- الإعلانات -

2015 میں کشمیریوں کے حقوق کی پامالی

ایک رپورٹ کے مطابق 2015ء کے دوران مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے مختلف واقعات میں 206 انسانی جانیں ضائع ہوئیں جبکہ متعدد افراد کو شدید اور جان لیوا چوٹیں آئیں۔رپورٹ میں کشمیر میں نابالغ افراد کو حاصل خصوصی حقوق کی پامالی، انسانی ہلاکتوں کے ضمن میں بے نتیجہ سرکاری تحقیقاتی کمیشنوں کے قیام، مزاحمتی قائدین، کارکنوں اور نہتے نوجوانوں کی گرفتاریوں ، بدنام زمانہ قانون پی ایس اے کے بلاجواز استعمال، عوام کش اسٹنٹ گرنیڈ کے استعمال کشمیر اور بھارت کی مختلف ریاستوں کی جیلوں میں سالہا سال سے مقید کشمیر نظربندوں کی حالت زار کا ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں حریت قیادت کو سفری دستاویزات کی عدم فراہمی اور ان کے حق سفر پر پابندی حراستی گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، کشمیری عوام کے مذہبی حقوق کی پامالی اور حقوق انسانی کے تحفظ کے حوالے سے ریاستی انسانی حقوق کمشن کی موجودہ ابتر صورت حال کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔
مقبوضہ وادی میں بھارتی فوجیوں نے گزشتہ ماہ دسمبرمیں ریاستی دہشت گردی کی جاری کارروائیوں کے دوران ایک خاتون اور بچے سمیت 13بے گناہ کشمیریوں کو شہید کیا۔ مقبوضہ علاقے میں بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی طرف سے گزشتہ ماہ پر امن مظاہرین پر طاقت کے وحشیانہ استعمال کے نتیجے میں126کشمیری شدید زخمی ہوئے جبکہ 235شہری ،جن میں اکثریت حریت رہنماؤں اور نوجوانوں کی تھی کو گرفتار کر لیا گیا۔
مقبوضہ کشمیر میں نئے سال کے آغاز پر افسوسناک واقعے میں 10 مزدور جاں بحق اور 4 شدید زخمی ہو گئے۔ مقبوضہ کشمیر کے ضلع رمبان کے علاقے دلواس کے چندر کوٹ کیمپ میں کنسڑکشن کمپنی کے کچھ ملازمین سو رہے تھے کہ شارٹ سرکٹ کے باعث آگ لگ گئی جس کے نتیجے میں دس مزدور بری طرح جھلسنے کے باعث جاں بحق جبکہ چار زخمی ہو گئے جن کی لوگوں کا سامان بھی جل کر خاکستر ہو گیا۔ دوسری جانب حریت کانفرنس (گ) نے ایمنسٹی انٹرنیشنل سے اپیل کی ہے کہ وہ بھارتی جیلوں میں قید کشمیریوں کی حالت زار کا سنجیدگی سے نوٹس لے اور انہیں درپیش مسائل کے ازالے کی کوشش کریں۔ حکومت سیاسی قیدیوں کے ساتھ اخلاقی مجرموں اور قاتلوں جیسا سلوک روا رکھ رہی ہے اور انہیں جیلوں کے اندر بھی انتقام گیری کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کے مظالم پر بھارت کا میڈیا بھی پھٹ پڑا اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں فوری بند کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ گزشتہ 25 سالوں سے کشمیری عوام بھارت کی حکومت اور فوج کے مظالم کا شکار ہیں۔ ملزم فوجیوں کو نشان عبرت نہ بنایا گیا تو ایک دن بھارت کشمیر سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔ جولائی 1990 میں کشمیر میں کالا قانون افسپا نافذ کیا گیا۔ افسپا کا کالا قانون مقبوضہ جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا باعث بن رہا ہے ، اس قانون کے باعث بھارتی فوجیوں کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ خواتین کی عصمت دری کریں یا نہتے کشمیریوں کو گولیوں سے اڑا دیں۔ ہندوستان ٹائمز نے بھارتی حکومت سے کہا ہے کہ مظالم کے بجائے کشمیریوں کے دل جیتنے اور انہیں انصاف دینے کی ضرورت ہے۔ خواتین کی عصمت دری اور نہتے کشمیریوں پر مظالم ڈھانے میں ملوث فوجی اہلکاروں کیخلاف کارروائی وقت کی ضرورت ہے۔ انصاف نہ ملنے کے باعث کشمیریوں میں بھارت کے خلاف نفرت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارتی حکومت اور مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی حکومت کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے شکار کشمیریوں کو انصاف فراہم کرنے کی راہ میں رکاوٹ قرار دے دیا۔ تنظیم نے بھارتی حکومت سے کہا ہے کہ جموں و کشمیر سے آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ (افسپا) کو واپس لیا جائے، یہ قانون انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں بالخصوص قتل، تشدد، آبروریزی اور اغوا کے واقعات کا باعث بن رہا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ افسپا کے علاوہ پبلک سیفٹی ایکٹ بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا باعث ہے، صرف 2014ء کے دوران اس قانون کے تحت 16329 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ریاستی حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ 1990ء کے بعد گزشتہ 21 سال کے دوران 43 ہزار افراد مارے گئے ان میں 13226 عام شہری تھے، دوران حراست 800 افراد کی موت واقع ہوئی۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے 2730 گمنام قبروں میں مدفون لوگوں کی ڈی این اے کے ذریعے شناخت کرنے کا مطالبہ کیا۔5 جولائی 2015ء کو مقبوضہ کشمیر میں افسپا کے نفاذ کو پچیس سال مکمل ہو جائینگے۔ افسپا کے تحت بھارتی فوجیوں کو مشتبہ شدت پسندوں کو گولی مارنے اور انہیں بغیر وارنٹ گرفتار کرنے کے اختیارات حاصل ہیں، قانون کے تحت وہ کسی اتھارٹی کو جوابدہ نہیں۔
بھارتی مظالم کشمیریوں کے جذبہ حریت کو دبا نہ سکے بلکہ حیریت انگیز امر ہے کہ جوں جوں ان مظالم میں اضافہ ہوتا چلا گیا کشمیریوں کا جذبہ آزادی اتنا ہی پروان چڑھتا چلا گیا۔ بھارتی حکومت نے کشمیریوں کی تحریک آزادی کو کچلنے کے لئے ہر حربہ آزما لیا مگر اس میں مکمل طور پر ناکام ہو گئی۔ پورے مقبوضہ کشمیر میں جا بجا بے گناہ کشمیریوں کے قبرستان دکھائی دیتے ہیں مگر لاکھوں قربانیاں دینے کے باوجود کشمیری آج بھی اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب بھارتی فوجی بے گناہ کشمیریوں پر طاقت کا وحشیانہ استعمال اور نوجوانوں کو گرفتار کر کے شہید نہ کرتی ہو۔ موجودہ مودی سرکار مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا مستقل حصہ بنانے اور کشمیریوں کی تحریک آزادی کو کچلنے کے لئے ہر حربہ آزما رہی ہے
گزشتہ دنوں لاکھوں کشمیریوں نے مودی سرکار کی اس سازش کو ناکام بنانے کیلئے ریلی نکالی جس میں انہوں نے پاکستانی پرچم لہرائے اور آزادی کے نعرے لگائے اور پوری دنیا پر واضح کر دیا کہ کشمیری آج بھی پاکستان کے ساتھ ہیں اور وہ کبھی بھارت کا حصہ بننے کیلئے تیار نہیں ہوں گے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستانی حکومت روایتی بیان بازیوں سے گریز کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو بھر پور طور پر عالمی سطح پر اٹھائے۔