- الإعلانات -

معا شرے کو خیر محمد کاکاجیسے لوگوں کی ضرورت

انسان بنیادی طو ر پر مفاد پرست اور خود غرض ہے ۔ دنیاکے رو زگار کو چلانے کے لئے کسی حد تک خو د غر ضی ضروری ہے، مگر بد قسمتی یہ ہے کہ بسا اوقات ہم اتنے خود غرض ہو جاتے ہیں کہ ہم سب کچھ بھول جاتے ہیں۔ حضور ﷺ کا رشاد ہے کہ مسلمان وہ ہے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے وہ دوسروں کے لئے بھی پسند کرتا ہے۔مگر بد قسمتی سے ہم اپنے لئے جو پسند کرتے ہیں وہ دوسروں کے لئے پسند نہیں کرتے اور یہی وجہ ہے کہ انتہائی خود غر ضی، لالچ بے انصا فی اور ما دہ پر ستی کی وجہ سے ہم سب کچھ بھول کر دوسرے کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے ، انکو غصب کرنے اور انصاف سے کام نہیں لیتے نتیجتاً ہم بے تحا شا مسائل پیدا کرتے ہیں اور بعض اوقات ہمارے پیدا کر دہ مسائل اتنی شدت اختیار کر تے ہیں کہ ہم دوسروں کی جان و مال کو نُقصان دینے کی کوشش کرتے ہیں ، جسکی وجہ سے جھگڑے اور فساد شروع ہو جاتے ہیں اور بسا اوقات یہی جھگڑے بر بادی ، قتل و عارت اور دوسرے سماجی، معا شرتی مسائل کا پیش خیمہ بنتے ہیں۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ نہ تو ہم خدا سے ڈرتے اور نہ روز قیامت اور آخرت کے دن پر یقین رکھتے ہیں۔اگر ہم ایک سوچ اپنالیں کہ ہم نے مرنا ہے اور ہم نے اللہ کے حضورپیش ہو نا ہے تو میرے خیال میں ایک انسان سے گناہ صعیرہ تو سر زد ہو سکتا ہے مگر وہ گناہ کبیرہ سے پہلے ۱۰۰ دفعہ سوچے گا ۔مگر بد قسمتی سے نہ تو ہم اللہ سے ڈرتے اور خوف خدا رکھتے ہیں اور نہ رو زقیامت سے۔ جسکا نتیجہ یہ ہے کہ ہم اپنے یا ر دو ستوں عزیزوں اور رشتہ داروں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالتے ہیں ،جسکی وجہ سے آئے دن جھگڑے ، فتنے فساد اور قتل و عارت ہو تی رہتی ہے۔ اسلام اور مذہب سے دوری اور مادہ پر ستی کی بے انتہا رُ حجان ، خود غر ضی اور لالچ کی وجہ سے ہم صحیح اور غلط میں تمیز نہیں کر تے۔ جسکی وجہ سے بے تحا شا مسائل ہوتے ہیں۔خداوند لا عزال کا کرم احسان ہے کہ دنیا میں اب بھی اللہ کے ایسے بندے ہیں جو لوگوں کے مالی خاندانی تنا زعات ، تکالیف اور جھگڑوں کی صورت میں اللہ کی خو شنو دی اور رضا کے لئے فی سبیل اللہ کام کر تے ہیں۔ وہ ہر صورت اللہ کے بندوں کے درمیان مسائل اور تنا زعات کو حل کر نے کے لئے کو شاں ہو تے ہیں اور اس قسم کے لوگوں میں ایک نام صوابی خا ص محلہ معظم خیل کے خدائی خدمت گار خیر مخمد کاکا کابھی ہے۔ خیبر پختون خوامیں لوگوں کے تنا زعات کو حل کر نے اور اسکو خیر تک پہنچانے میں بہُت سارے لوگ سر گرم عمل ہیں اور ہر ایک اللہ اور رسول کے نزدیک اس کا ر خیر میں شریک ہیں۔ مگر اس میں خیر محمد کاکا کا کر دارنہا یت اہم ہے۔خیر محمد کاکا انتہائی دھیمے نرم مزاج ، خدا ترس، معاملہ فہم،دور اندیش، انصاف پسند ، اللہ کا خوف کرنے والے، پختون اور پاکستان کے دوسرے علاقوں کے کلچر ،رسومات، تہذیب اور روایات کوپہچاننے والے ہیں۔گو کہ خیر محمد کاکا زیادہ پڑھے لکھے نہیں اُنہوں نے گو رنمنٹ ہائی سکول صوابی سے میٹرک کا امتحان پاس کیا ہے مگر اللہ تعالی نے خیر محمد کو کو ایسا لہجہ اور اخلاق دیا ہوا ہے کہ وہ پتھر کو موم اور کسی کو قائل کر سکتے ہیں۔