- الإعلانات -

دہشت گرد ایسے ہوتے ہیں۔۔۔؟

بھارت میں ہونے والے پٹھان کوٹ ایئربیس حملے کی حقیقت کیا ہے؟ ایئربیس پربھارتی رپورٹس کے مطابق6دہشت گردوں نے حملہ کیا جسے بھارتی فوج 4دن کی انتھک محنت کے بعد واگزار کروانے میں کامیاب ہوئی۔ حملہ ہوتے ہی بھارتی میڈیا نے اپنے روایتی ’’بغضِ پاکستان ‘‘کا مظاہرہ کیا اور فوراً سے پیشتر حملے کا ملبہ پاکستان پر ڈال دیا۔ دو دن قبل ایک بھارتی ٹی وی چینل ’’زی ٹی وی‘‘ نے ایک مبینہ فون کال نشر کی جس کے متعلق بتایا گیا کہ یہ کال پٹھان کوٹ میں موجود دہشت گرد نے پاکستان میں اپنی والدہ کو کی تھی۔ فون کال سن کر کوئی بھی شخص اس کی حقیقت کا اندازہ لگا سکتا ہے۔ ایک طرف بھارتی میڈیا کہہ رہا تھا کہ دہشت گرد پاکستان کے علاقے بہاولپور سے آئے تھے اور حملے کے دوران پنجابی بول رہے تھے۔حالانکہ بہاولپور میں پنجابی نہیں سرائیکی بولی جاتی ہے۔ مگر زی ٹی وی کی نشر کردہ اس فون کال میں مبینہ ماں بیٹا خالص ہندی لہجے میں ’’اردو‘‘ بول رہے تھے۔ فون کال چند فقروں پر محیط ہے۔ سب سے پہلے ماں پوچھتی ہے کہ ’’بیٹا کہاں ہو؟‘‘ بیٹا جواب دیتا ہے کہ ’’میں یہاں فدائین کے ساتھ ہوں۔‘‘ماں کہتی ہے کہ ’’بیٹا جان دینے سے پہلے کھانا کھا لینا۔‘‘بس یہی وہ فقرے ہیں جو بھارتی ٹی وی نے نشر کیے۔ اب جو لوگ بھی پاکستان کے کلچر، پاکستان کی اردو اور پاکستانی ماؤں کے اپنے بیٹوں کے ساتھ روئیے سے واقف ہیں وہ بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ یہ فون کال ٹی وی کے عملے نے خود ریکارڈ کی اور نشر کر دی۔ پاکستانی شدت پسندوں نے کبھی اپنے لیے ’’فدائین‘‘ کا لفظ استعمال نہیں کیا، بلکہ یہ لفظ ان کے لیے ہمیشہ بھارتی و دیگر غیرملکی میڈیا نے استعمال کیا ہے۔دوسرے کوئی بھی ماں کیا اپنے بیٹے کو مرنے سے پہلے یہ نصیحت کرے گی کہ بیٹا مرنے سے پہلے کھانا کھا لینا؟اگر بھارتی ٹی وی چینل کے عملے میں ذرا سی بھی عقل ہوتی تو وہ ایسی فاش غلطی نہ کرتے۔ کیا کبھی ایسا ہو سکتا ہے کہ بیٹا موت کے قریب کھڑا ہو اور ماں کی آواز میں وہ سکون و طمانیت ہو جو کال میں اس خاتون کی آواز میں موجود تھی؟کھنکتی، چہکتی اور لہکتی آواز، جیسے کسی زی ٹی وی کے ڈرامے کی اداکارہ کی ہو۔ اول تو مائیں اپنے بیٹوں کو اس طرح مرنے کے لیے بھیج ہی نہیں سکتیں، مائیں اپنی جان تو دے سکتی ہیں مگر اپنے بیٹوں کو اس طرح مرنے کے لیے روانہ نہیں کر سکتیں۔لیکن فرض محال اگر ایسا مان بھی لیا جائے تو کیا مرنے کے لیے جانے والے شدت پسند کی ماں اسے مرنے سے پہلے کلمہ طیبہ پڑھنے کی ہدایت نہ کرتی؟ کوئی قرآنی سورۃ پڑھنے کی تلقین نہ کرتی؟ مگر یہاں تو ماں اپنے بیٹے کو مرنے سے پہلے ’’کھانا‘‘کھانے کی نصیحت کر رہی تھی۔زی ٹی وی کی اس صناعی سے پاکستان کے خلاف تو کچھ ثابت نہیں ہو سکا البتہ بھارتیوں کی بھوک ضرور ثابت ہو گئی ہے، یہ ضرور ثابت ہو گیا ہے کہ ان کے ذہن میں ہر لحظہ صرف ’’کھانا‘‘ ہی سمایا رہتا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک کال ریکارڈ کرنے کے لیے بھی ان کے سکرپٹ میں کھانا ہی غالب رہا۔ حالانکہ ’’کھانا‘‘ اس وقت ہمارے حکمرانوں کا ٹریڈ مارک ہے۔
