- الإعلانات -

سیکولرپاکستان یا آپ کی غیرانسانی خواہشات کااحترام؟

گزشتہ دنوں ہمارے ایک ’’سینئر‘‘ صحافی نے اپنے کالم میں ’’فرمائش‘‘ کی کہ ’’پاکستان میں شراب نوشی اور فروشی کی اجازت ہونی چاہیے۔‘‘ انہوں نے مختلف شہروں کے نام لے کر یہ بھی فرمائش کی کہ ’’فلاں فلاں شہروں میں حسن کے بازار قائم کیے جانے چاہئیں اور اس مکروہ دھندے کو قانونی اجازت دی جانی چاہیے۔‘‘ اس طرح کے لوگ کتنی آسانی سے ایسی گھٹیا باتیں کر جاتے ہیں، احساس سے عاری لوگ۔ کیا یہ لوگ بالواسطہ یہ نہیں کہہ رہے ہوتے کہ ملک میں بے راہ روی کو فروغ ملنا چاہیے، اس لیے کہ غریب کی بیٹی سرعام بکے اور ان جیسے اشرافیہ کے ہوس پرست اسے خرید سکیں؟حیرت ہوتی ہے ان لوگوں پر جو ایسے لوگوں کو پڑھتے ہیں اور اس سے بڑھ کر حیرت ہوتی ہے ایسے اداروں، ان کے مالکان اور ان میں بیٹھے ’’سینئر‘‘ صحافیوں پر جو ان کی اس طرح کی لغویات کو شائع کرتے ہیں۔ اپنی غیرانسانی خواہشات کو صحافت کا لبادہ پہنا کر لوگوں کے سامنے پیش کرنے والے ان لوگوں کی بے دلیل باتوں پر حیرت ہوتی ہے۔ کئی یہ لوگ فرمائش کر چکے ہیں کہ تعلیمی نصاب جنسی تعلیم بھی شامل کی جانی چاہیے۔ کون ان کو بتائے کہ فطری اعمال سیکھنے کی چیز نہیں ہوتے۔ کتے کس سکول سے سیکھتے ہیں کہ افزائش نسل کس طرح کی جاتی ہے؟ جانور بھی کہیں سے سیکھے بغیر فطری طور اپنی افزائش نسل کرتے آ رہے ہیں تو کیا یہ لوگ ان کتوں سے بھی بدتر ہیں کہ انہیں یہ ’’علم‘‘ سیکھنے کی ضرورت ہے؟ یہ پوری قوم کا ٹھیکہ لینے کی بجائے گھر پر صرف اپنے بچوں کو ہی کیوں نہیں سکھا دیتے، انہیں ضرورت ہو گی ، اسی لیے تو شاید یہ لوگ ایسا مطالبہ کرتے ہیں۔حضرت آدم ؑ سے حضرت انسان اپنی افزائش نسل کرتا آ رہا ہے اور لاکھوں سال گزار کر آج یہاں تک آ پہنچا ہے۔ مگر آج آ کر یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اس ملک کے بچوں کو افزائش نسل کے طریقے سکھائے جائیں۔قحبہ خانے کھولے جائیں۔ بے حیائی عام کی جائے۔ تف ہے ایسی سوچ پر اور ایسے لبرل ازم اور سیکولرازم پر ۔میں ان سے پوچھتا ہوں کہ چلو ہم قحبہ خانوں کو قانونی حیثیت دے دیتے ہیں، تو کیا تم ’’مالِ فروخت‘‘ کی فراہمی میں شراکت داری کرو گے؟ بھئی آپ کی فرمائش ہے تو ان قحبہ خانوں میں کسی غریب و بے کس کی بیٹی کیوں بکے، یہ ذمہ داری بھی آپ ہی کو اٹھانی ہو گی۔پھر ہمیں بھی کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔لیکن اگر یہاں مجبور و بے کس و فاقہ مست عورتوں کی ناقدری ہی کی جانی ہے تو پھر ہمیں کسی صورت قبول نہیں۔اگر غریبوں کی بیٹیاں اغواء کرکے یہاں فروخت کی جانی ہیں تو ہمیں کسی صورت قبول نہیں۔ اگر آپ جیسے اشرافیہ کے کل پرزے غریبوں کی عزت کی قیمت لگا کر اپنی تسکین طبع چاہتے ہیں ، اپنی عیاشی کا سامان کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں کسی صورت قبول نہیں۔
حق تو یہ تھا کہ تم جیسے بااثر لوگ ان لٹتی پٹتی بے کس عورتوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتے، انہیں اس ذلت کی دلدل سے نکالنے کے لیے اقدامات کرتے، حکومت پر دباؤ ڈالتے، خود حصہ ڈالتے اور ان لمحہ بہ لمحہ زندہ ہوتی اور مرتی عورتوں کو زندگی سے ہمکنار کرتے، عزت کی زندگی سے۔ مگر آپ تو اس ذلت کی دلدل کو قانونی حیثیت دلوانے چل پڑے۔ یہ کیسا سیکولرازم ہے؟ یہ کیسا لبرل ازم ہے؟پاکستان کو معرضِ وجود میں آئے 68سال بیت گئے مگر آج تک وطن عزیز میں یہ بحث جاری ہے کہ ملک کو اسلامی ریاست بنانا ہے یا لبرل اور سیکولر؟میں سمجھتا ہوں کہ یہ بحث ہی فضول ہے۔ جو لوگ اسلامی پاکستان کے حامی ہیں وہ بیکار میں ان لوگوں کو جواب دیتے ہیں اور اپنا وقت ضائع کرتے ہیں۔ یہ سوال اسی وقت ختم ہو گیا تھا جب علامہ اقبالؒ نے خواب دیکھا تھا کہ ’’مسلمانوں‘‘ کا اپنا ایک الگ ملک ہونا چاہیے۔ یہ سوال اسی وقت ختم ہو گیا تھا جب قائداعظمؒ نے فرمایا تھا کہ ہم پاکستان کو اسلام کے اصولوں کی تجربہ گاہ بنانا چاہتے ہیں۔انہوں نے واضح طور پر کہہ دیا تھا کہ ہمارا آئین آج سے 1300سال قبل آ چکا ہے جو پاکستان میں نافذ کیا جائے گا۔ 1973ء کے آئین میں واضح طور پر لکھا ہے کہ بتدریج ملک میں شرعی قوانین نافذ کیے جائیں گے۔ اس سب کے بعد اس سوال کا کیا جواز رہ جاتا ہے کہ ملک کو اسلامی بنانا ہے یا سیکولر؟
ہم نہیں چاہتے کہ آپ لوگوں کے ہاتھ کاٹو۔ ہم نہیں چاہتے کہ تلوار ہی سے لوگوں کے سرقلم کرو۔ آپ انگریز ہی کے طریقے پر عمل پیرا رہو اور پھانسیوں سے لوگوں کے مہرے توڑتے رہو۔ ہم صرف اتنا چاہتے ہیں کہ اس ملک کی بیٹیوں کی عزت سے کھیلنے کی بات مت کرو، کسی بھی بیٹی کی۔ خواہ وہ آپ کے گھر میں بیٹھی ہو، خواہ وہ میرے گھر میں بیٹھی ہو، خواہ وہ اس ذلت کی دلدل میں دھنسی ہوئی ہو۔ آپ اگر کچھ کر سکتے ہو تو وطن کی ان بیٹیوں کو اس دلدل سے نکالنے کا اہتمام کرو، یہ نہیں کر سکتے تو اپنی زبان بند رکھو۔ یہاں آپ کی غیرانسانی خواہشات کا احترام نہیں کیا جائے گا۔