- الإعلانات -

کیا ہمارے قسمت میں یہی لکھا ہے

بد قسمتی سے ہمارے وزیرخزانہ اسحق ڈار صاحب جب بھی میڈیا سے مخاطب ہو تے تو اسکا کہنا ہوتا ہے کہ ماضی میں پاکستان کے زر مبادلہ کے ذ خائر 10 ارب ڈالر تھے اور اب پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ڈہائی سالہ دور اقتدار میں خا رجہ سکے کے ذخائر 21 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔یہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور نواز شریف کی خوش قسمتی ہے کہ دنیا میں تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ حد تک کمی واقع ہوئی مگر اسکے باوجود بھی نواز شریف حکومت تیل کی قیمتوں میں کمی سے غریب عوام کو کوئی فائدہ نہ دے سکے۔ اور بد قسمتی سے پاکستان میں غریب پستے اور رُلتے جا رہے ہیں۔ عالمی اعداد و شمار کے مطابق اس وقت پاکستان میں غُربت کی لکیر سے نیچے یعنی جسکی آمدنی200۱ روپے ، یا اس سے کم ہے انکی تعداد3 1کروڑ سے زیادہ ہے۔ایک طر ف اگر بے روز گاری میں اضافہ ہو رہا ہے نوجوان بچے اور بچیاں بے اے ، ایم اے ، ایم ایس سی، انجینیر نگ اور میڈیکل کی ڈگریاں ہاتھ میں پکڑ کر نوکری کے لئے در بدر کی ٹھو کریں کھا رہے ہیں تو دوسری طر ف مہنگائی نے پاکستانی غریب عوام کا جینا دو بھر کیا ہے۔ سکول اور کالج کی فیسوں سے لیکر علاج معالجے کی سہولیات اور غریب پڑھے لکھے بچے بچیوں کے لئے نو کری تک وہ کونسا کام ہے جو غریب اور پسے ہوئے عوام کے بس میں ہے اور جسکی ذمہ داری ریاست کی ہے۔ایک بچے کی پہلی جماعت سے لیکر کالج اور یونیور سٹی لیول تک بچے پر غریب والدین کا کتنا خرچہ ہوتا ہے ، مگر اسکے باوجود بھی بچے بچی دو ٹکے کی نو کری کے لئے در بدر کی ٹوکریں کھاتے رہتے ہیں۔ وطن عزیز میں والدین غُربت ، تنگدستی ، معاشی اور مالی مسائل کی وجہ معصوم بچوں کو قتل کرتے ور خود خود کشی کرنے پر مجبور ہیں۔ انکی مثالیں روزانہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر د یکھی جا سکتی ہیں۔ پاکستانی حکمرانوں کو تو پاکستان میں کوئی مسئلہ نظر نہیں آرہا ہے۔ میں مغرب کی نماز کے بعد نیو کٹا ریاں ، سکتھ روڈ،، کمر شل مار کیٹ ، کالج چوک کا چکر لگا تاہوں ۔ ایک مربع کلو میٹر کے فا صلے میں تین جگہوں پر سینکڑوں کی تعداد میں مزدور اور غریب لوگ الصدیق میرج ہال، الحمید میرج ہال اور کمر شل ما رکیٹ کے بالکل قریب با غبان دستر خوان پر قطاروں میں کھڑے ہوکر مُفت راشن کا کھڑے ہوکر گھنٹوں گھنٹوں انتظار کرتے ہیں۔ ان میں نوجوان بچے، بچیاں ، مزدور ، عورتیں اور مر د کھڑے ہوکر اپنے بھاری کا انتظار کرتے ہیں۔ با قی غریب میونسپل کا رپو ریشن کے کچرے کے ڈرموں سے چیزیں نکال نکال کر کھا رہے ہوتے ہیں ۔ 1992 میں، جب میں بنگلہ دیش اور بھارت کے دورے پر گیا تھا تو وہاں کچرے کے ڈرموں میں جب لوگوں کو خوراکی چیزوں کو تلا ش تلاش کرتے دیکھتا تو مُجھے انکی غُربت پسماندگی پر بڑی حیرانگی ہوتی ، کیونکہ اُس وقت پاکستان میں غُربت کا وہ حال نہ تھا، جو بنگلہ دیش ، بھارت یا جنوبی ایشیاء کے دوسرے ملکوں میں تھا۔ وہ تو ترقی کرتے ہوئے ہم سے کافی نکل گئے اور ہم پیچھے کی طر ف آنے پر مجبور ہیں ص۔ بد قسمتی سے ہمارے حکمران پاکستانی عوام کے دشمن ہیں ۔ میرے خیال میں دنیا کے کسی خطے میں ایسے ظالم اور جابر حکمران نہیں ہونگے جو پاکستان کے ہیں۔ بد قسمتی سے دنیا میں مختلف چیزوں کی قیمتوں میں کمی واقع ہو رہی ہے جب پاکستان میں اس میں کمی کے با وجو د بھی اضا فہ ہورہا ہے۔ سال 2015 میں دنیا بھر میں خام تیل ، خو ر دنی پام آئل، گندم ، چینی سمیت اکثر چیزوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے با وجود پاکستان میں صا رفین کو مہنگائی سے نجات نہ مل سکی بلکہ اسکے بر عکس بعض اشیاء کے نر خ بڑھ گئے اور کم آمدن والے طبقے کو تو مہنگائی نے کچل کر ہی رکھ دیا، اس وقت پاکستان میں پٹرول عالمی ما رکیٹ سے کم و بیش 44 روپے لیٹر اور چینی 20 روپے کلوگرام مہنگی ہے ، جبکہ ماش کی دال کی قیمتیں تو مُر غی کی گو شت سے بھی زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ چائے کی پتی کے نرخ سال 2015 میں 230 روپے فی 950 گرام بڑھ گئے ہیں، جبکہ گذشتہ ایک سال میں مسور کی دال 11 روپے، چنے کی دال 47 روپے، کابلی چنا 28 روپے اور کالا چنا 32 روپے فی کلو گرام مہنگا ہو گیا ہے۔آٹے کی قیمت عالمی رحجان کے با وجود بھی پاکستان میں 6 روپے فی کلو بڑھ گیا۔ سر کاری اعداد و شمار کے مطابق مہنگائی کی رفتار تا ریخ کی دھیمی ترین سطح کو چھو رہی ہے تاہم کھلے با زار میں اشیاء صرف بد ستور مہنگے داموں فروخت ہو رہی ہے۔عالمی بازار میں پٹرول کی قیمت ایک سال کے دوران 1.68ڈالر فی گیلن سے کم ہوکر 1.21ڈالر فی گیلن کی سطح پر پہنچ گئی۔ اور اس طر ح عالمی ما رکیٹ میں پٹرول کی قیمت 33 روپے فی لیٹر بنتی ہے تاہم پاکستان میں پٹرول 76 روپے فی لیٹر کے حساب سے فروخت ہوتی ہے۔ عالمی ما رکیٹ میں چینی کی قیمت میں کمی کی با وجود ملک کی سب سے بڑی ہول سیل اور پر چون ما رکیٹ کراچی میں سال بھر کے دوران چینی کی خوردہ قیمت میں 5 روپے کا اضافہ ہوا۔ سال کے آ غاز پر بین الاقوامی ما رکیٹ میں چینی 33سینٹ یعنی 35 روپے فی کلوگرام تھی جو اگست میں کم ہوکر 29 سینٹ کی سطح پر آگئی، تاہم چینی 65روپے اور اب 55 روپے فی کلو گرام فروخت کی جارہی ہے۔
چینی کی طر ح پاکستان میں گندم اور آٹے کی قیمتوں پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ انٹر نیشنل ما رکیٹ میں گندم کی قیمت 233 ڈالر فی میٹرک ٹن سے کم ہوکر 158 ڈالر ہوگئی مگر بد قسمتی سے پاکستان میں گندم اور آٹے کی قیمتوں میں کمی کے بجائے اضافے اور مہنگائی کا رُحجان رہا۔ڈھائی نمبر آٹے کی قیمت 40 روپے سے بڑھ کر 45 روپے فی کلو گرام، فائن آٹے کی قیمت 45روپے سے بڑھ کر 48 روپے فی کلو گرام ہوئی تھی۔سال بھر کے دوران مختلف اقسام کی دالوں کی قیمت میں بھی کوئی نمایاں کمی نہ ہوسکی۔ مسور کی دال 135 روپے سے بڑھ کر 145 روپے کلو، مسور ثابت122 سے بڑھ کر 127 روپے کلو تک پہنچ گئی ، مونگ کی دال 150 سے بڑھ کر 160 روپے اور ما ش کی دال 156روپے سے بڑھ کر تا ریخ کی بلند ترین سطح یعنی 270 روپے تک پہنچ گئی تھی۔ایک سال کے دوران مہنگے با سمتی چاول میں 25سے لیکر35روپے فی کلو گرام کمی ہوئی تھی تاہم عام ما رکیٹ میں چاول کی قیمتوں میں 5سے 6روپے کمی ہوئی۔انٹر نیشنل ما رکیٹ میں خشک دودھ کی قیمت میں سال بھر کے دوران 15 فی صد کمی کے با وجود پاکستان میں خشک دودھ کی قیمتوں میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ اور اسی طر ح خشک دودھ کا 910 گرام کا پیکٹ بد ستور 720 روپے کا اور چائے کے لئے خا ص دودھ بدستور 700 روپے کلو فروخت ہو رہا تھا۔جبکہ پیکٹ ٹیٹرا پیک یعنی پیکٹ میں دودھ 110رو پے کا پیٹ فروخت ہوتا رہا۔عالمی ما رکیٹ میں خور دنی تیل کی قیمتوں میں ایک سال کے دوران 25فی صد تک کمی وا قع ہوئی مگع وطن عزیز میں اسکو بھی مہنگا فروخت کیا جاتا رہا۔ صابن اور ڈیٹرجنٹ کے خام میٹیڑیلمیں نما یاں کمی کے با وجود صابن اورڈیٹرجنٹ بنانے والے کمپنیوں نے بھی قیمتیں بر قرار رکھیں اور صا رفین کو کوئی ریلیف نہیں دیا گیا۔ جن ملک کے حکمرانوں کا یہ حال ہو اس سے ہم کیا توقع کر سکتے ہیں۔