- الإعلانات -

تجربہ ناکام……. ؟

ہندوستانی میڈیا کے مطابق دہلی شہر میں آلودگی کا تناسب فی ملی میٹر ’’ 2490 سے 3000 ‘‘ کے درمیان ہے جبکہ ماہرین کے مطابق نارمل طور پر اس کی مقدار ساٹھ سے ڈیڑھ سو کے درمیان ہونی چاہیے۔ اس ضمن میں ماہرین نے کہا ہے کہ بھارتی دارالحکومت دہلی کے شہریوں کی زندگی شدید خطرے کی زد میں ہے کیونکہ اس کے ماحول میں آلودگی کا شمار دنیا بھر کے آلودہ ترین شہروں میں ہونے لگا ہے ۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ دہلی کی کل آبادی تقریباً ایک کروڑ اسی لاکھ ہے ۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس شہر میں آلودگی کا تناسب اتنا زیادہ ہے کہ ہر جاندار کی زندگی تیزی سے کم ہو رہی ہے ۔ اسی وجہ سے سالِ رواں میں امریکی صدر نے 25 سے ستائیس جنوری کو بھارتی یوم جمہوریہ کے موقع پر دہلی کا تین روزہ سرکاری دورہ کیا تو’’ بلوم برگ ‘‘ جیسے عالمی شہرت کے حامل جریدے نے اپنی ستائیس جنوری کی نیوز رپورٹ بعنوان "Mr President, World’s Worst Air is Taking 6 Hours Off your Life” شائع کی ۔ یہ رپورٹ ممتاز صحافی ’’ "Natile Obiko Pearson نے تحریر کی ۔
اس رپورٹ کے مطابق اس امر کا حقیقی خدشہ ہے کہ امریکی صدر نے دہلی میں جو تین دن گزارے ، اس کے نتیجے میں اس شہر کا آلودہ اور زہریلا ماحول ان کی کل زندگی میں سے کم از کم چھ گھنٹے کم کرنے کا سبب بن چکا ہے ۔ اس رپورٹ کے مطابق دنیا کے بیس سب سے زیادہ آلودہ ترین شہروں میں سے گیارہ کا تعلق بھارت سے ہے اور دہلی کا نمبر بیجنگ کے بعد دنیا بھر میں دوسرے نمبر پر آتا ہے لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ چین کی حکومت کو اس خطرے کی شدت کا احساس ہے ۔ اسی وجہ سے وہاں کی حکومت نے پانچ سے سات دسمبر تین دن کے لئے بیجنگ اور اس کے گرد و نواح تمام فیکٹریاں مکمل طور پر بند کر دیں ۔ تمام ٹریفک بھی روک دی گئی ۔ تمام دفاتر اور سکولوں میں چھٹیاں کر دی گئی اور اس موثر حکمت عملی کے نتیجے میں صرف تین دن کے اند ر بیجنگ کے ماحول سے آلودگی کا تناسب ستر فیصد سے بھی کم ہو گیا ۔
دوسری طرف بھارت کے اندر بھی اس صورتحال کی سنگینی کا کچھ احساس ہو چکا ہے اسی وجہ سے دہلی کی صوبائی حکومت کے سربراہ ’’ اروند کجریوال ‘‘ نے اعلان کیا کہ کہ ’’ یکم سے پندرہ جنوری 2016 تک سڑکوں پر چلنے والی گاڑیوں کو قابل ذکر حد تک کم کیا جائے گا ‘‘ ۔ اس مقصد کے حصول کی خاطر ایک فارمولہ وضع کیا گیا جس کو ’’ ODD and EVEN ‘‘ فارمولے کا نام دیا گیا ہے ۔ یعنی ہفتے میں ہر گاڑی کی رجسٹرڈ نمبر پلیٹ کے آخری ہندسے کے مطابق اسے چلنے کی اجازت دی جائے گی ۔ یعنی جفت اور طاق نمبر والی گاڑیوں کو تین تین دن سڑکوں پر آنے کی اجازت ہو گی ۔ البتہ اتوار کو یہ پابندی نہیں لگائی جائے گی ۔ ہفتے کے باقی چھ دن صبح آٹھ سے رات آٹھ بجے تک طاق اور جفت والے فارمولے کا اطلاق ہو گا ۔ البتہ خواتین ڈرائیورز پر یہ پابندی لاگو نہیں ہو گی ۔ اس کے ساتھ فائر برگیڈ کی گاڑیوں اور ایمبولینسز پر بھی اس فارمولے کا اطلاق نہیں ہو گا ۔
