- الإعلانات -

پٹھان کوٹ میں بھارتی سازش کا پول کھل گیا

بھارتی پنجاب میں پاکستان کی سرحد کے قریب پٹھانکوٹ کے علاقے میں دہشت گردوں نے ائرفورس کے بیس پر حملہ کردیا، جھڑپ کے نتیجہ میں 3 فوجی اور 5 حملہ آور مارے گئے۔ حملے کے بعد بھارتی میڈیا اور وزراء نے ایک بار پھر بغیر تحقیق کے پاکستان پر الزامات لگانا شروع کردئیے جبکہ بھارتی میڈیا نے حملہ کو مشکوک قرار دیا ہے۔
بھارتی میڈیاکے مطابق فوجی وردیوں میں ملبوس 5 حملہ آور مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے 3 بجے ایئربیس کے نان آپریشنل ایریا میں داخل ہوگئے جہاں طیارے اور ہیلی کاپٹر پارک کئے جاتے ہیں۔ جس کے فوری بعد اطراف کا علاقہ سیل کردیا گیا جبکہ فوج کے کمانڈو یونٹ کو بھی طلب کیا گیا۔ بھارت کے وزیر مملکت برائے داخلی امور کرن ریجیجو نے کہا ہے کہ پٹھان کوٹ میں حملہ کرنے والے گروپ کو پاکستان کے بعض عناصر سے تعاون حاصل تھا۔ حملہ آور پاکستان میں اپنے سرپرستوں سے فون پر رابطے میں رہے۔
سرکاری سطح پر ائربیس پر حملے کی تحقیقات شروع نہیں ہوئیں مگر منہ زور بھارتی میڈیا نے پاکستان پر الزام تراشی شروع کردی۔ دوسری طرف بھارتی میڈیا کے ایک حصے نے کئی سوالات بھی کھڑے کر دیئے ہیں اور اسے مشکوک قرار دیدیا۔ میڈیا کے مطابق عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حملہ صبح 4 بجے ہوا لیکن سکیورٹی کل رات سے ہی الرٹ کردی گئی تھی۔ عام دنوں میں سکیورٹی ائیربیس کے گیٹ پر ہوتی ہے اور بیرئیرز لگے ہوتے ہیں لیکن کل شام 5 بجے بیرئیرز ہٹا کر اندر منتقل کردیئے گئے تھے۔ آس پاس کے لوگوں سے فروٹ اور سبزی کی دکانیں بھی بند کرا دی گئی تھیں۔ شہریوں نے انکشاف کیا ہے کہ ائربیس کے قریب سے ایک روز قبل حفاظتی رکاوٹیں ہٹا دی گئی تھیں۔ شہریوں کے انکشاف کے بعد ائربیس پر آج ہونے والا حملہ مشکوک ہوگیا۔ بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کی طرف سے بھی کہا گیا کہ کوئی ملک کشمیر میں دراندازی نہیں کر رہا۔ ائربیس پر حملے کے بعد کئی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ سرحد کے قریب ہی ائربیس پر حملہ کیوں ہوا؟ بغیر تحقیقات کئے بھارت نے پاکستان کی جانب کیوں انگلی اٹھا دی؟ مودی کے دورے کے بعد ہی ائربیس پر حملہ ہونا تھا۔ حملہ آورگرداس پور کے ایک روز قبل اغوا ہونے والے ایس پی کی گاڑی میں سوار تھے جو گذشتہ روز چھینی گئی تھی جبکہ ایئربیس پر تین اطراف سے اچانک دھاوا بولاگیا۔ بعض سکیورٹی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ حملہ آور جیش محمد نامی گروپ سے ہے۔بھارتی انٹیلی جنس ذرائع نے کہاہے کہ حکام کو علاقے میں مشتبہ افراد کی موجودگی اور ایئربیس پر ممکنہ حملے سے ایک روز پہلے ہی آگاہ کر دیا گیا تھا۔ پٹھان کوٹ میں فضائیہ کے اڈے پر حملے کے بعد پورے بھارتی پنجاب میں سکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی ہے۔ حملے سے 24 گھنٹے پہلے ائربیس کے قریبی علاقے سے ایک سینئر بھارتی پولیس آفیسر کو جمعرات کے روز چار افراد نے اغوا کر لیا تھا جسے تھوڑی دیر بعد رہا کر دیا گیا۔ اس واقعہ کے بعد علاقے میں سکیورٹی ہائی الرٹ تھی۔
