- الإعلانات -

ہندستانی پالیسیاں اور پاکستان

اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا بھر میں ریاستی پالیسیاں اور بین ریاستی تعلقات اخلاقیات اصولوں اور انصاف اور عدل یا ذاتی کیمسٹری پر مبنی نہیں ہوتے ہیں کم از کم آج کی دنیا میں تو بالکل بھی نہیں ریاستوں کے مابین تعلقات کی بنیاد ہی باہمی مفادات پر مبنی ہوتی ہے جہاں ایک ہی اصول کام کرتا ہے اور وہ ہے مفاد دنیا میں بین ریاستی تنازعات کی تاریخ خاصی طویل ہے ان میں سے کئی تنازعات اب بین الاقوامی درجہ پا چکے ہیں جن میں فلسطین اور کشمیر کے معاملات سر فہرست ہیں اور دونوں تنازعات کی بنیاد ہی دھونس دھاندلی اور ریاستی جبر ہے جس میں انسانی حقوق کی شدید پامالیاں ہو رہی ہیں عصمتیں لٹ رہی ہیں نسلیں تباہ ہو رہی ہیں مختلف فورموں پر دھواں دھار تقاریر ہوتی ہیں لیکن ہوتا کیا ہے نشستن گفتن برخاستن سے بات آگے نہیں بڑھتی اس لئے کہ فلسطینی ریاست کے وجود میں آنے سے مغرب اور امریکہ دیکھیں گے کہ اس سے مغرب کو کیا مفاد حاصل ہوگا جہاں ایک غاصب قوت نے مقامی لوگوں زمین اور وسائل پر بزور قبضہ کر رکھا ہے اور مقامی لوگ عملی طور اجتماعی جیل کی سی زندگی گزار رہے ہیں جہاں خوراک ادویہ تک اسرائیلی مرضی کی مرہون منت ہے اسی طرح کشمیر کی آزادی سے مغرب امریکہ اور دوسری طاقتور قوموں کیا فائدہ ہوگا اب اگر حق و انصاف کی بات ہو تو کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق فوری طور پر کشمیریوں کی مرضی کے مطابق حل ہو جانا چاہئے جہاں ہندوستان نے سات لاکھ سے زیادہ فوج کے ذریعے بزور قبضہ کر رکھا ہے لیکن اس میں مغرب کا کوئی مفاد پورا نہیں ہوتا بلکہ جب تک یہ مسئلہ زندہ رہے گا خطے کے ممالک کو اپنا اسلحہ اور فوجی ٹیکنالوجی بیچتے رہیں گے ان کی اسلحہ ساز فیکٹریاں چلتی رہیں گی ان ملکوں ایمپلائمنٹ بڑھتی رہے گی جس کی مغرب اور امریکہ کو ہمیشہ ضرورت رہتی ہے لیکن اگر معاملہ بڑی طاقتوں کے مفاد کا ہو تو مشرقی تیمور کو انڈونیشیا سے بزور قوت کاٹ کر علیحدہ ملک بنا کر اپنے ایک پالتو غنڈے شنانہ گوش ماؤ کے حوالے کر دیا جاتا ہے جو آسٹریلیا کا ایک طفیلی ملک بن جاتا ہے اسی طرح سوڈان کے جنوبی علاقوں میں سازش کے ذریعے علیحدگی کی تحریک شروع کروا کر اسلامی ملک سوڈان کو دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا مغربی oil کمپنیاں مہینوں میں وہاں کے مقامی وسائل لوٹ کر رفوچکر ہو گئیں اور اب لٹنے کے بعد جنوبی سوڈان کی سیاسی قیادت پھر سے شمالی سوڈان میں ضم ہونا چاہتی ہے بندر اپنا کام دکھا گئے اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت اب آئیے دیکھیں کہ انڈیا کے کیا پلان ہیں اور انڈین قیادت کا مسئلہ کیا ہے تاریخی طور پر حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کبھی بھی اتنی بڑی اکائی کی صورت کوئی ملک نہیں رہا خاص طور پر ہندو کبھی بھی مقتدر نہیں رہا ما سوائے چھوٹے چھوٹے راجواڑوں کی صورت میں وہ بھی مسلمان حکمرانوں کے باجگزار بن کر تاریخ میں پہلی مرتبہ اتنی بڑی وحدت کی حکمرانی ملنے کے بعد موجودہ انڈین حکمرانوں میں کچھ نفسیاتی عوارض بھی در آئے ہیں جس نے ان کے اندر اپنے سابق حکمران طبقے سے بدلہ لینے کا جنون سوار کر دیا ہے اور یہ سابق حکمران طبقہ پاکستان کی صورت میں موجود ہے اس غصے اور نفرت کا اظہار آں جہانی سابق انڈین وزیراعظم شریمتی اندرا گاندھی مشرقی پاکستان کی علیحدگی موقع پر کر چکی ہیں یہ نفسیاتی زخم خاصا گہرا ہے جس کے مندمل ہونے میں شاید وقت لگے لیکن یہ نفسیاتی معاملہ یوپی راجستھان بھار اورگجرات تک محدود ہے زیادہ شدت ہندی بولنے والے لوگوں میں ہے لیکن اس کے ساتھ کئی اور معاملات بھی مربوط ہیں جس سے ہندوستانی قیادت اغماز برت رہی ہے جیسا کہ عرض کیا حا چکا ہے کہ ہندوستان کبھی بھی ایک اکائی کی صورت میں ملک نہیں رہا اس لئے ہندوستان کے باسیوں کی نفسیات ایک دوسرے سے قطعی مختلف ہے مثلا اگر آپ مدھیہ پردیش سے جنوب کی طرف جائیں تو ہندوستانی ریاست کا تصور خاصہ کمزور پڑتا جاتا ہے اور بتدریج جنوب کی طرف کمزور تر ہوتا جا تا ہے جہاں کشمیر کے معاملے سے لوگ قطعی لا تعلق ہیں وہ پاکستان اور دوسرے پڑوسیوں سے کاروباری تعلقات چاہتے ہیں غیر کاروباری لوگ ہندوستانی ریاست کا حصہ بنکر رہنا ہی نہیں چاہتے corridor red ایک پوری بیلٹ ہے جو شمال میں گڑوال سے شروع ہو کر جنوب اور جنوب مشرق تک جاتی ہے جہاں ہندوستانی حکومت کی رٹ بالکل نہیں ہے آسام ناگا لینڈ بوڈو قبائل ہندوستانی ریاست کو نہیں مانتیاور بہت سے قبائل ایسے ہین جن کو یہ تک پتہ نہیں کہ دہلی کہاں ہے اور کوئی مقتدرہ وہاں موجود ہے جس کی domain میں یہ علاقہ ہے یا ہم اس کا حصہ ہیں اسی طرح کوئی پنجابی اپنے آپ کو ہندوستانی کہلا کر فخر محسوس نہیں کرتا وہاں ہر شخص فخر سے اپنے آپ کو پنجابی کہلاتا ہے اور غالب اکثریت ہندوستان سے علیحدگی کی سوچ رکھتی ہے اور کشمیر تو عالم آشکارا حقیقت ہے ۔( ۔۔۔۔۔۔جاری ہے)