کچھ حقائق ہیں جن کا تجزیہ کیا جائے تو پٹھان کوٹ حملہ بھی ممبئی حملے کی طرح خود بھارت سرکار یا اس کے اداروں ہی کا شاخسانہ لگتا ہے۔ جس طرح اس وقت کی بھارتی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف ایک بل پاس کروانے کے لیے ممبئی حملے کروائے اور ملبہ پاکستان پر ڈال دیا۔ بعد میں خود بھارتی محکمہ داخلہ کے ایک سابق افسر نے اس کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ پٹھان کوٹ ایئربیس رہائشی و کاروباری علاقے میں موجود ہے جس کے اردگرد مارکیٹیں موجود ہیں، عموماً یہ مارکیٹیں رات گئے تک کھلی رہتی ہیں مگر جس دن ایئربیس پر حملہ ہوا اس دن فوج نے دکانیں سرشام ہی بند کروا دیں۔ ایئربیس کے راستے میں جگہ جگہ بیریئر لگے ہوئے تھے، اس روز وہ بیریئر بھی ہٹا دیئے گئے تھے۔ بھارتی فوج نے یہ دو اقدامات کیوں کیے؟حالانکہ بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ایئربیس پر حملے کی خفیہ اطلاعات موجود تھیں، مگر بھارتی فوج نے سکیورٹی سخت کرنے کی بجائے پہلے سے لگے بیریئر بھی ہٹا دیئے۔دوسری طرف کہا جاتا ہے کہ دہشت گردوں نے ایک ڈی ایس پی سے گاڑی چھینی اور اسے بھی ساتھ لے گئے مگر کچھ گھنٹوں بعد اسے صحیح سلامت چھوڑ دیا۔ یہ کیسے دہشت گرد تھے جو بھارتی سکیورٹی فورسز پر حملہ کرنے گئے تھے اور ایک سکیورٹی افسر کو اغواء کر لینے کے بعد اسے زندہ چھوڑ دیا؟دہشت گردی و اغواء کے واقعات ہمارے یہاں بھی ہوتے رہتے ہیں۔ آج تک دہشت گردوں نے ہمارے کسی مغوی کو تو نہیں چھوڑا، خاص طور پر ہمارے سکیورٹی اہلکاروں کو۔ اس سے تو ثابت ہوتا ہے کہ بھارت کے دہشت گرد بھی خاصے ’’رحم دل‘‘ واقع ہوئے ہیں، اچھا ہو اگر وہ ہم سے دہشت گردوں کا تبادلہ کر لے تاکہ کچھ دن ہم ایسے رحم دل دہشت گردوں سے لطف اندوز ہو سکیں اور بھارت جان سکے کہ فی الحقیقت دہشت گرد ہوتے کیا ہیں۔
نریندر مودی کا ’’اچانک‘‘ دورۂ پاکستان بھارت کے کچھ حلقوں کو قطعاً پسند نہیں آیا تھا۔ نریندرمودی کو بھارتیوں نے جو بھاری اکثریت سے وزیراعظم بنایا تھا اس کی صرف دو وجوہات تھیں، ’’مسلم دشمنی اور پاکستان دشمنی۔‘‘مگر جب وہ اپنے ’’مینڈیٹ‘‘کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ ’’بظاہر‘‘ محبت کی پینگیں بڑھانے لگے تو انہیں مینڈیٹ دینے والوں کی ناراضگی لازمی تھی۔ہم بھارتی میڈیا کی طرح کوئی بھی حتمی فیصلہ نہیں سنانے کے قائل نہیں مگر اپنے تجزئیے کی بنیاد پر بھارت سرکار سے ایک درخواست کرتے ہیں کہ وہ سانحہ پٹھان کوٹ کی تحقیقات میں اس پہلو کو بھی زیرغور لائیں کہ کہیں سانحہ پٹھان کوٹ پاک بھارت تعلقات میں بہتری کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے لیے کسی اندرونی بھارتی گروہ یا ادارے کی سازش تو نہیں۔اس کے علاوہ تحقیقات میں جو بھی معلومات بھارت کو حاصل ہوں ان کا تبادلہ پاکستان کے ساتھ کرے اور اگر دہشت گردوں کو فی الواقعی کوئی تعلق پاکستان سے جڑااور بھارت نے اس کے ثبوت فراہم کر دیئے تو یقین رکھے کہ پاکستان ان شرپسندوں کے خلاف کارروائی کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھے گا، کیونکہ پاکستانی حکومت اور فوج دونوں اس وقت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ ہیں اور یہ بھی نہیں چاہتیں کہ پاک سرزمین کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہو۔