پٹھان کوٹ میں حالات پر قابو پانے کیلئے بھارتی فورسز کے نئے دستے طلب کئے گئے سرچ آپریشن اب بھی جاری ہے۔ بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ مزید 2 حملہ آور بیس میں موجود ہیں۔ حکام کے مطابق پٹھان کوٹ ایئر بیس میں ہونیوالے حملے کے نتیجے میں مجموعی طور پر فوج کے افسر سمیت 10 فوجی اہلکار ہلاک اور 18 زخمی ہوئے ہیں۔ ائر بیس پر مارے گئے دہشت گردوں کی تعداد کے حوالے سے بھارتی حکام کنفیوژن کا شکار ہیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق 6 دہشت گرد مارے گئے جبکہ ایک بھارتی وزیر کا کہنا ہے کہ 4 دہشت گرد ہلاک ہوئے اسی طرح مارے جانے والے فوجیوں کی تعداد کے حوالے سے بھی متضاد اطلاعات آ رہی ہیں۔ بھارتی سیکرٹری داخلہ راجیومرشی نے کہا کہ پٹھانکوٹ میں حملہ آور 6 دہشت گرد مارے گئے۔ حملے میں 6 فوجی ہلاک اور 8 زخمی ہوئے تاہم نعشوں کی شناخت کے بعد درست تعداد معلوم ہوگی۔ حملے میں نیشنل سکیورٹی گارڈ کے 12 اہلکار بھی زخمی ہوئے۔
ائربیس پر حملے کی خبر جیسے ہی آئی بھارتی میڈیا نے اس کیلئے جیش محمد نامی شدت پسند تنظیم کو ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ شدت پسندوں کا تعلق پاکستان سے ہے۔ اس سے متعلق بحث میں تجزیہ کاروں کی رائے اپنی جگہ لیکن ٹی وی چینل ٹائمز ناؤ کے رپورٹر اس حملے کیلئے پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی کو براہ راست ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ اخبار ٹائمز آف انڈیا نے اس طرح کے سوالات بھی اٹھائے ہیں کہ کہیں اس طرح کے حملوں کا مقصد پاکستان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کو سبوتاژکرنا تو نہیں! این ڈی ٹی وی کا کہنا ہے کہ سکیورٹی حکام کو اس حملے کے متعلق خفیہ اطلاعات پہلے ہی مل چکی تھیں اسی لئے ائربیس میں نقصان کچھ بھی نہیں ہوا اور شدت پسندوں پر بہت جلد قابو پا لیا گیا لیکن اس نے اس طرح کے سوالات بھی اٹھائے ہیں کہ آخر اس طرح کی خفیہ اطلاعات ہونے کے باوجود بھی شدت پسند وہاں تک کیسے پہنچے؟ این ڈی ٹی وی پر اس حوالے سے بحث قدر معتدل ہے اور اس کا کہنا ہے کہ شاید اس حملے کے پیچھے وہ طاقتیں ہیں جو بھارت اور پاکستان کے درمیان امن نہیں چاہتی ہیں اور یہ مودی کے لاہور دورہ کے بعد ماحول کو خراب کرنے کی ایک کوشش ہو سکتی ہے۔ انڈین ایکسپریس نے اسے پاکستان سے مذاکرات کے دل پر حملہ قرار دیا ہے۔
