ وجود میں آئے جس سے غریبوں کو یہ نُقصا ن ہو رہا ہے ۔کہ یہ اپنی مر ضی سے جس طر ح چاہے اپنی اشیاء اور پر و ڈکٹ کی قیمتیں بڑھاتے ہیں۔ جب سے نج کا ری شروع کی گئی اس سے تقریباً 15 لاکھ مزدور براہ راست بے روز گا ر ہوئے جبکہ 15 لاکھ خاندانوں اور ایک کروڑ لوگوں کو نُقصان بھی ہوا۔علاوہ ازیں کا رخانوں اور فیکٹریوں میں رجسٹرڈ ٹریڈ یو نین کی تعداد جو 80 کی دہائی میں 9 لاکھ کے قریب تھی ،کم ہو تے ہوتے تین لاکھ تک پہنچ گئی اور اسی طر ح ٹریڈ یونینز جو مزدوروں کی حقوق کا ضامن ہوا کرتی تھی وہ تقریباً ختم ہو گئی اور اب کسی ادارے کے مزدور یا ورکرز انکے مالکان کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔ ما ہرین کہتے ہیں کہ پاکستان میں نجکاری کا مقصد وطن عزیز میں سماجی ضروریات کو پو را کرنے کے بجائے ذاتی لالچ کو پر وان چڑہا نا ہے۔ عالمی بینک کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نجکاری کے بعد پاکستان میں 20 فی صد پرائیویٹا ئز یو نٹس اچھے طریقے سے کام کرتے ہیں جبکہ 78 فی صد کی حالت مزید دگر گوں ہوگئی۔ علاوہ ازیں وہ کہتے ہیں کہ نج کاری سے سماجی سرمائے کے بجائے ذاتی سرمائے بڑھانے میں مدد ملی۔ ہا ہر معا شیات رؤف احمد کاکہنا ہے کہ مشرف اور شو کت عزیز کے دور میں 1998ء سے 2007ئتک نج کا ری میں 50ارب ڈالر کی کر پشن ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حبیب بینک کے 51فی صد شیرز یعنی حصص 22 ارب روپے کے بیچے گئے حالانکہ اُس وقت کی ما رکیٹ کے حساب سے اُسکی قیمت 600 ارب روپے تھی۔ وطن عزیزمیں 1437 برانچوں کے علاوہ حبیب بینک کی 40 برانچیں 26 ممالک میں بھی تھیں۔ پی ٹی سی ایل کے 26 فی صد شیرز 2.59ارب ڈالر کے عوص دوبئی کے ایتصا لات کو دئے گئے جبکہ اسکی قیمت 60ارب ڈالر سے زیادہ تھی۔ بد قسمتی سے مطلق العنان پر ویز مشرف نے پی ٹی سی ایل کا پو را اختیارایتصالات کو دے دیا حالانکہ 26 فی صد شیر یعنی حصص کے حساب سے اس ادارے کو اتصالات کو حوالے کرنا ملک اور قوم کے ساتھ زیادتی ہے۔بد قسمتی سے اس ادارے کے زیادہ تر ورکرز اب بھی اپنی حقوق کے لئے مختلف عدالتوں میں انصاف کے لئے در بد ر ٹھو کریں کھا رہے ہیں۔کراچی الیکٹرک سپلائی کا پو ریشن کو 16 ارب روپے کے عوص بیچا گیا جبکہ اُس وقت کی ما رکیٹ کے حساب سے اسکی قیمت کئی سو ارب روپے بنتی تھی۔پاک سعودی فر ٹیلائزر میر پو ر متھیلو کو 8 ارب روپے کے عوص بیچا گیا جبکہ اس کمپنی کا سالانہ منافع 6 ارب روپے ہوا کرتا تھا۔پاک سعودی عرب فرٹیلائزر کو ملک کے ایک سرمایہ دار عارف حبیب کو 13ارب روپے پر حوالہ کیا گیا جبکہ اُس وقت صرف اسکی زمین کی قیمت ہی40 ارب روپے سے زیادہ تھی۔