- الإعلانات -

سعودی سفارتخانے کی آتشزدگی عالم اسلام کا نیا خلفشار

سعودی عرب اور ایران کے درمیان پائے جانے والے اختلافات کو کم کرنے کیلئے روایتی طورپرکوششوں کا سلسلہ ایک عرصے سے چلا آرہا تھا ، اسلامی ممالک کی خواہش تھی کہ دونوں ممالک باہم تصادم سے بچیں اور امت مسلمہ کے اتحاد کیلئے متفقہ اور مل کرکام کریں مگر جب ایران اور امریکہ کے درمیان تین دہائیوں کے بعد جب تعلقات بحال ہوئے تو اس وقت باخبر اور ذمہ دار حلقوں نے اس خبر کو جہاں خوش آئند قرار دیا وہاں پر کچھ حلقوں نے اسے نہایت تشویش کی نگاہ سے بھی دیکھا کہ ایران خلیج اور خطے میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے کیلئے کوئی نیاکھیل کھیلنے والا ہے ، عرب و فارس کے درمیان کھینچاؤ کی کہانی کوئی نئی نہیں سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے جب سعودی عرب کی قیادت سنبھالی تو انہوں نے عالم اسلام کے خلاف ہونے والی سازشوں کو نہایت سرعت کے ساتھ بھانپ لیا چنانچہ انہوں نے فوری طورپر اسلامی ممالک کے سربراہان کو ریاض میں بلایا اور ایک نئے مسلم اتحاد کی داغ بیل ڈالی اور متحدہ مسلم دفاعی فورس کی آئیڈیا کو دوبارہ پیش کیا اس سے قبل 1974ء میں لاہور میں ہونے والی اسلامی سربراہی کانفرنس میں سعودی عرب کے شاہ فیصل بن عبدالعزیز مرحوم اور پاکستان کے ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے یہ آئیڈیا پیش کیا تھا مگر دونوں مغربی ممالک سازشوں کا شکار ہوئے اور غیر فطری موت کا نشانہ بنے ۔جب 1979ء میں ایران میں رضا شاہ پہلوی کی حکومت کے خلاف امام خمینی نے انقلاب برپا کیا تو مغربی میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ انقلاب نہ صرف خلیج تک جائے گا بلکہ سعودی عرب کوبھی اپنی لپیٹ میں لے گا ۔ اس موقع پر انہوں نے کچھ متنازعہ بیانات بھی دئیے جو اب تاریخ کا حصہ ہیں اور کتابوں میں درج ہے جن سے انکار ممکن نہیں مگر ہمارے لئے ان کا یہاں تحریر کرنا آسان نہیں۔خلیج اور علاقائی ممالک پر اپنے تسلط کو قائم رکھناایران کی پرانی خواہش ہے جس پر وقتاً فوقتاً کام ہوتا رہتا ہے ۔ یمن کی جنگ میں سعودی عرب نے نہ صرف یمن کے عوام کی کھل کر مدد کی بلکہ اپنی سرحدوں کا بھی دفاع کیا اس جنگ میں ایران کی سپہ کھل کر سامنے آئی اور انہوں نے باغی حوثیوں کو مدد فراہم کی ۔ ایرانی جرنیلوں نے یہاں تک کہا کہ ان کی اگلی منزل مکہ اور مدینہ ہے جسے وہ آزاد کرانے کی خواہش رکھتے ہیں۔ دونوں ممالک کی یمن میں ہونے والی محاذ آرائی کو مسلم دنیا نے ختم کرنے کی کوشش اور اپنا اپنا نقطہ نظر پیش کیا۔ سعودی عرب کے قوانین اسلامی ہیں اور دنیائے اسلام کیلئے ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ سعودی عرب میں گزشتہ دنوں 47 افراد کو موت کی سزا دی گئی ان میں ایک شیعہ عالم بھی تھے اور وہ سعودی عرب کے شہری تھی مگر ان کی سزا کے خلاف ایران میں جو ردعمل دیکھنے میں آیا وہ باعث حیرت اس لئے نہیں کہ ایران کی موجودہ حکومت دنیا بھر میں بسنے والے شیعوں کو اپنا حامی اور ہمنوا تصور کرتی ہے اور ان کا خیال ہے کہ ایران ہی دنیا بھر میں بسنے والے شیعہ مسلک کے مسلمانوں کا راہبر ہے ۔ تہران میں شیعہ عالم کی سزائے موت پر ردعمل کے طورپر سعودی عرب کے سفارتخانے کو جلا دیا گیا اور مشہد مقدس میں سعودی قونصلیٹ کو بھی نذر آتش کیا گیا یہ ایک نہایت افسوسناک امر تھا کیونکہ دو ممالک کے بیچ تعلقات کس قدر بھی خراب کیوں نہ ہوں سفارتکاروں اور سفارتخانوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جاتا ہے ،حیرت اس بات پرہے کہ مظاہرین مکمل آزادی کے ساتھ سفارتخانہ نذر آتش کررہے تھے اور ایرانی فورسز انہیں روکنے میں یا تو ناکام تھیں یا پھر اس کا تماشا دیکھ رہی تھیں۔ یہ امر سفارتی آداب اور ضوابط کے بھی مکمل خلاف تھا کیونکہ معاہدہ ویانا کے مطابق سفارتکاروں کو تحفظ فراہم کرنا متعلقہ ملک کی کلی ذمہ داریوں میں آتا ہے اب میرے نزدیک تہران میں سعودی سفارتخانے کو نہیں جلایاگیا بلکہ ایران سعودی عرب دوستی کو ، بھائی چارے کو اور سفارتی تعلقات کو نذر آتش کیا گیا ہے۔ دونوں ممالک اسلامی دنیا میں اپنی اہمیت کے حامل ہیں مگر یہ حقیقت ہے کہ مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کی وجہ سے سعودی عرب کی جو اہمیت ہے اسے کم نہیں کیا جاسکتا اور اس کے ساتھ ساتھ حرمین شریفین کے ساتھ والہانہ لگاؤ اور اس کی خدمت کی بدولت آل سعود کے ساتھ دنیا بھر کے مسلمانوں کی محبت کوبھی ختم نہیں کیا جاسکتا۔ اہل تشیع کے نزدیک سیاسی و مذہبی وحدت کا تصور موجود ہے اور دنیا میں جہاں بھی رہے رہنمائی کیلئے نجف اشرف اور قم کی جانب دیکھتا ہے اور ایرانی حکومت دنیا بھر کے اہل تشیع کی سرپرستی کو اپنا مذہبی فریضہ جانتی ہے ایک سعودی شیعہ عالم کی سزا کے خلاف ایران کا ردعمل اس کی ایک دلیل ہے جس کی تردید نہیں کی جاسکتی جبکہ اہل سنت میں سیاسی وحدت کا کوئی تصور نہیں پایا جاتا۔ سعودی عرب کی اس وقت بھرپور خواہش ہے کہ اسلامی امہ کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا جائے اور 34ملکوں کے اتحاد سے اس کا آغاز ہوچکا ہے۔ ایران کو چاہیے کہ وہ سفارتی محاذ پر اسلامی اتحاد کیلئے کی جانے والی کوششوں کی حمایت کرے اور تہران میں جن افراد نے سعودی سفارتخانے کو نذر آتش کیا ان کو قانون کے شکنجے میں لاکر ان کیخلاف کارروائی کرے اور اس امر پر کھلے دل کے ساتھ سعودی عرب سے معذرت کرے تاکہ عالم اسلام آغیار کی سازشوں کا نشانہ نہ بن سکے ۔ ایران میں سفارتخانے کے نذر آتش کیے جانے کے عمل سے دنیا بھر کے مسلمانوں کو دکھ پہنچا ہے۔