دہلی میں عام دنوں میں چھ ہزار بسیں شہریوں کی آمد و رفت کے لئے چلتی ہیں ۔ ان بسوں کی تعداد بڑھا کر بارہ ہزار کی جائے گی ۔ آغاز میں یہ فارمولا صرف پندرہ دنوں کے لئے ہو گا اور اگر اس میں کامیابی ملی تو اس کا کی مدت میں توسیع کر دی جائے گی ۔بھارتی سپریم کورٹ نے بھی اس کی منظوری دے دی ہے اور بھارت کے مرکزی وزیر داخلہ ’’ راج ناتھ سنگھ ‘‘ نے کہا ہے کہ’’ مودی سرکار ضمن میں ہر ممکن امداد فراہم کرے گی ‘‘ ۔
اس فارمولے پر یکم جنوری سے تاحال عمل بھی جاری ہے مگر نتیجہ خاطر خواہ نہیں نکل پائے اور آلودگی میں محض ایک فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے ۔ البتہ سڑکوں پر چلنے والی کاروں کی تعداد میں ان دنوں پندرہ فیصد کمی ضرور محسوس کی گئی مگر اس کا اصل مقصد چونکہ حاصل نہیں ہو سکا لہذا آٹھ جنوری کو دہلی ہائی کورٹ نے اس معاملے کی سماعت کے لئے سماعت مقرر کیا ہے اور کہا ہے کہ ’’ اگر یہ تجربہ کامیاب نہیں ہوا تو کیوں نہ اسے ختم کر دیا جائے ‘‘ ۔
اس صورتحال پر تبصرہ کرتے مبصرین نے کہا ہے کہ بظاہر یہ ایک اچھی بات ہے کہ کم از کم بھارتی حکمرانوں کو اس معاملے کی سنگینی کا ادراک ہے لیکن اس میں کامیابی نہ ہونے کے برابر ہیں کیونکہ ڈر ہے کہ بہت سے صاحب حیثیت لوگ اس فارمولے کا توڑ کرنے کے لئے ایک کی بجائے دو گاڑیاں رکھ لی ہیں یعنی ایک طاق اور ایک جفت نمبر کی جس سے اس فارمولے کی افادیت ختم ہو کر رہ گئی ہے ۔ ویسے بھی چین میں تو گڈ گورننس کا جو عالم ہے ، اس کا عشرِ عشیر بھی بھارت میں نہیں ہے لہٰذا جب تک گڈ گورننس کو بہتر نہ بنایا جائے ، ایسے فارمولوں کی کامیابی کسی بھی طور ممکن نہیں کیونکہ چین نے تو گذشتہ دو عشروں میں تقریباً پینتالیس کروڑ شہریوں کو اپنی موثر حکمت عملی کے نتیجے میں خطِ افلاس سے اوپر اٹھا کر متوسط طبقے میں لا کھڑا کرنے کا اقتصادی معجزہ کر دکھایا ۔ اس کے باوجود بھارت میں ہونے والی کوشش کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا سکتا ہے اور صرف دعا ہی کی جا سکتی ہے کہ میر تقی میر نے دہلی شہر کو ’’ عالم میں انتخاب ‘‘ کہا تھا شاید وہ اپنی موجودہ بد ترین حالت سے باہر آ سکے ۔
مگر پہلے سات روز کے اس ناکام تجربے نے ثابت کر دیا ہے کہ دہلی میں اس ضمن میں بہتری کی توقع نہ کے برابر ہے ۔ ایسے میں بھارتی حکومت کو جو خدشہ ہے کہ اگر فوری طور پر صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو موثر ممالک اپنے شہریوں کو دہلی جانے سے منع کرنے کے حوالے سے ’’ ٹریول ڈائرکٹو ‘‘ جاری کر سکتے ہیں ، وہ بے جا نہیں ہے اور آنے والے دنوں میں اس ناکام تجربے کے اثرات بھارتی سیاحت پر اثر انداز ہو ں گے جس کے نتیجے میں ہندوستان کی ساکھ بری طرح متاثر ہو نے کا اندیشہ ہے ۔