- الإعلانات -

5 ؍ جنوری۔ اہلِ کشمیر کا ’یومِ حقِ خود ارادیت

پاکستان اور بھارت کے مابین گزشتہ66-67 برسوں سے روزبروز تروتازہ رہنے والا سنگین مسئلہ کشمیر وقت کے ساتھ ساتھ اپنی سنگینی میں اضافہ کررہا ہے مسئلہ کی شدت میں بھارت کی جانب سے کئی سفارتی پینترے بدلنے کے باوجود تاحال کمی نہیں آسکی ہے کل جب جنوری کی پانچ تاریخ گزری ، ہم تو نہیں بھولے کشمیریوں کو بھی یقیناًیاد ہوگا کہ سال 1949 کی5 ؍جنوری کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے (UNCIP) کے قیام کی منظوری دی جس عالمی کمیشن کے ذمہ یہ اہم کام لگایا گیا تھا کہ یہ عالمی کمیشن مقبوضہ جموں وکشمیر کے کشیدہ حالات پر نظر رکھے گا جب تک اِس ’متنازعہ علاقہ ‘ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان لڑی جانے والی پہلی جنگ کے بعد والے جنگی حالات و واقعات نہیں بدلتے مقبوضہ کشمیر میں امن و سکون جیسا پُرامن ماحول پیدا نہیں ہوتا (UNCIP) کے نامزد کردہ غیر جانبدار نمائندے مقبوضہ جموں وکشمیر سمیت پاکستان اور بھارت کی کشمیر سے ملنے والی سرحدوں کے نزدیک اپنے دفاتر قائم کریں گے اور وہاں وہ نگرانی کے فرائض انجام دیتے رہیں گے اگر بحیثیتِ پاکستانی قوم ہم متذکرہ تنازوہ کے بارے میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں 5 ؍ جنوری1949 کو منظور کردہ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی قرار داد پر آج تک عمل درآمد نہ کرواسکنے پر اِس ثقہ عالمی ادارہ کی ناکامی کو تسلیم کریں یااِسے کسی قسم کی پسپائی کا نام دیں تو کسی کو کیا اعتراض ہوگا اِتنا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود آج تک اقوامِ متحدہ نے اِس مسئلہ کی سنگینی کو کیوں پسِ پشت ڈال رکھا ہے کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی قابض سیکورٹی ادارے کشمیریوں پر ظلم وستم کے پہاڑ نہیں توڑتے آج بھی بھارتی فوج کے ظلم وستم کی بھڑکائی گئی آگ کی تپش میں کشمیر سلگ رہا ہے کئی لاکھ کشمیری خاک نشین کردئیے گئے بنیادی انسانی حقوق کے عالمی چمپیئن اُن کے حالی موالی چاہے وہ امریکی ہوں یا بھارتی یا پاکستان میں اُن کے ہمدرد ٹولز سیاست دان یا انسانی حقوق کے ’ڈالر بردار‘ سماجی قائدین و ممتاز کارکن‘ انسانیت کشی کے یہ سبھی خواتین وحضرات ‘ اپنی مفاداتی ہستی کی دنیا سے باہر نکل کر حق اور سچائی کا ساتھ دینے کی رتی برابر بھی اپنے اندر ہمت وجراّت پیدا کرنے سے ہمیشہ قاصر دکھائی دئیے اقوامِ متحدہ کے عالمی کنونشن میں پاکستانی وزیر اعظم پاکستان نواز شریف نے ا پنے اہم خطاب میں عالمی ادارے سمیت عالمی طاقتوں کے سامنے بھارتی انتظامیہ کے کنٹرول والے کشمیر کے دیرینہ مسائل کا تذکرہ کئی بار کیا یوں پاکستانی وزیر اعظم نے عالمی منصفوں کے اِس ’ٹارگیٹید‘ دوغلے معیار کی بدنما خامیوں کی جہاں نشاندہی کی وہاں بھارتی وزیر اعظم نریندرمود ی نے اُن کی اِن کوششوں کی امیّدوں پر پانی پھیر دیا بھارت نے یہ عجب طرفہ تماشا لگایا ہوا ہے ابھی تک سلامتی کونسل کی مستقل نشست حاصل کرنے کا بھارتی بخار نہیں اترا اپنے پڑوسی ممالک کی سلامتی کے لئے سامراجی عزائم رکھنے پر بھی وہ اپنا سارا زور صرف کیئے ہوئے ہے جبکہ وہ بزعمِ خود یہ سمجھتا ہے کہ اُسے سلامتی کونسل کی مستقل نشست دی جائے ؟ پاکستان نے سلامتی کونسل کی مستقل نشستوں میں کسی مزید ملک کی شمولیت کی مخالفت کر کے اُن عالمی حلقوں کو یقیناًبیک فٹ پر جانے پر مجبور کردیا جو بھارت کو کسی نہ کسی بہانے سلامتی کونسل میں مستقل نشست دینے کی ممکنہ مذموم تدبیریں بنا رہے ہیں پاکستان کو قطعاً کوئی غرض نہیں کہ مسٹر نریندر مودی نے اپنے اب تک کے دورانیہ میں کہاں کہاں نہیں پاکستان کے کشمیر کے بارے میں لیئے گئے حق بجانب موقف کے بارے میں کیا کیا نہیں کہا یا کیسا بہیمانہ و مخاصمانہ طرز عمل اپنایا دیکھنا یہ ہوگا اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں کشمیر کے بارے میں منظور کردہ دواہم قرار داد پرعمل در آمد کروانے کے لئے عالمی طاقتوں کا ردِ عمل کب سامنے آتا ہے؟ابتداء میں جیسے بیان کیا گیا ہے یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے 67 برس گزر چکے مقبوضہ جموں و کشمیر کے لاکھوں مسلمان یاس ونومیدی کی تصویر بنے بھار تی فوجیوں کے ظلم وستم کی غلامی کی زنجیروں میں ایک ایک لمحہ گن رہے ہیں5 ؍جنوری1949 ء کو کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کے دن کے طور پر ہم کبھی بھی نہیں بھلا سکتے ترقی وکمال کے اِس دور میں جہاں نظریاتی وجغرافیائی وحدتوں یا ملکوں اور قوموں کا باہمی میل جول اب ایک باقاعدہ جدید فن کی حیثیت اختیار کرتا جارہا ہے روز افزوں اِس سفارتی فن میں نئے سے نئے انداز واطوار اپنانے کی ایک دوڑ شروع ہوچکی ہے مختلف ملکوں میں خارجی امورومعاملات میں متعلقہ وزارتوں یا اِن شعبوں میں صرف اُن ہی افراد کو پذیرائی نصیب ہوتی ہے، جو آئے روز کی تبدیل ہونے والی سفارتی سیاست کے شطرنج کی بساط پر اپنے ’مہرے ‘ہنرمندی سے کھیلنے کی مہارت رکھتے ہیں، اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونا اپنی جگہ ایک اہمیت برابر ہونی چاہیئے ،لیکن اِس کے ساتھ عالمی امور میں اِن عہدوں پر فائز ہونے والی شخصیات کے لئے ضروری ہے کہ وہ بین الاقوامی سیاسیات و اقتصادیات اور مختلف قوموں کی خارجہ پالیسیوں کے ساتھ عالمی سفارتی تواریخ سے بھی کماحقہُ آگاہ ہوں ‘ مدبر ہوں ‘ زیرک وہوشیار اور کئی زبانوں کے ماہر ہوں افسوس صدہا افسوس! بڑی تکلیف دہ حقیقت ہے کہ سوائے چند ایک کو چھوڑ کر آجکل پاکستان کی خارجہ پالیسی کو جمہوری دور میں بخوبی آگے لے کر بڑھنے والوں شائد بہت ہی زیادہ کمی پائی جاتی ہے یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ تقسیمِ ہند کی بنیادی وجوہات میں ایک خاص وجوہ یہ بھی تھی کہ نظریاتی آویزش اور تصادم کی کوکھ سے اپنے وجود کی شناخت لیکر قیام کی تکمیل تک پہنچنے والے نئے ملک پاکستان کے لئے بین الاقوامی طور پر یہ انتہائی ضروری تھا کہ وہ نہ تو غیر موثر ملک ہوگا اور نہ یہ ملکِ پاکستان دنیا سے الگ تھلگ رہے گا پاکستان نے یقیناًبین الاقوامی فضاء میں عالمی سفارت کاری کے ذریعے سے قومی عزت ووقار کے ساتھ اپنی راہیں متعین کرنا ہیں،ساتھ ہمیں یہ بات کبھی نہیں بھلانی کہ لاکھ بھارت مسلسل ڈھٹائی کے ساتھ ’اٹوٹ انگ ‘ کا بے سُرا راگ الاپتا رہے، اِس سے تنازعہ ِٗ کشمیر کی سنگینی میں کوئی کمی نہیں آسکتی چونکہ بھارت خود یہ مسئلہ کشمیریوں کو استصوابِ رائے دینے کے حق کا یہ مسئلہ اقوامِ متحدہ میں لے گیا تھا تاریخ کو جھٹلایا نہیں جاسکتا، کشمیریوں اور پاکستانیوں کے دل ہمیشہ ایک ساتھ دھڑکتے ہیں اور دھڑکتے رہیں گے عالمی طاقتوں کو پہلی فرصت میں جنوبی ایشیا میں قرار واقعی امن کے قیام کو یقینی بنانے کے لئے بھارت پر اپنا پریشر مزید بڑھانا ہوگا۔