- الإعلانات -

جنرل راحیل شریف کا دورہ ِٗ شمالی وزیرستان

سال 2015ء بھی گزر گیا 2014 ء کے ماہ جون کے وسط میں افواجِ پا کستان کی جانب سے شروع کیئے گئے آپریشنِ ضربِ عضب کے کامیاب تاریخ سازسال کے طور پر2015 ء کو پاکستانی قوم کبھی فراموش نہیں کرسکتی ،یہاں ہمیں یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ آپریشن ضرب عضب کی لگاتار تاریخ ساز کامیابیوں میں ہماری بہادر ‘جراّت مند اور دلیر افواج کے افسر و جوانوں نے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہمارے پاکستانی سویلین اداروں سمیت پاکستانی شہریوں کی جانیں گئیں، وہاں ہم اپنے اُن پاکستانی شہریوں کی تکالیف و ایثار کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے دہشت گر دی سے متاثرہ علاقوں سے افواجِ پاکستان کی نگرانی میں اپنے ہی وطن میں ایک مقام سے دوسری جگہ اپنے خاندانوں کو منتقل کیا اب جبکہ دہشت گردوں کے ناپاک وجود سے پاک کیئے گئے علاقوں میں افواجِ پاکستان نے ایسا پُرامن ماحول بنا دیا ہے کہ شمالی وزیرستان کے وہ علاقہ محفوظ اب قرار دیدئے گئے ہیں جہاں سے ہمارے اِن پختون پاکستانی بھا ئیوں نے اپنے ہی وطن میں نقلِ مکانی کی تھی گزشتہ دنوں پاکستانی آرمی کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے شمالی وزیر ستان کے علاقے میران شاہ اور میرعلی کی ذیلی ایجنسیوں کا دورہ کیا جہاں اب تک 17,547 خاندانوں کو با عزت منتقل کیا جاچکا ہے افواجِ پاکستان کے انجینئرنگ شعبے نے اِن تباہ شدہ علاقوں کی راتوں رات حالت بدل دی سرکاری دفاتر سمیت بچیوں اور بچوں کے اسکولوں کی تعمیر ‘ مساجد اور دیگر شعبہ ِٗ زندگی کے لئے عمارتوں سمیت وہاں کے رہائشیوں کے لئے مکانات کی تعمیر سے جنگ زدہ اور تباہ حال دکھائی دینے علاقے پُر امن سہولتوں سے آراستہ نظر آرہے ہیں پاکستانی فوج نے مقامی سویلین اتھارٹی کے باہمی اشتراک سے 17,545 خاندانوں کے تقریباً77,966افراد کو دوبارہ شمالی وزیر ستان کے صدر مقام میران شاہ اور میرعلی کی ذیلی ایجنسیوں میں آباد کرکے انسانیت کی خدمات کی تاریخ میں ایک اور سنہری باب کا اضافہ کردیا ہے وفاقی حکومت کے عملی اشتراک سے افواجِ پاکستان نے میران شاہ اور میر علی میں 60,150 افراد کو گھر گھر راشن کارڈ پہنچائے اور اِسی تعداد کے لگ بھگ تقریباً13,194 لوگوں کو ATM کارڈز بنا کر دئیے گئے تاکہ اُن کا جو مال اسباب متاثرہ ہوا ہے، اُس ازالہ ہوسکے، آرمی چیف نے اپنے دورہ ٗ شمالی وزیرستان کے موقع پر میر علی میں صحت سے متعلق جدید سامان سے مزین ایک تحصیل ہسپتال کا افتتاح کیا یقیناًجنرل راحیل شریف نے ملکی عوام سے جو وعدہ کیا تھا کہ وہ قوم کو دہشت گرددوں کے شکنجہ سے ہر قیمت پر جلد از جلد آزاد کر انے کا عزم اور ارداہ کرچکے ہیں اُن کا یہ وعدہ ایسا ہی ہے جیسے کسی کیل کو ٹھونک کر اُسے پختہ کیا جاتا ہے، ہماری قومی تاریخ میں جنرل راحیل کا نام ہمیشہ جگمگاتا رہے گا اِس میں کوئی شک نہیں چہرے بشرے سے بھی جنرل راحیل شریف یوں لگتے ہیں جیسے کوئی جری مرد حوادث کی یلغار سے تنِ تنہا لڑنے کی جراّت رکھتا ہو، آپریشن ضربِ عضب شروع کرنے کا کٹھن فیصلہ کرتے وقت جنرل راحیل شریف اور اُن کے ہم عصر کمانڈروں نے اِس آپریشن کے دوران پیش آنے والی تمام ممکنہ سختیوں اور مشکلات کو بالائے طاق رکھ کر انتہائی مایوس ، مضروب اور ناامیّد قوم یک دم پُر جوش دریاؤں کی لہروں کی مانند بیدار کردیا کوئی ایک پاکستانی اپنے دل پر ہاتھ کر بتائے کہ ’کیا ایسا نہیں ہوا؟