- الإعلانات -

عمران خان ,شہرام ترکئی زر افشاں کے قاتل کون؟

زرافشاں۔۔ جیسا نام پیارا، اتنی بچی بھی حسین وجمیل۔ زر افشاں کے معنی ہیں سونے جیسی چمکدار ۔ زر افشاں، جس نے ابھی اپنی زندگی کی تین بہاریں بھی نہیں دیکھی تھیں ۔ تین بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی ، لا ڈلی اور خوبصورت اور حسین بچی تھی ۔ گھر کے لوگ اور محلے والے زرافشا ں کو پیار سے” خکلے "یعنی خوبصورت کہتے۔ زرافشاں کی تیسری سالگرہ 29 دسمبر کو ہونی تھی۔زر افشاں ،گو کہ عمر میں بُہت چھو ٹی تھی، مگر انتہائی حساس ، عقل مند اور ذہین بچی تھی۔ زرافشاں نے اپنی تیسری سا لگرہ منانے کے لئے کھانے پینے کی چیزوں اور کھلونوں کا اہتمام کیا تھا۔ 28 دسمبر کی شام کو زرافشا ں نے اپنے ہم عمر بچوں کے ہمراہ سا لگرہ کے لئے جمع کی ہوئی چیزوں کوپیاربھری معصومانہ نگاہوں سے دیکھ رہی تھی ۔ والدین اور بہن بھائی بھی زر افشاں کو دیکھ کر خوش ہو رہے تھے۔اپنے والد بشیر محمد کو کہہ رہی تھی ” ابو جی میری سالگرہ کے لئے کل بڑا کیک ضرور لانا”۔زرافشا ں ہر دلعزیز بچی تھی۔ وہ سارا دن محلے کے بچیوں کے ساتھ کھیل کھود میں مصروف ہوتی اور بڑوں سے ایسی ملتی جیسے یہ تین سال کی نہیں بلکہ10یا 15سال کی بچی ہے۔28 دسمبر کی رات کو بچی کو قے اور اُلٹی کی شکایت ہو ئی ۔ والدین بچی کو رات کو 2 بجے گو رنمنٹ ہسپتال صوابی لے گئے ،جو اُنکے رہائش سے دو فر لانگ کے فا صلے پر تھی ۔بچی کو (101109) او پی ڈی لے جایا گیا۔ بچی کی حالت اتنی زیادہ بگڑی نہیں تھی۔ڈیوٹی پر مو جود ڈاکٹر نے بچی کا معائنہ کیا اور دوائی تجویز کی۔سر دی حد سے زیادہ تھی اور بچی کو کمزوری اور قے کی وجہ سے سر دی لگ رہی تھی۔بچی با ر بار اپنی اماں کو کہتی رہی،” اماں جی مُجھے ٹھنڈ لگ رہی ہے، مُجھے چا در میں چھپاؤ”۔ڈاکٹر کے کمرے میں ہیٹر چل رہا تھا۔ زر افشاں کی والدہ نے عملے اور ڈاکٹر سے استد عا کی کہ بچی کو تھو ڑے سے وقت کے لئے گرم کمرے میں رہنے دیا جائے تاکہ بچی کی طبعیت کچھ سنبھل پائے۔ مگر بد قسمتی سے عملے اور ڈاکٹر نے نہ صرف والدہ کو ڈانٹا بلکہ سختی سے ہدایت کی کہ با ہر جائیں اور انجکشن لگانے کا انتظار کریں۔بچی کوڈاکٹر کے ہدایت کے مطابق ویلیمValium کا انجکشن انتہائی بے در دی سے لگوایا گیا۔ انجکشن لگانے کے بعد ڈاکٹر اور متعلقہ عملے نے بچی کے والدین کو کہا کہ اب گھر جائیں۔ انجکشن لگتے ہی بچی خا مو ش ہو گئی ۔ والدین یہ سمجھ پائے کہ بچی کو انجکشن کی وجہ سے آرام ہوا۔کچھ ٹائم بعد جب بد قسمت والدین نے بچی کو چیک کیا تو بچی کا سانس رُکا ہوا تھا۔ بد حواسی اور مصیبت کے عالم میں بچی کو دوبارہ) (101121ہسپتال لے جایا گیا ۔ ڈا کٹر نے بچی کا چیک اپ کیا ، آکسیجن لگا یا ، دوائی دی ،مگر کھیلتی کھو دتی اور مُسکراتی زرافشا ں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اپنے والدین ، بہن بھائیوں اور محلے کے بچوں کو چھوڑ کر اس دنیا کو چھوڑ چکی تھی۔ وہ اب دور جا چکی تھی ، بُہت دور، اتنی دور، کہ اب اُسنکی واپسی ہمیشہ کے لئے ناممکن تھی۔ زرافشا ں کے تیسرے سالگرہ میں چند گھنٹے باقی تھے ، جب نماز فجر کے بعد زرافشا ں کے جنازے کاا علان کیا گیا۔