- الإعلانات -

تخت ریشوڑہ

یہ تختِ بلقیس نہیں ہے بلکہ تخت ریشوڑہ دو مختلف دیہاتوں کے نام ہیں۔ ایک دیہات کا نام تخت ہے جبکہ دوسرے دیہات کا نام ریشوڑہ ہے۔ یہ دیہات قریب قریب واقع ہیں۔یہ ضلع میانوالی کے بلند ترین اور خوبصورت ترین دیہات ہیں۔تخت ریشوڑہ کے لوگ بڑے مہمان نواز ہیں۔صحافی تنویر عابد اور خاکسارتخت ریشوڑہ کے مکینوں کی خصوصی دعوت پراس علاقے میں گئے۔ڈاکٹر عثمان خان، کونسلرخان زمان ،سابق کونسلر خیال محمد، عبدالسعید اور حاجی رئیس خان وغیرہ بھی ہمراہ تھے۔ان احباب نے ہماری رہنمائی اور مدد کی۔تخت ریشوڑہ کالاباغ سے تقریباً تیس کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔کالاباغ سے شکردرہ روڈ پر کچہ بانگی خیل تک گئے اور پھر وہاں سے برساتی نالے میں سے ہوتے ہوئے ویسور (بیرے) گئے۔وہاں بیرے پر چند خواتین کو گدھوں پر پانی لاد کر دیکھا جو خرامہ خرامہ پہاڑ کی فراز کی طرف رواں دواں تھیں۔ان خواتین کے بارے پوچھا تو معلوم ہوا کہ یہ خواتین تقریباً پانچ چھ کلومیٹر کی مسافت پر ایک دیہات لکڑمیژہ جاررہی ہیں۔ ان خواتین کو پینے کا پانی لانے کیلئے بارہ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرناپڑتا ہے۔ اسی راستے پر دیکھا چند لڑکے اور لڑکیاں مویشیاں چرارہے تھے اور ساتھ ہی کھیل بھی رہے تھے۔جب ہم لکڑ میژہ پہنچے تو خوبصورت کھیت تھے اورخرمن بھی تھے۔لوگ اچھے اور ملنسار ہیں۔ بہت اخلاق اور ادب سے ملے۔لکڑمیژہ میں کوئی بھی پرائمری سکول نہیں تھا۔اسی گاؤں کے سکول کو کسی اور گاؤں میں شفٹ کیا گیا ہے۔ اب اس گاؤں کے بڑے لڑکے تقریباًآٹھ ،نو کلومیٹر دور سکول پڑھنے کے لئے جاتے ہیں۔لڑکے سکول ہی میں بستے چھوڑ آتے ہیں کیونکہ سکول کافی دور اور راستہ دشوار گذار ہے اور ایسے حالات میں بستے کا بوجھ اٹھا نا مشکل ہوتاہے۔ ہمارے آنے کی خبر ہوئی تو لکڑمیژہ کے کافی سارے چھوٹے بڑے بچے اکٹھے ہوئے۔ ہمارے ساتھ مصافہ کیا اور ہم سے سکول کا مطالبہ کرنے لگے۔ہم نے انہیں بتایا کہ ہم سکول نہیں دے سکتے البتہ آپ کا پیغام میڈیا کے ذریعے ارباب اختیار تک پہنچانے کی سعی کریں گے۔لکڑ میژہ میں نہ پانی، نہ بجلی، نہ صحت اور نہ ہی تعلیم کی کوئی سہولت موجود ہے۔اس گاؤں کے لئے سڑک نہیں ہے بلکہ ایک کچہ سا راستہ ہے۔لکڑ میژہ سے تقریباً نو کلومیٹر کے فاصلے پر تخت اور ریشوڑہ کے دیہات ہیں۔ بیرے (ویسور) اورتخت ریشوڑہ کے درمیان تقریباً چودہ کلومیٹر کا فاصلہ ہے اور اس فاصلے کو مقامی لوگ تین گھنٹے میں طے کرتے ہیں۔ بیرے اور تخت ریشوڑہ کے درمیان کہیں نشیب و فراز ہیں ۔ یہ راستہ کافی کھٹن اور دشوار گذار ہے۔حقیقت یہ ہے کہ یہ راستہ پاکستان تحریک انصاف کے چےئرمین عمران خان کی کاوش سے جاپان حکومت کی مالی تعاون سے بنایا گیا تھا۔ چونکہ یہ راستہ کچہ ہے، جب بھی بارش ہوتی ہے ، یہ راستہ بند ہوجاتا ہے اور یوں ان لوگوں کا باقی ضلع سے رابطہ منقطع ہوجاتا ہے اور اپنے دیہات میں مقید ہوجاتے ہیں ۔ ان دیہاتوں کی خواتین کو بہت سارے مسائل کا سامنا ہے۔۔زچہ بچہ کے دوران خواتین کو چارپائی پر اٹھا کر لایا جاتا ہے ۔اسی دوران بعض خواتین فانی دنیا سے رخصت ہوجاتی ہیں اور بعض اسی حالت میں بچہ کو جنم دیتی ہیں۔لڑکیوں کے لئے کوئی بھی سکول موجود نہیں ہے۔تخت ریشوڑہ میں ایک بوائز پرائمری سکول موجود ہے لیکن بلڈنگ کی حالت نہ گفتہ بہ ہے۔اس سکول میں دو ٹیچرز ہیں،ایک مقامی جبکہ ایک غیر مقامی ٹیچر تعینات ہے ۔بچوں کی کافی ساری تعداد ہے۔ گاؤں کی لڑکیاں بھی اسی بوائز پرائمری سکول میں تعلیم حاصل کرتی ہیں۔ اسی گاؤں کے لڑکے جماعت پنجم تک تعلیم حاصل کرتے ہیں اور تعلیم کو ادھوری چھوڑنے پر مجبوری ہیں۔بعض والدین بچوں کی تعلیم کے لئے اپنے علاقے سے ہجرت کرجاتے ہیں۔اس علاقے میں تعلیم کم ہونے کی باعث ان لوگوں کو ملازمت کے مواقع نہیں ملتے ہیں۔1985ء تک فوج اور دیگر فورسز میں ملازمت کر لیتے تھے لیکن جب سے ملازمت کیلئے تعلیم کی شرط عائد کی گئی ہے، تب سے اِن لوگوں کے لئے فوج اور دیگر فورسزمیں ملازمت کے دروازے بھی بند ہوگئے ہیں۔ اب اس علاقے میں بیروز گاری بہت زیادہ ہے۔ان لوگوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔لکڑ میژہ کی طرح تخت ریشوڑہ میں بھی نہ بجلی، نہ سڑک، نہ تعلیم اور نہ ہی صحت کی کوئی سہولت موجود ہے۔قارئین کرام!تخت ریشوڑہ کے علاقے کو پسماندہ اور محروم نہیں رکھنا چاہیے۔یہ جہاں صحت افزا مقام ہے ، وہاں معیشت کے لئے حوصلہ افزا مقام بھی ہے۔یہاں کے باشندے مویشیوں کو بڑے شوق سے پالتے ہیں۔اسی علاقے سے بڑی تعداد میں مویشیاں منڈیوں میں لائے جاسکتے ہیں۔جس سے ہمیں وافر مقدار میں گوشت اور دودھ وغیرہ مل سکتا ہے ۔حکومت کوچاہیے کہ وہ سب سے پہلے تخت ریشوڑہ تک پختہ سڑک بنائے۔ جب پختہ رابطہ سڑک بن جائے گی تو پھر سکول بھی آسانی سے بن جائیں گے اور صحت کے مراکز بھی بن جائیں گے۔پھر وہاں اساتذہ کرام اور ڈاکٹر بھی لوگوں کی خدمت کیلئے جاسکتے ہیں۔ پانی اور بجلی کا انتظام بھی ہوسکتا ہے۔حکومت کوچاہیے کہ اس علاقے کو ہارڈ ایریا قرار دے اور یہاں کے باسیوں کو ملازمت میں تعلیم کی شرط سے مستثیٰ قرار دے۔اسی طرح حکومت پنجاب کو چاہیے کہ ان پہاڑی علاقوں کے مقامی افراد کو ٹیچرز بھرتی کیے جائیں۔اگر یہاں گریجویٹ افراد موجود نہیں تو میٹرک پاس افراد اپنے ہی گاؤں میں ٹیچر بھرتی کریں۔مقامی افراد بہتر انداز سے پڑھالیں گے۔ پنجاب گورنمنٹ دیہی اور پہاڑی پسماندہ علاقوں میں جماعت پنجم اور ہشتم کا امتحان پنجاب ایگزامیشن کمیشن کی بجائے سکول کے اساتذہ خود امتحان لیا کریں یعنی داخلی امتحان کا نظام رائج کرے۔کیونکہ ایسے پسماندہ علاقوں کے بچے لاہور جیسے شہر کے بچوں سے مقابلہ نہیں کرسکتے ہیں اور نہ ہی ان کے پاس کوئی وسائل ہیں۔حکومت کو صرف بڑے شہروں تک ترقیاتی منصوبے محدود نہیں رکھنے چاہیے بلکہ ایسے انتہائی پسماندہ علاقوں کی طرف بھی خصوصی توجہ دینی چاہیے۔