- الإعلانات -

کیاداعش پاکستان میں ہے؟

گزشتہ دنوں پاکستان میں جس تعداد میں داعش سے وابستہ لوگ گرفتار ہوئے ہیں اور جتنے لوگوں کے شام جا کر داعش میں شمولیت کرنے کی خبریں آئی ہیں ان سے بظاہر لگ رہا ہے کہ داعش پاکستان میں قدم جمانے کی سرتوڑ کوششیں کر رہی ہے۔ یہ سن کر بدن پر لرزہ سا طاری ہو گیا کہ لاہور کی ایک خاتون داعش کے لیے نئے لوگ بھرتی کرتی رہی اور انہیں ساتھ لے کر شام جاتی رہی اور اب بھی خواتین سمیت 11افراد کو ساتھ لے کر شام جا چکی ہے۔اس کا شوہر ایف بی آر کا سینئر افسر تھا جو دہشت گردوں کو شہریوں کی معلومات فراہم کرتا رہا۔ اتنا کچھ ہوجانے کے بعد بھی محکمہ داخلہ کی طرف سے بیان آ گیا ہے کہ پاکستان میں داعش کا کوئی وجود نہیں ہے۔ کوئی پوچھے کہ اور کس طرح کا وجود محکمہ داخلہ کو درکار ہے؟ خاکم بدہن، جب داعش پاکستان کے کسی ایک حصے پر قبضہ کرکے اپنا جھنڈا لہرا دے گی، کیا اسی صورت میں اس کا پاکستان میں وجود تسلیم کیا جائے گا؟دو دن میں داعش سے وابستہ درجن سے زائد افراد کا گرفتار کیا جانا اور درجن بھر کے شام کے سفر پر روانہ ہونے کی خبرآنا پاکستان میں داعش کے موجود ہونے کا کافی ثبوت ہے۔ محکمہ داخلہ کو سچ بولنا چاہیے، کیونکہ ہماری سکیورٹی ایجنسیاں اپنا کام کر رہی ہیں اور بخوبی کر رہی ہیں۔ اور کم از کم میں تو ناامید نہیں ہوں۔ مجھے اپنی افواج پر بھروسہ ہے اور سبھی کو ہے۔ طالبان کی طرح داعش بھی بزدلوں کی طرح پیٹھ پر وار تو کر سکتی ہے مگر ارضِ پاک کا ایک انچ بھی اس کے قبضے میں چلا جائے گا، اس کا وہ خواب تو دیکھ سکتی ہے مگر اس کا یہ خواب کبھی پورا نہیں ہو پائے گا۔یہ شام ، عراق یا افغانستان نہیں ہے، یہ پاکستان ہے۔ وہ پاکستان جس کی افواج بڑی طاقتوں کو بھی دھول چٹانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔محکمہ داخلہ کو عوام سے سچ بولنا چاہیے، ان کے جھوٹ بولنے سے داعش کا وجود پاکستان سے مٹ نہیں جائے گا اور سچ بولنے سے اس فتنے میں اضافہ نہیں ہو جائے گا۔ قوم سے جھوٹ بولنے میں توانائی صرف کرنے کی بجائے محکمہ داخلہ کو اس فتنے کو روکنے میں اپنی توانائیاں صرف کرنی چاہئیں۔
ہمارے ہاں داعش جیسے فتنوں سے نمٹنے کے لیے اگر کسی میدان میں کمی و کوتاہی ہے تو وہ سیاست و حکومت کا میدان ہے۔ اگرچہ موجودہ حکومت ملک کو دہشت گردی سے پاک کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے اور اس پر سنجیدہ بھی ہے مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ اس حکومت پر بھی مفاہمت پسندی کا گہرا سایہ ہے۔ جب دہشت گردوں کی بات آتی ہے تو لامحالہ ان کے حامیوں اور مالی معاونوں کی بات بھی آتی ہے اور ایسے میں تانے بانے ہماری سیاسی جماعتوں سے جا ملتے ہیں۔ جب بات سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں تک پہنچتی ہے تو ہماری حکومت آگے بڑھنے کی بجائے پیچھے کی طرف کھینچتی نظر آتی ہے۔ اس کی خواہش ہوتی ہے کہ کسی طرح وہ اس کام سے بری الذمہ ہو جائیں اور فوج اور رینجرز اپنے تئیں یہ کام انجام دے دیں۔ یعنی کام بھی ہو جائے اور حکومت پر الزام بھی نہ آئے۔ لیکن اگر فوج اور رینجرز ایسا کرے گی تو سیدھا الزام ان پر جائے گا، جو کسی بھی طرح نیک شگون نہیں ہو گا۔ کچھ لوگ اسلام آباد میں موجود ہیں جو کھلے عام طالبان اور داعش کی محبت کا دم بھرتے ہیں اور ان کی سفاکیت کی مذمت کرنے سے بھی کھلے عام انکار کرتے ہیں، پاکستانی فوجیوں کو ہلاک اور مقابل دہشت گردوں کو شہید قرار دیتے ہیں، ان کی سرکوبی میں بھی پس و پیش سے کام لیا جا رہا ہے۔ حکومت کو یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ اسے دہشت گردوں کے حامیوں کی ناراضی مول لینی ہے یا ان کے ساتھ بنا کر رکھنی ہے اور مفاہمت پسندی کی پالیسی پر عمل پیرا رہنا ہے۔ یہ چور سپاہی کا کھیل حکومت کواب ترک کر دینا چاہیے کیونکہ طالبان تو تھے ہی مگر داعش کا فتنہ طالبان سے کہیں بڑا ہے اور اس کے سائے پاکستان پر گہرے ہو رہے ہیں۔اسے روکنے کے لیے ہمیں پیش بندیاں کرنی ہوں گی۔
اگرچہ دیکھا گیا ہے کہ اچھے اچھے پڑھے لکھے لوگ بھی داعش کے فتنے کا شکار ہو رہے ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ کمزور اور محروم طبقات داعش یا کسی بھی فتنہ گر تنظیم کے لیے بہترین ٹارگٹ ثابت ہوتے ہیں۔ حکومت کو ملک میں جاری آپریشن میں خلوص دکھانے کے ساتھ ساتھ ملک کے محروم طبقات کی محرومیاں دور کرنے کی بھی خلوص نیت سے کوشش کرنی ہو گی۔ ملک سے جہالت کے اندھیرے دور کرنے ہوں گے، ملک کے ایک ایک بچے پر تعلیم کے دروازے کھولنے ہوں گے۔ ملک سے ناانصافی کا خاتمہ اور عدل و انصاف کا بول بالا کرنا ہو گا۔ ملک کے ہر شہری کو روزگار کے یکساں مواقع فراہم کرکے بیروزگاری کا قلع قمع کرنا ہو گا۔یہ وہ چور دروازے ہیں جن سے دہشت گرد آتے ہیں اور شہریوں کی ہمدردیاں حاصل کرکے انہیں اپنے ساتھ ملاتے ہیں۔ یہ وہ کام ہیں جن سے عہدہ براہوئے بغیر دہشت گردی کے ناسور سے مستقل نجات کا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ اگر حکومت ان میدانوں میں کچھ نہیں کرتی اور فوج مسلسل آپریشنز کرتی چلی جاتی ہے تو اس کے آپریشن ملک میں مستقل امن کی نوید ثابت نہیں ہوسکتے۔ اس کے لیے ہمیں دہشت گردی کا بیج ختم کرنا ہو گا۔ وہ تمام چور دروازے بند کرنا ہوں گے۔ حکومت شہریوں کو دہشت گردی کی طرف راغب ہونے سے روکنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے اور فوج موجود دہشت گردوں کی سرکوبی کے لیے جدوجہد کرے۔ یہی صورت ہے کہ ملک میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