- الإعلانات -

عدنان سمیع خان اور دھوبی کا کُتا

بھارت نے پاکستانی گلوکار عدنان سمیع خان کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بھارتی شہریت دیدی ہے ،بھارت نے اسی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہی عدنان سمیع پر شرط عائد کی تھی کہ پہلے پاکستانی پاسپورٹ منسوخ کرایا جائے اس کے بعد عدنان سمیع کو بھارتی شہریت سے نوازا جاسکتا ہے یہی وجہ تھی کہ چند ماہ قبل عدنان سمیع خان نے پاکستانی حکومت سے اپنے پاسپورٹ کی منسوخی کیلئے باضابطہ درخواست دی تھی جس پر وفاقی وزیر داخلہ نے بیان دیا تھا کہ فیصلہ قانون کے مطابق کیا جائے گا ۔ عدنان سمیع خان 15 اگست 1973ء کو برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں پیدا ہوئے ۔ عدنان سمیع کے والد نے اپنا کیریئر پاکستان ایئرفورس سے شروع کیا اور پھر پاکستانی سفیر کے طورپر 14ممالک میں خدمات سرانجام دیں ۔ عدنان سمیع کے دادا جنرل محفوظ جان افغانستان کے 4 صوبوں ہرات ، کابل ، جلال آباد اور بلخ کے گورنر رہے انکے قتل کے بعد عدنان سمیع کی فیملی پشاور منتقل ہوگئی ۔ یاد رہے کہ عدنان سمیع خان کے پڑدادا جنرل احمد جان کنگ عبدالرحمن خان کے نام نورستان رکھ دیاتھا۔ عدنان سمیع خان کے والد پاکستانی جبکہ والدہ بھارتی کشمیری خاتون ہیں۔ عدنان سمیع کی فیملی اسوقت امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ہوسٹن میں مقیم ہے۔ عدنان سمیع خان نے اپنی ابتدائی تعلیم برطانیہ میں اگبی سکول سے حاصل کی انہوں نے یونیورسٹی آف لندن سے جرنلزم اور پولیٹیکل سائنسز میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی اور لاء کی تعلیم کنگ کالج لندن سے حاصل کی ۔ عدنان سمیع کو شروع سے ہی میوزک سے انتہائی لگاؤ تھا ۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے بیرسٹر بننے کے بجائے گلوکاری کے شعبہ کو اپنے کیریئر کے لئے چنا ۔ عدنان سمیع ابتدائی تعلیم کے دوران بھارت جایا کرتے تھے جہاں پر انہوں نے پنڈت شیو کمار سے میوزک کی ابتدائی گُر سیکھے ۔ عدنان سمیع 9سال کی عمر میں الیکٹرانک پیانو پر کلاسیکل میوزک بجانے والے دنیا کے پہلے میوزیشن ہیں۔ 10 سال کی عمر میں وہ بھارتی گلوکارہ آشا بھوسلے سے ملاقات ہوئی ،16 سال کی عمر میں پہلا گانا لکھنے اور گانے پر یونیسف کی جانب سے ایوارڈ حاصل کیا ۔ عدنان سمیع نے تین شادیاں کی ، پہلی شادی اپنے سے 8 سال بڑی عمر کی پاکستانی اداکارہ و ہدایتکارہ زیبا بختیار سے 1996 میں کی جو کہ محض ایک سال ہی چل سکی ۔ اس شادی میں عدنان سمیع اور زیبا بختیار کاایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام آزان سمیع خان ہے گزشتہ سال 7 اگست کو انکی شادی بھی ہوچکی ہے عدنان سمیع خان نے دوسری شادی 2001 ء میں صباح گلادری سے کی جو کہ 8 سال چلی اور 2009ء میں علیحدگی ہوگئی اس کے بعد عدنان سمیع نے 2010 ء میں ردیا فریابی سے تیسری شادی کی جو کہ ابھی تک قائم ہے ۔ عدنان سمیع خان کی دنیا بھر میں وجہ شہرت پاکستانی فلم ’’سرگم‘‘بنی جس میں عدنان سمیع خان نے آشا بھوسلے کے ساتھ گلوکاری کے جوجوہر دکھائے جبکہ سرگم میں ہی بطور ہیرو ادکاری کی انکے ساتھ انکی پہلی بیوی زیبا بختیار بطورہیروئن تھیں ۔ اس فلم کے بعد قسمت عدنان پر مہربان ہوگئی اورعدنان سمیع خان کے حصے میں کامیابیاں آتی چلی گئیں لیکن پھر اپنے بیٹے اذان کے حوالے سے انہوں نے من گھڑت تحفظات گھڑنا شروع کردئیے اورپاکستان کیخلاف بولنا شروع کیا ۔ عدنان سمیع خان بلا شبہ اچھے گلوکار اور اچھے کمپوزر ہیں لیکن وہ ہرگزبھی اچھے شہری نہیں بن پائے ۔ پاکستان میں بھی وہ پاکستانی قوانین کی خلاف ورزی کرچکے ہیں جبکہ بھارت میں بھی انہیں قوانین کی خلاف ورزی پر جائیداد کی ضبطگی کا سامنا کرنا پڑا ۔ عدنان سمیع خان شہرت اور دولت کے نشے میں یہ بھول گئے کہ اپنی پہچان کبھی ختم نہیں ہوتی وہ پاکستانی ہیں اور تادم مرگ پاکستانی ہی رہیں گے ہاں یہ بات الگ ہے کہ اپنے پیارے وطن کی شہریت ختم کرکے لکھنے پڑھنے میں انکے پاکستانی ہونے کا ذکر قصہ پارینہ بن چکا اب لکھنے پڑھنے میں پاکستان کا نام انکے ماضی سے منسوب یاداشتوں کے ساتھ آئے گا ۔ بطور پاکستانی مجھے اس وقت بہت دکھ ہوا جب یہ خبر میرے کانوں میں پڑی کہ عدنان سمیع خان نے اپنی پاکستانی شہریت کے خاتمے کیلئے درخواست پاکستانی وزارت خارجہ میں دائر کردی ہے جو برا بھلا کہا جاسکتا تھا وہ کہہ دیا جو کہ ایک فطری عمل ہے تاہم دولت اور شہرت کی حوس کے پجاریوں کو اخلاقیات کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے کیونکہ ان فیصلوں کے دوررس نتائج برآمد ہوئے ہیں عدنان سمیع نے 3 ہی شادیاں کی اور تین ملکوں میں رہے۔ تیسری شادی بھارت کے ساتھ ان دنوں چل رہی ہے اور وہ دولت اور شہرت کے نشے میں گم ہیں ان پر جب بھارتی انتہا پسندی کی سوچ مسلط ہونا شرع ہوگی تو انکے سر یہ خمار اترنا شروع ہوگا ۔ اگر عدنان سمیع یہ سوچ رہے ہیں کہ انکی عزت اور وقار مجروح ہوئے بغیر بھارت میں شہریت برقرار رہے گی تو یہ انکی خام خیالی ہے جس قوم نے چند الفاظ بولنے پرعامر خان کی عزت مٹی میں ملانے کی کوشش کی ، سلمان خان ، شارخ خان پر کیا بیتی وہ بھی ہم سب کے سامنے ہے۔ ہاں اگر عدنان سمیع اپنی انا اور عزت کو پس پشت ڈال کر بھارت میں رہتے ہیں تو پھر تو کوئی مسئلہ نہیں ہاں اگر عدنان سمیع خان اپنی انٹیگریٹی برقرار رکھتے ہوئے بھارت میں گلوکاری کرینگے تو پھر یہ مثال ضرور سچ ثابت ہوگی کہ دھوبی کا کُتا گھر کا رہا نہ گھاٹ کا‘‘۔