اسی طر ح لاہور فلیٹیز کو 1.21روپے کا بیچا گیا جبکہ بلڈنگ کے علاوہ لاہور کے وسط میں اسکی 50کنال زمیں کی قیمت اربوں روپے ہے۔ایشیائی ترقیاتی بینک کے مشیر کے مطابق پاکستان میں نج کاری کا نظام صاف اور شفاف نہیں۔ نج کاری کے سلسلے میں کمپنیوں کی اہلیت کی اچھی طر ح چھان بین نہیں کی جاتی۔امریکہ کے ایک نوبل انعام یا فتہ معاشی سائنس دان نے اپنی ایک حالیہ کتاب میں لکھا ہے کہ روس میں آئی ایم ایف کی ایما پر تیزی سے جو نج کاری کی جاتی رہی اس سے روس میں معا شی زوال شروع ہوا۔چین نے اس صدی میں سب سے زیادہ یعنی چا ر گنا ترقی کی حالانکہ چین نے بین الاقوامی اقتصادی دباؤ کے با وجو د بھی نج کاری کی طرف کوئی توجہ نہ دی۔ یہی حالت وینزویلا کی بھی ہے وہاں پر حکومت نے پراویٹائز اداروں کو دوبارہ نیشنیلائز کیا۔ میں اس کالم کے تو سط سے وزیر اعظم نواز شریف اور اسکی اقتصادی ٹیم سے استد عا کرتا ہوں کہ وہ سرکا ری ادارو ں کی نجکاری سے باز رہیں بلکہ کو شش کریں کہ جو جو ادارے احسن طریقے سے کام نہیں کرتے انکو منفعت بخش اداروں میں تبدیل کیا جائے اور انکے ایسے سر براہ گان مقرر کئے جائیں جو معاملات کو اچھے طریقے اور خوبی سے نباہ سکیں ۔ اور ابھی یہ بات ثابت شدہ ہے کہ نجکاری معاشی معامالات کو حل کرنے کانام نہیں ۔ اس ملک کے لوگوں کوپہلے سے ہی مہنگائی ، لاقانونیت اور بے روز گا ری کی وجہ سے تنگ ہیں نجکاری کے کے ذریعے ان غریبوں کو مزید ذلیل اور رسوا نہ کیا جائے۔ علاوہ ازیں سرکاری اداروں کے سربراہوں سے بھی یہ استد عا ہے کہ وہ اپنے اداروں کو مُنفعت بخش بنا دیں اور ہمارے سیاست دانوں کو یہ مو قع نہ دیں کہ وہ ان اداروں کو مُنفعت بخش نہ ہونے کی وجہ سے پرائیویٹائز کر لیں۔جہاں تک سرکاری اداروں کی کا رکر دگی اور فرفرمنس اُنکو چاہئے کہ وہ اپنے کو زیادہ مُنفعت بخش بنائیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس اداروں کو اچھی حکمرانی کے ذریعے منا فع بخش ادارے بنایا جائے جب تک ہم اچھی حکمرانی کو دوام نہیں دیں گے اُس وقت تک ہم کسی شعبے میں ترقی نہیں کر سکتے۔ بد قسمتی سے پو ری دنیا میں آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کا رُحجان ختم ہو گیا ہے اور سرکاری اداروں کی نجکاری بھی نہیں کی جاتی مگر بد قسمتی سے نواز شریف حکومت پھر بھی آئی ایم سے قرضہ لیکر اور سر کاری اداروں کی نجکاری کرکے غریبوں کو غُربت، افلاس ، مہنگائی اور بے روز گاری میں دھکیل رہے ہیں۔ جماعت اسلامی ، پی پی پی اور پی ٹی آئی کو چاہئے کو وہ ظالم ملک اور مزدور دشمن نجکاری کے خلاف ایک مو قف اختیار کریں نواز حکومت کو نجکاری سے روکیں۔