- الإعلانات -

اورنج یالعل ٹرین

چین اورنج ٹرین کے لیے 162ارب روپے کا آسان شرائط پر قرض دے گا! لاہور میں اورنج ٹرین منصوبہ چین کی مالی ۔تکنیکی امداد سے شروع ہونے والا یہ منصوبہ 28ماہ میں مکمل ہونا ہے۔ مگر اس منصوبے کو 24ماہ میں مکمل کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ خبر کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب کو چائینی قیادت پاکستان میں مین آف ایکشن کے طورپرجانتی ہے۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام کیلئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایگزام بنک پنجاب کو آسان شرائط پر یہ قرض دے رہا ہے۔ منصوبے کی تکمیل پر روزانہ 2-1/2لاکھ افراد اس ٹرین منصوبے سے مستفید ہوں گے بلکہ یہ تعداد وقت کے ساتھ بڑھتی رہے گی! انہوں نے منصوبے کی دستخطی تقریب میں فرمایا کہ یہ منصوبہ چینی قیادت کامیاں نوازشریف کی قیادت پر اعتماد کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس منصوبے پر لاکھوں لوگوں کو روزگار بھی میسر آئے گا! لوگوں کو سفری سہولتیں بھی میسر آئیں گی! اس طرح ان کا قیمتی وقت بھی ضائع ہونے سے بچے گا! یقیناََ 162ارب روپے کا یہ بہت بڑا منصوبہ ہے! یہ بڑی سرمایہ کاری ہے۔ اس کے بہت سے فوائد ہوں گے! بقول وزیر اعلیٰ صاحب پاکستان بھر کی عوام اس منصوبے سے مستفید ہوگی۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے اس تقریب میں دھرنے والوں کو بھی مورد الزام ٹھہرایا ہے کہ انھوں نے اس منصوبے کی منظوری میں رکاوٹ ڈالی ہے۔ دھرنے والوں نے دن رات سڑکوں پر جاگ ،سوکر گزارے! احتجا ج کرنے والے بڑے داد اور تحسین کے مستحق تھے جو گرمی اور سردی کے باوجود ان کے بقول ملک اور قوم کے مفاد کی خاطر در بدر رہے! اپنا آرام حرام کیا۔ جسمانی و ذہنی تکالیف برداشت کیں! بہرحال کچھ پانے کیلئے کچھ کھونا پڑتا ہے اور بعض لوگوں کیلئے وہی کام غلط اور بعض کیلئے وہی کام درست ہوتا ہے کہ جیسے ملک میں رشوت کا بازار گر م ہے، لوٹ مار ب بلا تفریق جار ی ہے! پٹواری سے لیکر کمشنر تک اور کلرک سے لیکر سیکرٹری تک ہر سرکاری ملازم رشوت تنخواہ کی طرح اپنا حق سمجھتا ہے۔ بلکہ ترقیاتی کاموں کے بلو ں کی منظوری کیلئے دستخط کرنے والے افسران کو ایک مخصوص حصہ بطور غنڈہ ٹیکس باضابطہ ادا کیا جاتا ہے۔ اور اگر کوئی کہے کہ ہر سرکاری افسر ہر کام میں اپنا ٹیکس وصول کرتا ہے تو غلط نہ ہوگا یہ بھی درست ہے کہ حصہ نہ لینے والے سرکاری ملازم کو بدتمیز ۔بدسلیقہ ۔ احمق ۔ بد ذوق جیسے الزامات لگا کر سرکاری اہلکار اور ناجائز کام کرنے والے افراد بدنا م کر تے رہتے ہیں۔ مجھے کسی پر تنقید کرنا اور اسے بد نام کرنا نہ ہے۔ یہ تو معاشر ے کی تصویر ہے۔ جو ہر کسی کو اب رت تو نظر اور سمجھ آنے لگی ہے۔ اور نج ٹرین سے بات شروع ہوئی کہ بیچ میں دھرنے والے آٹپکے۔ دھرنا سیاست ہماری مجبوری بن چکی ہے۔ کیونکہ کوئی بھی اپنا کام کرنے کو راضی نہ ہے۔ جس سرکاری دفتر جائیں اہلکار کسی فائل کو اگلی میز پر بھیجنے کیلئے راضی نہیں ہوتا ۔ اسی طرح ہر افسر بھی اپنا حصہ وصو ل کیے بغیر کسی کاکا م کرنے کیلئے راضی نہیں ہوتا! اس بیماری کا ایک ہی علاج دھر نا رہ گیا ہے۔ یوں اگر ہر سائل کا کام ہر ذمہ دار اپنی ذمہ داری سمجھ کر کرنا شروع کردے تو کسی کو تکلیف کیوں ہو؟ کسی کو پریشانی کیوں ہو؟ کوئی رشوت کیوں دے! اور اگر کوئی کسی جرم میں بے گناہ ملوث ہوجائے تو اسے پریشانی کیوں ہو؟ کیونکہ پولیس او ر عدالت کا کا م بے گناہ لوگوں کو انصاف فراہم کرنا ہوتا ہے مگر ہمارے معاشرے میں ذلیل و خوار تو بے گنا ہ اورحقدار ہوتا ہے ۔جو خود کو بے گناہ اور حقدا ر سمجھ کر انصاف مانگتا ہے اور مٹھی گر م کرنے والے بے گناہ کو گناہ گار اور سز اوار کرکے انصاف کا قتل کرتے ہیں ۔ جب تک اس بے گناہ کو گنہگار ور گنہگار کو بے گنا ہ کرنے کاسلسلہ چلتا رہے گا! دھرنا لگانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ کیونکہ اب الٹی گنگا کو روکنے کیلئے دھرنے بہت ضروری ہوگئے ہیں۔ میاں صاحب دھرنے رکاوٹ پیدا کرتے ہیں۔ دھرنے فساد پیدا کرتے ہیں۔ دھرنے مصیبت پیدا کرتے ہیں مگر رکاوٹوں فساد ، اور مصیبتوں سے بچنے کیلئے انصاف کی ضرورت ہے۔ انصاف نہیں ہوگاتو دھرنے ہوں گے! کیا لاہور ہی صرف پاکستا ن میں ہے کہ آپ جو کچھ بھی کرنا چاہتے ہیں لاہورمیں ۔ آئی ٹی پارک لاہور میں ۔ یونیورسٹیاں لاہور میں۔ میٹروبس لاہور میں۔ ہسپتالوں کی چین لاہور میں۔ اورنج ٹرین لاہور میں۔ ہرسہولت اور ہر مزہ لاہوریوں کیلئے تو پنجاب کے بقیہ علاقے صرف افسرا ن کی لوٹ مار کیلئے ہیں ۔ میاں صاحب ! جب تک ہر پنجابی کو لاہوریوں جیسا پروٹوکول نہیں ملے گا ۔ دھرنے چلتے رہیں گے اور پھر اورنج کی بجائے لعل ٹرین چل پڑے گی۔