- الإعلانات -

شکریہ عمران خان!

29دسمبر 2015ء کو عمران خان نے شوکت خانم میموریل ہسپتال پشاور کا افتتاح کینسر کے شوکت خانم ہسپتال لاہور میں زیر علاج مریض سات سالہ فاخر آفریدی سے کراکر خیبر پختون خوا کے باسیوں کے دل جیت لئے ہیں ۔اس پر مسرت موقع پر عمران خان نے اپنے خطاب اور گفتگو میں کہا کہ آج مجھے اپنے خوابوں کی تعبیر مل گئی ہے ۔عوامی خدمت کا مشن جاری رہے گا۔نیت اچھی ہو تو کامیابی ملتی ہے۔عام شہری مہنگا علاج نہیں کراسکتے۔لوگوں کو یہاں بہترین سہولیات ملیں گی۔آج کا دن میرے لئے بے انتہا خوشی کا دن ہے۔آج ہی کے دن کا برسوں سے انتظار تھا۔صرف اللہ پر یقین رکھنے والا ہی ایسا ہسپتال بنا سکتا ہے ۔عقل کے غلام ایسے ہسپتال نہیں بنا سکتا‘‘۔کیتھڈرل اسکول ،ایچی سن کالج لاہور ،رائل کالج اور آکسفورڈ یونیورسٹی بر طانیہ سے سیاسیات میں ڈگری لینے والے 63سالہ عمران خان کے 1992ء میں ورلڈ کپ جیتنے اور کرکٹ کے شاندار کیریئر سے ریٹائر منٹ کے بعد اپنی تمام تر توجہ فلاحی کاموں پر مرکوز کر دی تھی اور 29دسمبر 1994ء کو اپنی والدہ کے نام سے جو کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہونے کے بعد وفات پاگئی تھی،کے نام سے لاہور میں پاکستان اور ایشیاء کا سب سے بڑا کینسر کا ہسپتال قائم کر کے دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کی تھی۔قبل ازیں پاکستان میں کینسر کے علاج کا ایسابا اعتماد فلاحی ادارہ نہ تھا جہاں غریب مریضوں کا مفت علاج کیا جاسکے ۔شوکت خانم ہسپتال پشاور عمران خان کا لاہور کے بعد دوسرا بڑا کینسر کا ہسپتال ہے جس کی بنیاد مارچ 2011ء میں رکھی گئی تھی اور جو اب چند دن پہلے پایہ تکمیل کو پہنچ چکا ہے۔عمران خان تیسرا شوکت خانم ہسپتال کراچی اور چوتھا شوکت خانم ہسپتال جنوبی پنجاب میں قائم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جو کہ خوش آئند ہیں۔لیکن میری تجویز ہے کہ عمران خان چوتھا ہسپتال کوئٹہ میں بنا ئے جبکہ پانچواں جنوبی پنجاب میں ۔تاکہ چھوٹے صوبے احساس کمتری اور مایوسی کا شکار نہ ہوں۔ گیارہ سال پہلے 26 فروری 2005 ء کو میں نے اپنے ایک تفصیلی کالم ’’ کیا سرحد میں کوئی عمران خان نہیں‘‘میں، میں نے عمران خان کے شوکت خانم میموریل ہسپتال لاہور کے حوالے اور ان کے دیگرسماجی بہبود اور فلاحی خدمات کے حوالے سے جہاں انھیں زبردست خراج تحسین پیش کیا تھا وہاں میں نے عمران خان سے صوبہ سرحد(موجودہ خیبر پختون خوا)میں کینسر کے علاج کے لئے ہسپتال بنا نے اور کئی دیگر فلاحی پروجیکٹس شروع کر نے کی اپیل بھی کی تھی۔مذکورہ کالم کے کئی فوٹو کاپی کرکے میں نے عمران خان کو در خواست کی شکل میں بھیجے بھی تھے ۔گویا شوکت خانم ہسپتال پشاور صرف ان کی نہیں ہمارے خوابوں کی تعبیر بھی ہے ۔میں نے اُس کالم میں اپنے صوبے کے غریبوں کا رونا رویا تھا اور خان صاحب کو سرمایہ داروں کی بجائے غریبوں کو دوست بنانے کا مشورہ بھی دیا تھا۔میں نے کہا تھا غریب جب کسی کو دوستی کا ہاتھ دیتے ہیں تو مرنے دم تک ساتھ نبھاتے ہیں۔جبکہ سرمایہ دار اور جاگیردار فصلی بٹیرے ہوتے ہیں ۔آج یہاں تو کل وہاں۔ اگست 2007ء کی ایک تپتی دوپہر کو عمران خان کے ایک شمولیتی جلسے جس میں بمشکل ڈیڑھ دوسو لوگ شریک تھے ،میں جانے کا اتفاق ہواتھا۔