- الإعلانات -

راہداری کے خلاف سازشیں اوراجیت ڈوول کادورہ

چین پاکستان کا قابل اعتماد دوست ہے صرف دوست ہی نہیں بلکہ باہمی روابط اتنے گہرے ہیں کہ ایک پڑوسی ملک کی نیندیں حرام ہوچکی ہیں۔وہ گاہے گاہے ان روابط میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کرتا رہتا ہے تو کبھی خود چین سے پاکستان جیسے روابط قائم کرنے کا خواہاں رہتا ہے، لیکن بدقسمتی سے دونوں صورتوں میں اسے ناکامی کا سامناہے۔شدید سرحدی تنازعات کے باوجود مودی حکومت کی کوشش ہے کہ وہ چین کو اپنے اعتماد میں لے لے،اس سلسلے میں مودی خود کئی بار چین کا وزٹ بھی کرچکے ہیں جبکہ اسکے مشیر خصوصی اور دیگر حکومتی اہلکارچین کے دورے کرتے رہتے ہیں۔اب آج پانچ جنوری کو اجیت ڈوول چین کا دورہ کرنے جا رہے ہیں۔بظاہر تو یہ ایک عمومی نوعیت کا دورہ کہا جا رہا ہے لیکن مبصرین کی رائے ہے کہ بعض سیکیورٹی معاملات پر ڈوول چین کو پاکستان کے خلاف قائل کرنے کی کوشش کریں گے کیونکہ ماضی سے اب تک کے دوروں کے خفیہ مقاصد ایسے ہی تھے۔بھارت خطے کا وہ ملک ہے جو خود کو تھانیدار سمجھنے لگا ہے مگر پاکستان اور چین کے بڑھتے ہوئے تعلقات سے بھی خائف ہے۔اسی لئے وہ خوف پر قابوپانے کیلئے کئی حربے استعمال کرتا رہتا ہے۔ بھارتی وزیرِاعظم نے جب 2014 ء میں اپنی قومی سلامتی کی ٹیم میں رد و بدل کرتے ہوئے خفیہ اداروں سے منسلک رہنے والے ایک انتہا پسند افسر اجیت ڈوول کواپنا مشیر مقرر کیا ہے تو اس وقت ہی واضح ہو گیا تھا کہ مودی حکومت کے خطے کے لئے کیا عزائم ہیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ اس تعیناتی سے نریندر مودی نے اپنے روایتی حریف چین اور پاکستان کو سخت پیغام دیا ہے۔70 سالہ اجیت ڈوول وہ ہیں جوبھارتیخفیہ ایجنسی آئی بی کے سربراہ کی حیثیت سے کام کر چکے ہیں، اس کے برعکس اس عہدے سے ہٹائے جانے والے شِو شنکر مینن کا تعلق دفتر خارجہ سے تھا۔ مسٹر مینن چینی امور کے ماہر سمجھے جاتے تھے۔ اجیت ڈوول کو اس وقت شہرت ملی تھی جب 1980 کی دہائی میں سکھوں کے خلاف آپریشن میں وہ چھپ کر گولڈن ٹیمپل کے اندر پہنچ گئے اور ہزاروں سکھوں کو مروا دیا۔ ڈوول سال ہا سال تک مقبوضہ کشمیر میں بھی خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں ،جہاں انہوں نے مسلمان کشمیریوں پر مظالم کی نئی تاریخ رقم کی۔اجیت ڈول کی ایک اور بھی پہچان ہے کہ وہ انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کے ایک شعبہ کے بھی سربراہ رہے ہیں ۔اجیت ڈول سخت گیر ہندو اور انتہا پسند خیالات کے حامل ہیں۔ان کی تقرری کے بعد انہیں پاکستان اور چین کے حوالے سے خصوصی ٹاسک دیئے گئے،وہ کہاں تک ان ٹاسک کو حاصل کر پائے ہیں یا نہیں،تاہم یہ بات طے ہے کہ ان کی تعیناتی کے بعد سے اب تک مودی حکومت کا رویہ پاکستان اور چین کے خلاف سخت رہا ہے،خصوصاً پاک چین راہداری معاہدے کے بعد مودی انتظامیہ دونوں ممالک کے خلاف بہت متحرک ہو گئی ہے۔چونکہ راہداری ایک ایسا منصوبہ ہے جس سے دونوں ممالک میں اقتصادی انقلاب آ جائے گا جبکہ بھارت نہیں چاہتا کہ اس کی نام نہاد تھانے داری کے خواب کا جنازہ نکل جائے۔وہ ممالک جن کو پاک چین دوستی ایک آنکھ نہیں بھاتی ان میں امریکہ، اسرائیل، برطانیہ اور بھارت شامل ہیں۔ڈھائی ہزار کلومیٹرلمبی اقتصادی راہداری گوادر سے شروع ہوکر کاشغرتک جائے گی۔ بھارت کو اس پلان سے کیا تکلیف ہے اسکا اظہار اسی وقت ہو گیا تھا جب ایک سابق بھارتی سفارتکار راجیو ڈوگرہ نے کہاتھا کہ یہ راہ داری بعض متنازعہ علاقوں سے گزرے گی جس پر بھارت کو اعتراض ہو گا۔پاکستان اور چین کے درمیان ہونے والے معاہدوں پر بھارت نے اول روز سے نکتہ چینی شروع کررکھی ہے۔اسی طرح جب کبھی پاکستان اور چین کے درمیان دفاعی معاہدے طے پاتے ہیں بھارتی حکمرانوں کی نیندیں حرام ہوجاتی ہیں۔پاکستان اور چین کی اقتصادی راہداری کو متنازعہ بنانے کیلئے بین الاقوامی سازشوں کا جال بچھایا جا چکا ہے۔ ڈول کے حالیہ دورہ چین کو اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ پاک چائنہ اکنامک کوریڈورکے ذریعے گوادر بندرگاہ کو ہائی ویز، ریلوے اور پائپ لائنوں کے ذریعے چین سے مربوط کیا جا رہاہے۔اس منصوبے کی تکمیل کے بعد چین، مشرق وسطیٰ اور افریقی ممالک کے مابین ہونے والی تجارت پاکستان کے راستے سے ہونے سے سی پیک ان ممالک کی تجارت کیلئے مرکزی دروازے کی حیثیت اختیار کر لے گا۔ پاکستان اور چین کے درمیان تعاون سب سے زیادہ جن ممالک کو کھٹکتا ہے وہ اب پاکستان کی معیشت کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں اور اقتصادی راہداری کی تعمیر کو رکوانا چاہتے ہیں۔یہ عظیم منصوبہ شروع کیا جاچکا ہے،30 دسمبر2015 کو وزیراعظم پاکستان اس کے مغربی روٹ کا افتتاح بھی کرچکے ہیں مگرحکمرانوں کو’’را‘‘کی سازشوں اور ہتھکنڈوں سے محتاط رہنا ہوگا، کیونکہ اقتصادی راہداری ناکام بنانے کے لئے ’’را‘‘ ہیڈ کوارٹرمیں ایک خصوصی ڈیسک کام کررہا ہے ،جسکے لئے30کروڑ روپے بجٹ مختص ہے۔اس سلسلے میں حال ہی میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیاتھا کہ ایسٹ ترکمانستان اسلامک موومنٹ نے چین کے صوبے سنک کیانگ میں شورش بھڑکانے کے لئے رضاکاروں کی بھرتی شروع کررکھی ہے۔ادھرایسٹ ترکمانستان اسلامک موومنٹ نے را کی مدد سے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں اپنی چین مخالف سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ایسٹ ترکمانستان اسلامک موومنٹ کے ذمے پاکستان میں چینی مفادات کو نقصان پہنچانا ہے۔اس کوریڈور نے آزاد کشمیر سے بھی گزرنا ہے اسلئے بھارت اس منصوبے کو اپنے گھیرنے کی چائنیز پالیسی سمجھتا ہے۔ایسے ماحول میں اجیت ڈوول چین کے سامنے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے نام نہاد ثبوت رکھنے کا ڈھونگ رچائے گا اور پاکستان کے خلاف چین کواستعمال کرنے کیلئے قائل کرے گا ،بھارت چینی حکام کے سامنے یہ موقف اپنائے گاکہ اسے پاکستان کی سرزمین سے دہشت گردی کا خطرہ ہے لہٰذا پاکستان کے خلاف اس کی مدد کی جائے۔اس بات کا بھی امکان ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے واقعات ایسٹ ترکمانستان موومنٹ ،گورداسپور،پٹھان کوٹ اور ممبئی حملوں کے تانے بانے پاکستان سے جوڑے کی کوشش کی جائے۔مبصرین کاکہنا ہے کہ بھارت چین کو یہ باور کرانے کی کوشش میں ہے کہ پاکستان کی سرزمین دہشت گردی کیلئے استعمال کی جا رہی ہے ، اور اسکے پاس کے ٹھو س ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کا انفرااسٹرکچر اور ٹریننگ کیمپ پاکستان میں موجود ہیں جسے خفیہ ایجنسی کی حمایت حاصل ہے۔یاد رہے کہ بھارت نے چین کے کئی علاقوں پر دعویٰ کر رکھا ہے کہ اسکے ہیں،جبکہ اس کشیدگی میں وہ 1962ء میں چین کے ساتھ ایک جنگ بھی لڑچکا ہے۔