- الإعلانات -

کچھ نہیں ہونے والا

کسی بھی ملک کی ترقی و خوشحالی اور بیرونی دنیا میں پذیرائی کا پیمانہ یہ ہوتا ہے کہ اس ملک کے حکمران طبقے میں فہم و فراست کتنی ہے ،معاملہ فہمی کس حد تک ہے، عوام اور ملک کے مسائل کا ادراک کس قدر ہے اور انہیں حل کرنے کے لیے درکار فیصلہ گری کی قوت کس درجہ ہے؟اگر حکمران ملک و قوم کواس کا صحیح تشخص دے سکتے ہوں، قومی اور ملکی مفاد میں دانشمندانہ فیصلے کر سکتے ہو ں اور اپنے کیے گئے فیصلوں کو جرأت مندی کے ساتھ نافذ العمل کرنے کی بھی صلاحیت رکھتے ہوں تو ہر کسی کو یقین کر لینا چاہیے کہ ملک اہل لوگوں کے ہاتھ میں ہے۔کیا ہمارے ملک کے حکمران اس پیمانے پر پورا اترتے ہیں؟یا وہ، جو حکمران بننے کے خواہش مند ہیں، وہ اس پیمانے پر پورے اترے ہیں؟ اگر حکمران ایسے ہوں جو فہم و فراست کی نعمت سے عاری، حکمت کی دولت سے محروم، قوت فیصلہ سے خالی اور فیصلوں کونافذ کرنے کی جرات سے تہی داماں ہوں تویہی حال ہوتا ہے جو اس وقت ہم پاکستان میں دیکھ رہے ہیں۔ یہاں اہل دانش کی بجائے بے وقوف ملک پر مسلط ہیں، دانشمندوں کے بجائے دولت مند ،فیصلہ کی قوت رکھنے والوں کے بجائے دوسروں کے چابک سے ہانکے جانے والے، قومی اور ملکی مصلحتوں کے بجائے ذاتی اور خاندانی منفعتوں کے گردابِ رذالت میں گھرے ہوئے۔ ایسے کاروباری لالچی افراد اقتدار سے چمٹے ہوں تو زمین اپنے باسیوں پر اسی طرح تنگ ہوتی ہے جس طرح آج پاکستانیوں پر ہو رہی ہے۔
قصور کا واقعہ، جس میں سینکڑوں معصوم بچوں اور خواتین کی زندگیاں پامال کی گئیں، پاکستان کے ماتھے پر وہ بدنما داغ لگا گیا کہ قیامت تک نہ دھل پائے گا۔ دنیا بھر میں ایسی کھلی بربریت کی کوئی انسانیت سوز مثال نہیں ملتی۔اس واقعے میں بھی مسلم لیگ ن ہی کے ایک وزیر کا نام آیا کہ وہ مجرموں کی سرپرستی کرتے رہے ہیں اور اتنے عرصے تک انہوں نے پولیس کو مجرموں کے خلاف کارروائی سے روکے رکھا۔ ادھر معصوموں کی زندگیاں پائمال ہوتی رہیں، عزتیں اور مال لٹتے رہے اور ادھر مسلم لیگ ن کے اس وزیر نے قانون کو اپنے انگوٹھے کے نیچے دبائے رکھا، شاید اپنا حصہ لے کر۔ گزشتہ روز پھر ایک ایسا واقعہ رونما ہوا ہے جس میں ایک 14سالہ معصوم طالبہ کو لاہور میں ایک ہوٹل میں رکھ کر کئی روز تک درندگی کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ ایک نہیں، کئی درندے اس معصوم کو نوچتے بھنبھوڑتے رہے۔اور اس واقعے کے پیچھے بھی مسلم لیگ ن ہی کے ایک وزیر کا نام آ رہا ہے۔ ’’مجرم‘‘ کی تصاویر میڈیا پر دیکھ کر حیرت سے آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ میاں نواز شریف، میاں شہباز شریف، رانا مشہود، غرض کون سا مسلم لیگ کا رہنماء تھا جس کے ساتھ اس درندہ صفت انسان کی تصویر موجود نہ تھی۔
