- الإعلانات -

ہم تم کو نہیں بھولے

جمعہ یکم جنوری کو چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف گوادر پہنچے جہاں انہوں نے تلار اور تربت کا دورہ بھی کیا اور عمائدین علاقہ سے بھی ملاقات کی ۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ انہیں پورا یقین ہے سال 2016ء دہشت گردی کے خاتمے اوریکجہتی کا سال ہوگا۔یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جنرل راحیل شریف نے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ایسے عزم کا اظہارکیا ہو ،بلکہ وہ شوال سے لے کر گوادر تک ہر جگہ پرعزم دکھائی دیتے ہیں۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ وہ صرف زبانی جمع خرچ سے کام نہیں لے رہے بلکہ عملاً اقدام اٹھائے جارہے ہیں، آپریشن ضرب عضب اسکی واضح اورٹھوس مثال ہے۔ آج سے ڈیڑھ سال قبل جب یہ آپریشن شروع کیا جارہا تھا تو صورتحال یہ تھی کہ ملک کا ہر اہم اورحساس ادارہ دہشت گردوں کی ہٹ لسٹ پر تھا اور کئی حساس تنصیبات دہشت گردی کا نشانہ بھی بن چکی تھیں۔ خدانخواستہ ایسا آپریشن چھ ماہ مزید تاخیر کا شکار ہوتا تو آج سب کفِ افسوس مل رہے ہوتے۔آپریشن ضرب عضب حقیقتاًدہشت گردوں کیلئے عذاب بن چکا ہے۔ فاٹا کا 98 فیصد سے زائد کا علاقہ دہشت گردوں سے پاک کرالیا گیا ہے جبکہ اس دوران 436 منصوبے ناکام بنائے گئے۔شمالی وزیرستان میں میران شاہ، میرعلی، دتہ خیل، رزمک، گریوم، شیوہ، اسپن وام، بویا اور دیگان کے علاقوں سے شدت پسندوں کا صفایا کردیا گیا ہے، شوال میں بھی نوے فیصد علاقہ کلئیر کرالیا گیا، دہشت گردوں کے 837ٹھکانوں سمیت ان کا انفراسٹرکچر تباہ کردیا گیا، جبکہ 3400دہشت گرد مارے گئے، انٹیلی جنس کی بنیاد پرملک بھرمیں 10 ہزار سے زائد کارروائیوں میں 150 سے زائد خطرناک دہشت گرد مارے گئے اور18 ہزارسے زائد کو گرفتار کیا گیا۔آپریشن ضرب عضب میں سیکیورٹی فورسز کے 400افسران اور جوانوں نے جام شہادت نوش کیا، جبکہ ایک ہزار 914جوان زخمی ہوئے، جبکہ پاک افغان سرحد کے قریب دہشت گردوں کے آخری ٹھکانے تباہ کیے جارہے ہیں۔ اس آپریشن سے قبل مغربی میڈیا طرح طرح کے الزامات پاکستان پرلگاتا تھا مگر اب اس بات کا کھلے لفظوں سے اعتراف کیاجارہاہے کہ آپریشن ضرب عضب نہایت کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ ضرب عضب آپریشن نے جو کامیابیاں حاصل کی ہیں ان کا عالمی سطح پر اعتراف کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ، امریکہ، برطانیہ، چین اور روس سمیت بہت سے ممالک نے دہشت گردی کے خلاف ضرب عضب آپریشن میں پاک فوج کی صلاحیتوں اور کامیابیوں کا اعتراف کیا ہے۔بین الاقوامی تحقیقاتی ادارے ’’دی کانفلکٹ مانیٹرنگ سینٹر‘‘ کی ماہانہ سکیورٹی رپورٹ کے مطابق اس آپریشن کے بعد پاکستان میں دہشت گردوں کے حملوں کی ماہانہ اوسط میں واضح کمی دیکھی جا رہی ہے۔ آپریشن سے قبل دہشت گردی میں یومیہ 32افراد جاں بحق ہو رہے تھے جوگھٹ کر 10سے بھی کم رہ گئے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ گزشتہ برس اکتوبر میں ڈنمارک کے وائس چیف آف ڈیفنس جنرل پیرلڈوگ سن نے تعریف کرتے ہوئے کہا تھا اس آپریشن کے نتیجے میں پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اس طرح افغانستان اورپاکستان کیلئے امریکہ کے معاون خصوصی جوناتھ نے پچھلے سال اکتوبر ہی میں کہا تھا کہ آپریشن ضر ب عضب سے وزیرستان اور خیبر ایجنسی محفوظ علاقے بن گئے ہیں ۔ ان علاقوں میں استحکام آیاہے اوریہ طویل مدت کیلئے محفوظ علاقہ بن گیا ہے‘‘۔
آپریشن کیلئے جہاں فوج کے جوان اور آفسر جانیں قربان کررہے ہیں وہاں فاٹا کے عوام نے بھی عظیم قربانی دی ہے۔ دس لاکھ سے زائد قبائلی عوام نے اپنا گھر بار چھوڑا تاکہ قوم کے دشمنوں کا قلع قمع کرنے کیلئے پاک فوج کودشواری پیش نہ آئے ۔ ایک طرف پاک فوج دہشت گردوں سے لڑتی رہی تو دوسری طرف لاکھوں بے گھر ہونے والے افراد کی دیکھ بھال بھی کرتے رہے۔ جوں جوں علاقہ کلیئر ہوتا گیا ساتھ آئی ڈی پیز کی واپسی کاعمل بھی شروع کردیا گیا ۔ آپریشن کی وجہ سے291827 خاندان بے گھر ہوئے تھے جن میں سے 31دسمبر تک ساڑھے 17ہزارسے زائد خاندان واپس اپنے گھروں کو جاچکے ہیں ۔ آئی ڈی پیز کی دیکھ بھال کی طرح واپسی کا عمل بھی اتنا ہی دشوار تھا مگر خود بے گھر ہونے والے قبائلی عوام کے تعاون سے یہ کام بھی احسن طریقے سے جاری ہے۔امید ہے کہ رواں سال نومبر تک تمام متاثرین کو اپنے اپنے گھروں کوواپس بھیج دیا جائے گا۔ واپس جانے والے خالی ہاتھ نہیں جارہے بلکہ راشن پانی اور اے ٹی ایم کارڈ بھی جاری کئے جارہے ہیں۔ آئی ڈی پیز کی واپسی کیساتھ تباہ حال علاقوں کی بحالی کاکام بھی تیزی سے جاری ہے۔ ابھی گزشتہ دنوں ہی آرمی چیف نے میر علی میں ایک جدید تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کا افتتاح کیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عسکری قیادت اپنی ذمہ داریوں سے زیادہ کام کررہی ہے حالانکہ ایسے کام سیاسی حکومتوں کے کرنے کے ہوتے ہیں جو نہیں کیے جارہے۔ وفاقی حکومت اس معاملے میں خود کو بری الذمہ سمجھ بیٹھی ہے۔حکومت جب تک ان علاقوں میں اپنی ذمہ داری کو نہیں سمجھے گی یا اپنی عملداری نہیں دکھائے گی تو آپریشن کے فوائد بے اثرہوجائیں گے۔امید ہے کہ سیاسی قیادت ایسا نہیں چاہے گی کیونکہ یہ ملک کے محفوظ مستقبل کا سوال ہے۔