‘شمالی وزیرستان سے کوئی ایک خطرناک گروہ افغانستان کے سرحدی علاقوں میں قائم بھارتی کونصل خانوں میں جا چھپا اور کئی ایک دہشت گرد بھیس بدل کر‘ داڑھیاں منڈھوا کر اپنے حیلے تبدیل کرکے پاکستانی شہروں میں اپنے ہمدردوں اور سہولت کاروں کے پاس جا چھپے اور اب وہاں بیٹھ کر یہ دہشت گرد پاکستان کے ازلی دشمنوں سے رابطوں میں آگئے ہیں، یاد رہے کہ آپریشن ضربِ عضب ابھی ختم نہیں ہوا ،جیسا کہ اِس آپریشن کو شروع کرتے وقت پاکستانی فوج سمیت ملکی سیاسی قیادت نے یہ اعلان کیا تھا کہ دہشت گردوں کے خلاف یہ آپریشن اُس وقت تک جاری رہے گا، جب تک ملک کی سرحدوں کے اندر شہری علاقوں میں چھپے آخری دہشت گردکا خاتمہ نہیں ہوجاتا ایک طرف پاکستانی فوج شمالی وزیرستان میں افغانی سرحدوں کے بالکل عین قریب پہنچ کر دہشت گردوں پر اپنا آخری فیصلہ کن وار کررہی ہے، ایسے میں اِس خبر نے اہلِ وطن کو یقیناًمزید چونکا دیا ہوگا کہ29 ؍ دسمبر2015 ء کو مردان شہر کے نادرا آفس کے گیٹ پر ’بزدل ظالم دہشت گردوں نے خود کش دھماکہ کرکے 26 پاکستانی شہریوں کو شہید اور70-72 کے قریب پاکستانیوں کو شدید زخمی کردیا، ظالم وسفاک دہشت گردوں کے اِس فعلِ حرام کی جتنی باربھی مذمت کی جائے وہ کم ہے‘ یقیناًاب اِن دہشت گرد گروپوں کو جنہوں نے اپنے مذموم و بہیمانہ مقاصد کو پانے کی آڑ میں پاکستان کو دہشت گردی کی جس لپیٹ میں لیا وہ یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ شائد یوں وہ اِس ملکِ خدادپاکستان پر قابض ہوجائیں گے اُن کی غیر انسانی وغیر مہذبانہ اور غیر اخلاقی حرکات جب اپنی تمام حدیں پار کرگئیں تو اللہ تعالیٰ نے ملکی افواج کے نئے سربراہ جنرل راحیل شریف کو پاکستانی قوم کا نجات دہندہ بناکر بھیجاجنہوں نے عوام سے کیا ہوا وعدہ پورا کردکھایا جو اپنے پاکستانی بھائیوں کے اِس دکھ دردمیں برا بر کے شریک ہوئے جب سے پاکستانی سپہ سالار نے اپنے عہدہ سنبھالا ہے وہ کبھی کشمیر کے سلگتے بارڈر پر دیکھے گئے ‘ کبھی بلوچستان ‘ کبھی شمالی وزیرستان ‘ کبھی سندھ اور کبھی پنجاب کے سرحدی علاقوں میں اپنے جوانوں کے حوصلوں کو بڑھاتے ہوئے نظر آئے کبھی ہم نے اُنہیں دنیا کے سب سے بلند ترین محاذِ جنگ پر موجود جوانوں کے ہمراہ دیکھا جنرل راحیل شریف کا شمار بلا شبہ دنیا کے اُن چند پیشہ ورانہ فوجی سربراہوں میں ہوتا ہے جو ایک بار ایک فیصلہ پر جم کر ڈٹ کرکھڑے ہوجائیں تو پھر کوئی اُنہیں اپنی جگہ سے لمحہ بھر کے لئے بھی پیچھے نہیں ہٹا سکتا 2008ء کے بعد سے2014ء جون تک اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا یوں لگتا تھا جیسے فاٹا سے لے کر کراچی تک پاکستان میں دہشت گرد جب چاہئیں اپنی بہیمانہ مرضی سے خود کش حملے کرسکتی ہیں جنرل راحیل شریف نے نہ صرف افواجِ پاکستان کے جوانوں اور افسروں کے ایمانی کردار کو اپنے پیشہ ورانہ فیصلوں سے جِلا بخشی ۔بلکہ ملکی قیادت کو ملک میں جمہوری اقدار کو مضبوط ومستحکم کرنے کے لئے بھی اپنی بھرپور حمایت کایقین دلایا، دنیا اب خود یہ فیصلہ کرسکتی ہے کہ پاکستان کا جمہوری سسٹم بلا کسی خطرے کے کامیابی سے اپنے سفر پر جاری ہے اور ملکی افواج آئینِ پاکستان سے اپنی پیشہ ورانہ وفاداری کا حقیقی ثبوت بھی دلیری کے ساتھ دے رہی ہیں بے باک نڈر سیاسی وعسکری قیادت کا تقاضا بھی یہی ہوا کرتا ہے کہ وہ ہر میدان میں ثابت قدم اور استقلال سے قومی زندگی کی مشکلات میں نبرد آزما قوم کو کبھی بھی تنہا نہ چھوڑے اور نہ مایوس ہونے دے۔