ائربیس پر دہشت گردوں کے حملے سے متعلق بھارتی حکام کے متضاد بیانات اور دعوؤں کے معاملے کو پراسرار بنا دیا۔ کبھی کہتے ہیں آپریشن ختم ہوگیا اور سارے حملہ آور ہلاک ہو گئے۔ کبھی کہتے ہیں آپریشن جاری ہے۔ یونین ہوم سیکرٹری راجیو میڈیاکے سوالات کا ہدف بن گئے اور بریفنگ ادھوری چھوڑ کر بھاگ نکلے۔ 40 گھنٹوں سے زیادہ وقت گزر گیا لیکن بھارتی سکیورٹی فورسز حملہ آوروں کو قابو نہیں کرسکی جنہوں نے پٹھان کوٹ میں ائر فورس کے بیس پر حملہ کیا تھا۔ بھارتی سکیورٹی کے ڈھول کا پول بھی کھل گیا اور بھارتی حکام حملہ آوروں کی صحیح تعداد بتانے سے بھی قاصر ہے۔ بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کا وہ ٹویٹ دہلی کو بہت بھاری پڑ گیا جس میں انہوں نے نہ صرف تمام دہشت گردوں کو مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا بلکہ اپنی جانب سے آپریشن بھی مکمل کرا دیا۔ سارے معاملے کا حاصل یہ نکلا کہ کتنے دہشت گرد آئے تھے یہ نہیں معلوم، کیا ایک گروپ میں تھے یا دو ٹکڑیوں میں تھے۔ اس کا بھی نہیں پتہ لیکن مارے چار گئے ہیں۔ اندر اب بھی دو موجود ہیں۔ اس جواب پر جب صحافیوں نے پوچھا کہ کیا راج ناتھ صاحب تک غلط اطلاعات پہنچائی گئیں۔ سیکرٹری داخلہ بریفنگ ادھوری چھوڑ کر چلے گئے۔ دوسری جانب بھارتی اپوزیشن اور میڈیا نے جلتی پر تیل چھڑکنے کا کام جاری رکھا۔ بھارتی میڈیا نے حسب روایت غیرذمہ داری اور تعصب کا مظاہرہ کیا۔ ریٹنگ کے دیوانے اینکرز حملے کے بعد پاکستان کیخلاف آگ بھڑکانے میں مصروف ہیں۔
بھارت کے الیکٹرانک میڈیا نے زرد صحافت کے نئے ریکارڈ قائم کردئیے ہیں۔ الزامات لگانے والے یہ وہی اینکرز ہیں جو مودی کے دورہ پاکستان پر پیچ و تاب کھاتے رہے۔ یہ اینکرز پاکستان بھارت تعلقات کو اپنی شعلے اگلتی زبانوں سے بھسم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے حالیہ دورہ پاکستان کے بعد پاکستان کی سرحد کے قریب بھارتی فضائیہ اڈے پر دہشت گردوں کے حملہ نے کئی سوالات کھڑے کردئیے ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت میں دہشت گردی کے واقعات اب صوبہ پنجاب میں پاکستان کی سرحد کے قریب ہونا شروع ہوگئے ہیں اور ان واقعات کے فوراً بعد دہشت گردوں کا تعلق پاکستان کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارتی ذرائع ابلاغ نے دہشت گردی کی اس واردات کو فوری طور پر پاکستان کے کھاتے میں ڈالنے کی کوشش کی ہے اور یہ لکھا ہے کہ پٹھانکوٹ حملے میں چار مشتبہ پاکستانی دہشت گرد اور تین بھارتی فضائیہ کے اہلکار مارے گئے ہیں۔ حسب روایت بھارتی میڈیا نے دہشت گردی کے اس واقعہ کے چند منٹ بعد ہی الزام پاکستان کے سر تھونپ دیا ہے۔پاکستان نے اس حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور بھارت کو دہشتگردی کے خلاف مدد دینے کی اپیل کی ہے۔