عمران خان کو دیکھ کرجب ایک جوشیلے پارٹی ورکر نے ’’ وزیر اعظم عمران خان‘‘کا نعرہ لگایا تو میرے ساتھ بیٹھے کئی نوجواں ہنس پڑے تھے۔ اُن کا خیال تھا کہ کجا عمران خان اور کجا وزیر اعظم پاکستان ۔میں نے اسی جلسے میں ان نوجوانوں کو سمجھایا تھا کہ جس ملک میں معین قریشی اور شوکت عزیز جیسے ایمپورٹڈ لوگ وزیر اعظم بن سکتے ہیں۔جس میں ایک کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کا پاکستانی شناختی کارڈ اس کے وزیر اعظم نامزدگی کے اعلان کے بعد بنایا گیا تھا اور دوسرے کا پاکستان بھر ایک ووٹر بھی نہ تھا۔تو ایسے ملک میں عمران خان جیسے محب وطن لوگ جس کی کرکٹ اور ہسپتال کے حوالے سے اس ملک کے لئے بے پناہ خدمات ہیں،وزیر عظم پاکستان کیوں نہیں بن سکتے۔23اگست 2007ء کو میں نے ’’وزیر اعظم عمران خان‘‘کے عنوان سے اپنے کالم میں سب سے پہلے پیش گوئی کی تھی کہ عمران خان اس ملک کے وزیر عظم بنیں گے۔میں آج بھی اپنے اس دعوے پر مظبوطی سے قائم ہوں کہ آج نہیں تو کل وہ ضرور پاکستان کے وزارت عظمیٰ کے کر سی پر بیٹھیں گے۔لیکن انہیں اپنے تمام وعدے پورے کرنے ہونگے۔25اپریل 1996ء کو سیاسی جماعت’’پاکستان تحریک انصاف‘‘ کی بنیاد رکھنے والے عمران خان نے اپنی دیانت،ان تھک محنت اور ذاتی بل بوطے پر تحریک انصاف کو کہاں سے کہاں تک پہنچایا ہے۔آج یہ ملک کی دوسری بڑی سیاسی پارٹی بن چکی ہے۔اس جماعت کو سینٹ ،قومی اسمبلی ،صوبائی اسمبلیوں میں متعدد نشستیں حاصل ہیں جبکہ خیبر پختون خوا میں ان کی اپنی حکومت ہے۔نوجوانوں کی اکثریت عمران خان سے بڑی محبت رکھتی ہیں۔یہ نوجوان عمران خان کو پی ٹی آئی اور پی ٹی آئی کو عمران خان سمجھتے ہیں۔یہ نوجوان جب مجھ جیسے ناچیز لوگوں سے ملتے ہیں تو بڑے خلوص،محبت اور سادگی سے کہتے ہیں سر جی!ہماری پارٹی اور عمران خان کا بہت خیال رکھنا،ہمارے لیڈر کے خلاف نہ لکھنا۔ان کی اس بے پناہ محبت اور تمناؤں کودیکھکر میں اکثر سوچتا ہوں یہ نوجوان عمران خان کو امید کی آخری کرن سمجھتے ہیں۔اللہ نہ کہ کہیں ان کی امیدوں اور خوابوں کا ستیاناس اور خون ہوجائے۔خدانخواستہ اگر ایسا ہوا تو یہ اس ملک و قوم کو بڑی بد قسمتی اور بد بختی ہوگی۔کیونکہ تب ایک ایسا انقلاب اٹھے گا جو سب کو اپنے ساتھ بہالے جائے گا۔ آخر میں ،میں ایک بار پھر عمران خان کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ہم ان لوگوں کے بھی بے پناہ مشکور ہیں جنہوں نے اس نیک کام میں عمران خان کی کسی قسم کی جانی ،مالی اور تکنیکی مدد کی ہے۔امیر حید ر خان ہوتی کے بھی ہم مشکور ہیں جس نے حکومتِ خیبر پختون خوا کی جانب سے اس ہسپتال کے لئے مفت زمین دینے کے احکامات جاری کر دیئے تھے۔لیکن میں آخر میں ،میں عمران خان سے ایک اپیل ضرور کرونگا کہ اس ہسپتال میں کے پی کے اور فاٹا کے سو فیصد مریضوں کے لئے سو فیصد مفت علاج کا حکم صادر فرمائیں۔ساتھ فاٹا کے لئے نمل یونیورسٹی کا بھی اعلان کریں۔لیکن عام لوگوں سے بھی اپیل کرونگا کہ وہ نیکی اور بھلائی کے اس کاموں میں عمران خان کا بڑھ چڑھ کر ہاتھ بٹھائیں۔کیونکہ عمران خان کے سیاست اور طرزِ سیاست سے اختلاف تو کیا جاسکتا ہے لیکن اُن کے فلاحی اور عوامی خدمت کے کاموں سے اختلاف ہر گز نہیں کیا جاسکتا۔