بچی کے واالدین اور بالخصوص والدہ پاگلوں کی طر ح دیوار وں کے ساتھ ٹکر ما ر ما ر کر رو رہی تھی اور کہتی رہی کہ میری زرافشاِ ں اتنی زیادہ بیمار نہیں تھی ۔ وہ بیماری کی وجہ سے نہیں بلکہ ڈاکٹر کی غلط انجکشن کی وجہ سے مری ہے۔بچی کو لگائے گئے ویلیم انجکشن کے بارے میں جب سنیر ڈاکٹرحضرات اور پروفیسروں سے پو چھا گیا تو سب کی متفقہ رائے تھی کہ بچی کی عمر اور بیماری کے لحا ظ سے انجکشن نہیں لگنا چاہئے تھا۔انجکشن کے بجائے شربت یا دوسری دوائیاں کا سہارہ لینا چاہئے تھا۔اگر زرافشاں کی نا گہانی موت کا جا ئزہ لیا جائے تو اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ڈاکٹر کو بچی کو انجکشن کے بجائے شربت یا دوسری متبادل دوائی دینا چاہئے تھا اور اگر انجکشن لگوانا تھا تو ڈا کٹر کو بچی کو ممکنہ خطرے کے پیش نظر ہسپتال میں کچھ وقت کے لئے رکھنا چاہئے تھا۔ ویسے قے ، اُلٹی اور بد ہضمی کے لئے جو دوائیاں دی جاتی ہیں وہ خود نشہ آور ہوتی ہیں۔ اگر بچی کو ویلیم انجکشن کے بجائے گریوینیٹ ، مارزین یا دوسری متبادل دوائی دے دی جاتی تو انجکشن لگانے کی ضرورت نہ پڑتی مگر بد قسمتی سے نہ تو ڈاکٹر نے بچی کو صحیح دوائی دی اور نہ والدین کی صحیح راہنمائی کی گئی ،نتیجتاً ہم زارفشاں جیسے خوبصورت بچی سے محروم ہوگئے۔میں نے یہ بات نو ٹ کی ہے کہ وزیر صحت شہرام ترہ کئی کے آبائی گاؤں صوابی کے اس سرکاری ہسپتال میں کمزورنظم ونسق Loose Administration کی وجہ سے غریب مریضوں کو صحیح دوائی اور انکی صحیح نگہداشت نہیں کی جاتی۔ اور بعض اوقات تو مختلف قسم کی سرجریز پیسوں کے لئے کئے جاتے ہیں۔تحریک انصاف کے چیر مین عمران خان جب کسی جلسے ، ریڈیو اور ٹی وی ٹاک شو میں بات کرتے ہوتے ہیں تو کے پی کے میں اپنے کارناموں میں پولیس اور ہسپتال کے اچھے نظام کا ذکر ضرورکرتے ہیں۔ کیا میں عمران خان اور وزیر صحت شہرام ترہ کئی سے پو چھ سکتا ہوں کہ زرافشا ں کی ناگہانی مو ت کے ذمہ دار کون ، ڈاکٹر، ہسپتال کا عملہ یا نظام۔میں اس کالم کی تو سط سے خیبر پختون خوا کے وزیر صحت شہرام ترہ کئی اور تحریک انصاف کے چیر مین عمران خان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ زرافشاں کی مو ت کی تحقیقات کریں اور گناہ گاروں کو سخت ترین سزا دیں تاکہ دوسرے ڈاکٹر بھی اس سے سبق سیکھ سکیں۔ڈاکٹر کا مریض کے ساتھ اس قسم کا رویہ دہشت گر دی اور خود کش حملے سے کم نہیں۔میں وزیر اعلی اور وزیر صحت سے یہ بھی استد عا کر تا ہوں کہ وہ جو نیر ڈاکٹروں کے رحم و کرم پر مریضوں کو نہ چھو ڑیں اورسختی سے ہدایت کی جائے کہ او پی ڈی میں جونیر ڈاکٹروں کے ساتھ سنیر ڈاکٹروں کو بھی انکے راہنمائی کے لئے رکھا جائے۔ اس قسم کے وقعات خیبر پختون خوا اور بالخصوص صوابی میں روزانہ ہوتے ہیں مگر اُن میں بُہت کم نو ٹ ہوتے ہیں۔ یہ پاکستانی قوم کے ساتھ المیہ ہے کہ کبھی انکے بچے تھر میں بھوک افلاس سے مرتے ہیں، کبھی بڑوں کے پروٹوکول کی وجہ سے لقمہ اجل بن جاتے ہیں اور کبھی ڈا کٹروں کی غفلت کی وجہ سے زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ۔ عمران خان صا حب ہم تو آپکو ایک مسیحا سمجھتے تھے ۔ کیا مسیحا کے دور میں ہسپتال میں غریبوں کے ساتھ ایسا رویہ آپکے نذدیک قابل بر داشت ہے ۔ زرافشان کی روح آپ سے پو چھ رہی ہے کہ میں اپنے قتل کا خون کس کے ہاتھ تلاش کروں۔