- الإعلانات -

امت مسلمہ اور گرداب

امت مسلمہ کی کشتی ایک گرداب میں پھنسی ہوئی نظر آرہی ہے ۔ اسے دشمنوں نے گھیر رکھا ہے اور نفاق سے یہ ہچکولے کھارہی ہے ۔ دشمن تو دشمن ہوتا ہے اس سے کیوں توقع رکھی جائے کہ وہ مارنے میں یا نقصان پہچانے میں کوئی تامل یا رعایت کرے گا ۔ ایسے میں اعلیٰ حکومتی حکام کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جن سے اس طوفان کو مزید تقویت حاصل ہو ۔ یہ بہت قریں از قیاس ہو گا کہ امت مسلمہ کو دشمن تو اتنا نقصان نہیں پہنچا سکے جتنا اسے اپنوں نے نقصان پہنچایا ہے ۔ کچھ اپنے اس کے درپے ہیں تو کچھ اپنا بن کر اس کی بنیادوں پر وار کر رہے ہیں ۔ دانا دشمن بیوقوف دوست سے بہترہے کہ مصدق اس وقت بھی امت مسلمہ کو بھی کچھ اسی صورتحال کا سامنا ہے ۔ چند مفاد اور حشمت پرست لوگ اپنے نفس کی خاطر پوری امت کی قربانی دینے سے اجتناب نہیں کریں گے ۔
خارجہ پالیسی اپنے داخلہ امور اور عوام کی ضروریات اور خواہشات کو مدنظر رکھ کر بنائی جا تی ہے ۔ جب خارجہ امور کو بالا خواہشات کے تابع رکھا جائے تو یہ امر واضح ہے کہ عوام کے مصائب میں اضافہ کا سبب ہو گا ۔ دیکھنا تو یہ چاہیے کہ اگر ہمسایہ دوست ممالک میں کوئی تنازعہ شدت اختیار کر گیا ہے تو ایسے میں فریق بننے کی بجائے ان کے درمیان مصلح کا کردار ادا کیا جانا چاہیے ۔ اگر امر ضروری ہے تو ایسے میں حق اور ناحق کی تمیز کر کے صاحب حق کی طرف داری کی جانی چاہیے ۔ چور مچائے شور تو اس چور کو ہی سعد جان کر اس کی پیروی میں کیسے چور تلاش کیا جا سکتا ہے ۔ ایسے میں باریک بینی اور تفتیش کے متعلقہ امور پر انتہائی گرفت ضروری ہے ۔ یہ بھی ضروری ہے کہ انصاف اور حق کے تقاضوں کو مدنظر رکھ کر ہر رشتے اور ہر ناتے سے مبرا ہو کر حق تفتیش ادا کر کے ہی حق کو عیاں اور کذب کی نشاندہی کی جاسکتی ہے ۔
سعودیہ اور ایران کے تنازعہ میں پاکستان کا براہ راست فریق بننا ہرگز بھی حق نہیں بنتا ۔ ہمیں تاریخی طور پر دیکھنا ہو گا کہ یہ تنازعہ کیا ہے اور اس میں پاکستان کا کردار کہاں تک ہے ۔ کیا پاکستان یہ کردار ادا کرکے امت مسلمہ کا سہارا بن سکتا ہے ۔ اگر پاکستان یہ کردار ادا نہ کرے تو اس سے امت مسلمہ کو کیا نقصان ہو سکتا ہے ۔ سعودیہ کی اہمیت اس کے شاہی خاندان کی وجہ سے نہیں بلکہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی وجہ سے کی جاتی ہے ۔ اگر سعودیہ پر کسی طرح کسی بھی غیر مسلم طاقت یا اس کے طفیلیہ کا قبضہ کرادیا جائے تو یہ اللہ اور اس کے رسول کے گھر کی حفاظت سے غفلت اور عین امت مسلمہ کیلئے تباہی ہو گا ۔ اس سے امت مسلمہ بیت اللہ اور روضہ رسول ﷺ کی حرمت پر آنچ آتے دیکھ کر اگر انکھیں بند کر لیتی ہے تو پھر یقیناًایمان سے خالی زبانی جمع خرچ والے بنی اسرائیل اور امت مسلمہ میں کیا فرق رہ جائے گا ۔
تاریخی طور پر بھی عرب و فارس میں کشیدگی رہی ہے ۔ باوجودیہ کہ اسلامی ریاست ہونے کے دونوں کے عقائد میں واضح طور پر فرق ہے ۔ یہ عقائد کا فرق اور تاریخی ٹکراؤ مجموعی طور پر اکھٹا استعمال کرنے کی کوشش میں دشمن کامیاب ہو چکا ہے ۔ دشمنوں نے ہمیشہ امت مسلمہ میں ایسے کمزور پہلو تلاش کیے اور تراشے ہیں جس سے یہ امت کبھی بھی یکجا نہیں ہو سکی ۔ اس میں نفاق ہی دشمن کیلئے سلامتی کا بنیادی نکتہ ہے ۔ اس نفاق کو استعمال کرکے دشمن نے ہمیشہ امت مسلمہ کو شکست اور حزیمت سے دوچار کیا ہے ۔ فارس اور عرب میں اب تنازعہ ایسے موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں پر یقیناًیہ امت مسلمہ کیلئے گلے کی ہڈی کی طرح پھنس چکا ہے نہ نگلے بننے اور نہ اگلے چارا ۔ایسے میں ہر دو فریقین کو دیکھنا ہو گا کہ آیا وہ کہیں ناموس کعبہ و حرمت مصطفی اور امت مسلمہ کے درپے تو نہیں ہیں ۔ ان کی دشمنی اور انکے عقائد اور مفادات و تحفظات کا تعلق کہاں تک عقیدہ توحید و رسالت کی نگہبانی سے مماثل ہے ۔ مزید یہ کہ ہر دو ممالک کو ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت سے گریز کرنا چاہیے ۔ اگر عقیدہ کے زور پر سعودیہ میں انقلاب کی کوشش کرنا جائز ہے تو پھر اس کے روکنا کیسے ناجائز ہے ۔ ایسے میں اگر ایک ریاست اپنے عقیدہ کے پیروکاران کی پشت پناہی کرتی ہے اور اسے مادی اور دیگر وسائل باہم مہیا کرنے کی کوشش کرتی ہے تو دوسرے بھی لامحالہ اسی طرح کریں گے ۔ دیکھنا تو یہ چاہیے کہ امت مسلمہ جس صورتحال سے دوچار ہے اس پر مزید آگ لگانے کی بجائے کوئی ایسی راہ اختیار کی جائے جس سے دشمن کے مقاصد کو ناکام بنایا جائے ۔ بجائے اس کے الٹا دشمن کی سازش کو کامیاب بنانے کیلئے اپنوں کی پشت میں چھرا گھونپا جائے ۔ یہ دشمن کی دشمنی سے بڑھ کر شدید ہے کہ خطرہ کے موقع پر دوست روٹھ جائے اور اسے منانے کی کوشش میں دشمن حاوی ہو جائے ۔
دونوں فریقین کو دیکھنا ہو گا کہ اس سے امت مسلمہ کو کس قدر شدید نقصان پہنچنے کا احتمال ہے ۔ اگرچہ سعودیہ میں ایک فرد کو اگر ملکی قوانین کی خلاف ورزی پر سز ا دی گئی ہے تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ایک فرد کی پشت پناہی یا اس کو لے کر پوری امت مسلمہ کو ہی ڈبو دیا جائے ۔ ایسے تو دنیا میں ہر ملک میں ہوتا ہے کہ وہاں کے قانون کی خلاف ورزی پر سزا دی جاتی ہے ۔ اگر اس میں کسی بیرونی عنصر کی مداخلت شامل ہو تو اس پر زیادہ سختی کی جاتی ہے تاکہ بیرونی اشاروں پر کام کرنے والے عبرت حاصل کریں ۔ ایک ریاست کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی سلامتی اور یکجہتی کو قائم رکھنے کیلئے بیرونی امداد یا بیرونی اشاروں پر نچانے والے کسی بھی گروہ کی سرتابی کر سکے ۔
اسرائیل فلسطینی مجاہدین پر ظلم کے پہاڑ توڑتا آ رہا ہے ۔ انڈیا کشمیر میں مسلمانوں کے قتل عام اور نسل کشی میں عالمی اعزاز ہولڈر ہے ۔ اسی طرح روس اور چین میں مسلمانوں کو آزادی یا اپنے حقوق کی آواز بلند کرنے پر کیا کچھ نہیں سہنا پڑتا ۔ یورپی یونین میں تو حجاب پر پابندی ہے لیکن اس پر تو کسی اسلامی ملک نے نہ تو ان پر حملہ آور ہونے کی دھمکی دی اور نہ ہی کوئی احتجاج کیا ۔ یہ اسلام یا امت مسلمہ کی جنگ نہیں بلکہ ایک خاص سوچ اور اس کے پیچھے دشمن لابی کی پشت پناہی سے امت مسلمہ پر ایک کاری وار کرنے کا موقع ہے ۔ ضروری ہے کہ اس سوچ کو مزید اگے بڑھنے سے روکنے کیلئے ضروری ہے کہ ایران کو غیر ضروری اقدام سے گریز رکھنے اور اسے امت مسلمہ کی یکجہتی پر وار کرنے سے روکنے کیلئے تمام مسلمان اکھٹے ہوں ۔ ایران پر زور دیا جائے کہ وہ عقائد کو جنگ کو ممالک میں پھیلانے سے گریز کرے اور دیگر ممالک میں ہم عقیدہ لوگوں کی پشت پناہی سے گریز کرے ۔ بصورت دیگر اسے امت مسلمہ کو نقصان پہنچانے اور دشمن کی سازش میں اعانت اور اس کا ساتھ دینے کے جرم میں ایک غیر مسلم طاقت ہی قرار دیا جائے گا ۔ اس کا اخلاقی سماجی معاشی معاشرتی ہر طرح سے بائیکاٹ کیا جائے گا ۔ اس کے ساتھ سعودی حکمرانوں کو بھی چاہیے کہ وہ حرم پاک اور روضہ رسول کی حرمت کا پاس رکھتے ہوئے ایسے اقدامات سے گریز کریں جس سے امت مسلمہ کے کمزور جسد پر بوجھ پڑتا ہو ۔ انہیں چاہیے کہ وہ امت مسلمہ کیلئے ایک رہبر اور راہنما کردار کے حامل بنیں ۔ بدعات کو روکنے کیلئے قتل عام کی اگر اجازت انہیں ہے تو پھر ایسے کئی جرم ان پر بھی ثابت ہونگے جس سے ان کا وجود بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے ۔ عقیدہ کو بلیک میلنگ کے طورپر استعمال کرنے کی بجائے امت رسول پاک ﷺ کو اکھٹا کرنے کے اقدامات کیے جائیں ۔ اگر امت کے ہاتھ سے سرکار کی محبت کا دامن چھوٹ گیا تو پھر نہ عقیدہ رہے گا اور نہ ہی امت رہے گی ۔