قصور کے واقعے کے بعد کیا ہوا؟ اور اس بیچاری طالبہ کا کیا ہو سکے گا؟؟دونوں سوالوں کا ایک ہی جواب ہے، ’’کچھ نہیں۔‘‘قصور کا واقعہ ہوا، میڈیا نے دو چار دن تک ماتم کیا، سیاستدانوں نے دعوے کیے، مجرموں کا پشت پناہ وزیر کچھ دن کے لیے خاموش ہو گیا۔ میڈیا کو نئی سٹوری ملی، وہ قصور کے واقعے کو بھول گیا، ساتھ ہی سیاستدان اپنے دعوے بھول گئے، مجرموں کا پشت پناہ جو خاموش ہو چکا تھا اس نے پس پردہ اپنی پشت پناہی سرگرم کر دی اور حالات ایسے ہو گئے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔ ایسا واقعہ کسی مہذب ملک میں ہوا ہوتا تو قیامت بپا ہو جاتی۔ یہاں ایک تنکا تک نہیں ہلا۔ جہاں تین سو کے قریب معصوموں کی عزتوں اور خون پسینے کی کمائی کی یہ وقعت ہے وہاں اس ایک بیچاری طالبہ کی اوقات ہی کیا ہے۔ہر ایک رطب اللسان ہے کہ ہمارے حکمران کرپٹ، مفاد پرست اور ذاتی منفعت کے لیے حکومت میں آتے ہیں۔ مگر یہ کوئی نہیں کہتا ہے کہ ہمارا میڈیا بھی صرف وہی دکھاتا ہے جو ’’اِن‘‘ ہے اور بک رہا ہے۔ کوئی یہ بھی نہیں کہتا کہ ہمارے عوام اس قدر خودغرض، مفادپرست، لالچی اور سرد مہر ہیں کہ کسی دوسرے پر پڑنے والی افتاد کو دو دن سے زیادہ یاد بھی نہیں رکھ سکتے، اس پر ماتم کناں ہونا تو دور کی بات۔آپ نے میڈیا کے ایک دن ’بین‘‘ سن لیے جو اس نے لاہور کی اس طالبہ کی زندگی مسلے جانے پر کیے۔ سوشل میڈیا پر بیٹھے عوام کی دردمندی بھی آپ نے ایک دن کے لیے ملاحظہ فرما لی۔ اب جس دن یہ میڈیا اور عوام اس واقعے پر دوبارہ کوئی بات کریں، اس واقعے کو یاد کریں، اس دن مجھے ضرور بتائیے گا۔
یہ ایک طالبہ نہیں ہے، ایسی سینکڑوں ہیں جو ان سیاستدانوں اور حکمرانوں کے پالتو کتوں کے ہاتھوں پائمال ہو رہی ہیں، مگر اس ایک کا کیس کسی طرح منظر عام پر آ گیا۔ یہ سب اس وقت تک جاری رہے گا جب تک اس ملک کے عوام ذاتی مفاد پرستی اور خودغرضی ترک نہیں کر دیتے۔ جب عوام نے اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کا خیال رکھنا شروع کر دیا، دوسروں کا درد پالنا شروع کر دیا اس دن اس ملک کے حکمران بھی کسی اور طرح کے ہوں گے۔میں مایوسیت پھیلانے والوں میں سے نہیں ہوں مگر حقیقت پسندی بھی کوئی چیز ہے۔مجھے نظر نہیں آ رہا کہ اس حوا کی بیٹی کو بھی اس ملک میں انصاف مل پائے گا۔ اس کا کیس بھی قصور کے معصوموں کی طرح کسی عدالت میں اس وقت تک چلتا رہے گا جب تک یہ ہمت نہ ہار جائے، یا پھر ملزموں سے کوئی سمجھوتہ کرنے پر مجبور نہ ہو جائے۔ اس کے سوا کچھ نہیں ہونے والا۔