انکی خوش اخلا قی، اعلی ظرفی، نرم مزا جی وطن عزیز کی روایات سے شناسائی کی وجہ سے اس مو صوف نے انتہائی پیچیدہ پیچیدہ زمینوں، قتل، اور دوسرے سنگین جرائم کے کیسزز اللہ اور اسکے رسول کی خو شنودی ، مزید خوب خون خرابے کو روکنے اورآئندہ نسلوں کو تباہی اور بربادی سے بچانے کے لئے حل کئے۔ اور ایک اندازے کے مطابق اب تک خیر محمد کاکا مختلف جر گوں کے ذریعے ہزاروں پیچیدہ مختلف کیسز کا تصفیہ پُر امن طریقے سے کر چکے ہیں۔ گو کہ خیر محمد کاکا نے پبلک ریلیشننگ،ڈپلومیسی، معاملہ فہمی اور سفارت کاری میں کوئی باقا عدہ تعلیم حا صل نہیں کی، مگر مندر جہ بالا فنون کو جاننے کے لئے جو لوازمات چاہئے وہ اللہ تعالی نے خیر محمد کاکا کی شخصیت کو فطری طو ر پر ددیعت کی ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ خیبر پختون خوا اور با لخصوص ضلع صوابی ، مر دان اور چا سدے میں بڑے بڑے تنا زعات جس سے بُہت خون خرابہ ہو سکتا تھا خیر محمد کاکا کی ذاتی کو ششوں اور محنت کی وجہ سے حل ہو ئے ہیں۔ویسے خیر محمد کاکا اگر یو رپ یا دوسرے مغربی ملک میں ہو تے تو اُسکو اگر بڑا انعام نہ دیا جاتا تو کم از کم پرائڈ آف پر فامنسس ضرور دیا جاتا ۔ انکی ایک خصو صیت یہ بھی ہے کہ جو بھی اس سے ایک دفعہ مل لیتاہے اُس کا ہوکے رہ جاتا ہے۔ اس کالم کے تو سط سے میری وزیر اعلی خیبر پختون خواسے استد عا ہے کہ وہ خیر محمد کاکا کو مختلف جر گوں کے ذریعے عام لوگوں کی مختلف تنا زعات کو فی سبیل اللہ حل کرنے پر انکی حو صلہ افزائی کریں اور صوبائی حکومت کی طر ف سے انکی بہترین کارکر دگی پر خصو صی ایوارڈ دئے جائیں تاکہ انکی حو صلہ افزائی ہو۔ با الفا ظ دیگر میں خیر محمد کو کسنجر اور آغا شاہی سے تشبیہ دوں گا، کیونکہ کہا جا تا ہے کہ یہ دونوں انتہائی اچھے ڈیپلومیٹ تھے اور اسی طر ح مثال خیر محمد کاکا کی بھی ہے۔ اگر دنیا کی ۱۰۰ ایجادات دنیا کے کم پڑھ ے لکھے لوگ کر سکتے ہیں تو کیا میٹر ک پاس خیر محمد کاکا کو اُنکی اچھی کا ر کر دگی پر ہم اُسکو بڑے بڑے سفارت کار اور ڈپلومیٹ سے تشبیہ نہیں دے سکتے۔ بہر حال یہ ہماری دلی دعا ہے کہ خداوند لا عزال ملک اور با لخصو ص خیبر پختون خوا میں باہمی تنا زعات کو حل کرنے کے لئے خیر محمد کا کا کو مزید عمر، جذبہ اور حو صلہ دیں، اور معا شرے میں ایسے مزید انسان پیدا ہوں تاکہ یہ ملک محبت ،امن اور اخوت کا گہوارہ بن جائے۔ہما ری خوش قسمتی ہے کہ خیر محمد کی طر ح ہمارے دوسرے اور بھائی بھی ہیں جو انسانی خدمت کے جذبے سے سر شار ہیں ،اور کو شش کرنی چاہئے کہ ہم اس قسم کے جرگہ مار اوراچھے لوگوں کی حو صلہ افزائی کر لیں جو فی سبیہل اللہ ، اللہ کے خوش نود ی کے لئے لوگوں کے تنا زعات حل کرکے حکومت کے مسائل کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ حال ہی میں میری ملاقات خیر محمد کاکا کے ساتھ ہوئی ۔ اُنکا کہنا تھا بیشک حکومت مُجھے ایوارڈ دیں یا نہ دیں میں اللہ تعالی کی خو ش نو دی اور رضا مندی کے لئے لوگوں کی خدمت کرتا رہوں گا۔ اللہ تعالی میرے اس عمل خوش ہوں۔ اور مُجھے مزید تو فیق دیں کہ میں لوگوں کی مزید خدمت کر سکوں۔ خیبر پختون خوا کے لوگ میری جتنی عزت کرتے ہیں یہ میرے لئے ایک بُہت بڑے ایوار ڈ سے کم نہیں۔وہ ان نیک کاموں کو سر انجام دینے کے لئے اپنی جیب سے پیسے خرچ کرتا ہے اور یہاں تک کہ کسی کے گھر ایک گلاس پانی اور ایک چائے کے کپ کو بھی ہاتھ نہیں لگا تا۔