- الإعلانات -

علاج اِس کا کوئی چارہ گراں ہے کہ نہیں

قارئین کرام ! خطے میں محل وقوع کے اعتبار سے سرزمینِ پاکستان نہ صرف جنوبی ایشیا میں مرکزی اہمیت کی حامل ہے بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں خلیج کے دروازے پراِس کی موجودگی مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت ہونے کے پیش نظر انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ چنانچہ جغرافیائی اِسٹرٹیجک لوکیشن اور حساس قومی سلامتی امور کے پیش نظر خطے میں وقوع پزیر ہونے والی کسی بھی غیرمعمولی صورتحال سے پاکستان کا متاثر ہونا غیر ممکنات میں سے نہیں ہے ۔ نیا سال شروع ہوا تو دنیا بھر میں حالات کی بہتری کی توقعات کی جا رہی تھی لیکن نئے سال کے پہلے ہی ہفتے میں خطے میں دو ایسے غیرمعمولی حساس واقعات نے جنم لیا ہے جن سے پاکستان کا متاثر ہونا لازمی اَمر ہے ، بھارت میں پٹھانکوٹ ایئر بیس پر حملہ ہوا ہے اور ایران میں سعودی عرب کے سفارت خانے کو آگ لگائی گئی ہے ۔بھارت میں پٹھانکوٹ کے ہوائی اڈے پر ہونے والی دہشت گردی کی واردات جس میں ماضی کی طرح کسی ثبوت کے بغیر ہی بھارتی میڈیا اور ریاستی ادارے پاکستان کو ملوث کرنے میں پیش پیش نظر آتے ہیں پر غور و فکر کیا جانا چاہیے ۔ماضی میں ممبئی دہشت گردی کے حوالے سے کئی برسوں تک پاکستان ، بھارت تعلقات اُتراؤ چڑھاؤ کا شکار رہے حتیٰ کہ دس ماہ تک بھارتی فوج پاکستانی سرحدوں پر تعینات رہی ۔ بہرحال ، بھارت میں نئے وزیراعظم نریندر سنگھ مودی کی حلف وفاداری کے موقع پر جنوبی ایشیا میں امن و امان کی فضا کے قیام کے پیش نظر وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف نے غیر مشروط طور پر نئی دہلی جا کر نہ صرف نریندر مودی کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی بلکہ ایک خط کے ذریعے نئے بھارتی وزیراعظم کو دوطرفہ بات چیت کے ذریعے دونوں ملکوں کے درمیان مسائل کو گفت و شنید کے ذریعے حل کرنیکی دعوت بھی دی ۔ گو کہ بھارت نئی دہلی میں دونوں ملکوں کے درمیان تمام مسائل پر بات چیت کیلئے پاکستانی مشیر خارجہ سے ابتدائی مذاکرات پر رضامند ہوا تھا لیکن بات چیت سے قبل ہی بھارتی حکام اور میڈیا نے پاکستان کی جانب سے کشمیر کو متنازع علاقہ کہنے پر پاکستانی مشیر سے ملاقات کیلئے آنے والے کشمیری نمائندوں کی گرفتاری و نظر بندی کے حوالے سے نئی دہلی میں ہونے والے ڈائیلاگ کو شروع ہونے سے قبل ہی سبوتاژ کردیا تھا۔ اِس پر طرہّ یہ کہ بھارت نے کشمیر پر پاکستانی موقف پر دباؤ بڑھانے کیلئے جو اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کیمطابق بھی ایک متنازع مسئلہ ہے ، نہ صرف کشمیر کنٹرول لائین کو ہتھیاروں کے استعمال سے گرمانا شروع کیا ہے بلکہ سیالکوٹ ورکنگ باؤنڈری پر بھی سکولوں کے بچوں اور شہری آبادیوں کو بلا اشتعال گولہ باری کے ذریعے قتل و غارتگری کا نشانہ بنانے سے گریز نہیں کیا ۔ لیکن پاکستان کے اصولی موقف اور واہگہ بارڈر کے ذریعے افغانستان اور وسط ایشیائی ریاستوں تک بھارتی تجارتی رسائی کے مخصوص مفادات کے حصول کے پیش نظر بھارت نے پہلے تو چولہ بدل کر گزشتہ ماہ افغانستان پر ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کیلئے بھارتی وزیر خارجہ شسما سوراج کو اسلام آباد بھیجا گیا اور جامع مذاکرات کے ذریعے پاکستان کیساتھ تمام مسائل پر گفت و شنید کا عندیہ ظاہر کیا گیا۔ پھر اچانک وزیراعظم مودی بنفس نفیس دورہ افغانستان کے بعد 25 دسمبر کو وزیراعظم نواز شریف سے غیر شیڈول ملاقات کیلئے لاہور پہنچے لیکن یہ سحر جلد ہی ٹوٹ گیا جب پٹھانکوٹ دہشت گردی کے حوالے سے جس کی ذمہ داری مبینہ طور پر ایک نام نہاد کشمیر جہاد گروپ کی جانب سے قبول کی گئی ہے جس کا پہلے کبھی چرچا نہیں ہوا ۔ اِسی طرح افغانستان کے شہر مزار شریف میں بھارتی قونصل خانے اور کابل ایئرپورٹ پر بظاہر طالبان کی جانب سے خودکش دھماکہ ہوا ہے جس کا سر پیر بھی ے بغیر کسی جواز کے پاکستان کے سر باندھنے کی سازش کی جا رہی ہے۔یہی صورتحال بھارت میں پٹھانکوٹ دہشت گردی کے حوالے سے اُبھرتی نظر آ رہی ہے جس میں یہ جانے بغیر کہ پٹھانکوت واردات کا اصل ماسٹر مائنڈ کون ہے بھارت ایک مرتبہ پھر پاکستان پر سیاسی دباؤ ڈالنے کیلئے خطے میں حالات کو بگاڑ نے پر مائل نظر آتا ہے۔
محترم قارئین ، دوسری جانب سعودی ایران تعلقات ایک مرتبہ پھر خرابی کا شکار ہیں ۔سعودی عرب میں مبینہ طور پر دہشت گردی میں ملوث 47 سعودی شہریوں جن میں ایک سعودی شعیہ عالم شیخ نمر باقر النمر بھی شامل تھے کو چند روز قبل موت کی سزا دئیے جانے کے بعد مشتعل ایرانی مظاہرین نے تہران اور مشہد میں بل ترتیب سعودی سفارتی خانے اور قونصل خانے میں آگ دی جس کے بعد سعودی عرب نے ایران سے سفارتی، تجارتی اور فضائی روابط ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے جبکہ سوڈان اور بحرین نے بھی ایران سے سفارتی تعلقات منقطع کر لئے ہیں۔ سعودی شہریوں پر ایران جانے پر پابندی لگا دی گئی ہے البتہ ایرانی زائرین پر کسی قسم کی پابندی نہیں لگائی گئی ہے۔ دنیا بھر میں عدالتی فیصلوں سے اختلاف کرتے ہوئے پُرامن احتجاج تو کیا جاتا ہے لیکن ایران میں سفارت خانے اور قونصل خانے کو آگ لگا کر جس شدت پسندی کا مظاہرہ کیا گیا ہے وہ کوئی احسن اقدام نہیں ہے ۔ ماضی میں تہران میں امریکی سفارت خانے کو بھی ایسے ہی عوامی شدت پسندی کا نشانہ بنایا گیا تھاجس کا خمیازعہ اقتصادی پابندیوں کی شکل میں ایرانی حکومت کو کافی عرصہ تک بھگتنا پڑا تھا ۔ بہرحال ایرانی حکومت کی جانب سے اِس بے حکمت شدید عوامی ردعمل کو روکنے میں ناکامی کے باعث مشرق وسطیٰ میں صورتحال کافی کشیدہ ہے اور امریکہ نے اِسے خطے میں فرقہ پرستی کے رجحانات کو مہمیز دینے کے مترادف قرار دیا ہے جبکہ روس اور چین نے دونوں ممالک کو تحمل سے کام لینے کیلئے کہا ہے ۔ حقیقت یہی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں سعودی ایران تعلقات یمن کی خانہ جنگی میں حوثی قبائل کو ایرانی حساس اسلحہ اور تربیت کی فراہمی پر پہلے ہی سیاسی کشیدگی کی لپیٹ میں ہیں جسے گذشتہ حج کے موقع پر بھگدڑ میں ایرانی اور دیگر ممالک کے حجاج کی شہادت جس میں ایک سو سے زیادہ پاکستانی حجاج بھی شہید ہوئے تھے پر ایرانی سپریم مذہبی رہنما آیت اللہ علی خمینائی نے سعودی حکومت سے مبینہ ناقص حج انتظامات کی ذمہ داری قبول کرنے اور مسلم دنیا سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا جبکہ ایرانی صدر حسن روحانی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں حج کے دوران پیش آنے والے واقعات کو دلخراش قرار دیتے ہوئے اِس کی ذمہ داری سعودی حکومت پر ڈالتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔ البتہ سعودی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ سانحۂ منیٰ کی مکمل تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے اور تحقیقات کی روشنی میں منظر عام پر آنے والے حقائق کو منظر عام پر لایا جائیگا ، بظاہر اِس بھگدڑ میں مبینہ طور پر ایرانی حجاج کی غلطی کو بھی بیان کیا گیا تھا ۔ باوجود اِس کے کہ ماضی میں اسلامی فقہی اختلافات کے باوجود ساٹھ کی دھائی سے سعودی ایران تعلقات بہتری کی جانب گامزن تھے حتیٰ کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان بحرین پر ایران کے دعوی کا متنازع معاملہ بھی 1961 میں سعودی عرب اور بحرین کے مابین تیل کی دولت میں شراکت کے معاہدے کے بعد اپنے اختتام کو پہنچ گیا تھا ۔ لیکن 1979 میں ایران میں امام خمینی شعیہ اسلامی انقلاب کے بعد ایرانی حجاج کی جانب سے حج کے موقع پر مکہ اور مدینہ میں حرمین شریفین کی سڑکوں پر سیاسی اجتماعات کے انعقاد کے ذریعے نہ صرف سیاسی نعرہ بازی کی گئی بلکہ ایرانی حکومت کی جانب سے سعودی حکومت کی حرمین شریفین پر کسٹوڈین حیثیت کو بھی چیلنج کیا گیا تھا جس کے باعث اسّی کی دھائی میں دونوں ملکوں کے درمیان اسلامی فقیہی اختلافات کے حوالے سے بھی معاشرتی خلیج وسیع تر ہوئی تھی۔اِس حقیقت سے تو انکار نہیں کیا جا سکتا کہ 1979 ء میں شاہ ایران کی حکومت کے خاتمے پر امام خمینی کے ایرانی شیعہ انقلاب کے ابتدائی دور میں ہمسایہ ممالک میں ایرانی انقلاب کو پھیلانے کی کوشش کی گئی تھی جس کے بدترین اثرات فرقہ وارانہ کشیدگی کے حوالے سے پاکستان میں بھی محسوس کئے گئے تھے ۔ چنانچہ قیام پاکستان کے بعد سے ملک میں قائم فرقہ وارانہ معاشرتی ہم آہنگی بھی کچھ مذہبی حلقوں کی شدت پسندی کے باعث ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئی۔ جس کے سبب سپاہ صحابہ اور نفاذ فقہ جعفریہ نامی شدت پسند تنظیموں کے سایہ تلے سنی لشکر جھنگوی اور شعیہ سپاہ محمد کے نام سے دہشت پسند تنطیموں نے ملک میں جنم لیا اور اِن فقہی اختلافات کے پس منظر میں فرقہ وارانہ قتل و غارت گری کے المناک واقعات دیکھنے میں آئے۔ اِسی دوران اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے میں بھی شر پسندوں نے آگ لگائی جبکہ تحریک فقہ جعفریہ نے اپنے مطالبات منوانے کیلئے اسلام آباد میں وفاقی سیکریٹریٹ پر کئی دنوں تک قبضہ جمائے رکھا ۔ چنانچہ سعودی ایران اختلافات کے ضمن میں یہ سمجھنا کہ سب ٹھیک ہے اور ہم اِس قضیئے میں غیر جانبدار رویہ اختیار کر کے معاملات سے پہلو تہی کر سکتے ہیں فکری حوالے سے درست نہیں ہے ۔ اندریں حالات ، ایک ایسے مشکل وقت میں جبکہ مشرق وسطیٰ میں مسلم امّہ بدترین سیاسی، سفارتی اور معاشرتی اختلافات کا شکار ہے ۔ سعودی وزیر خارجہ کا پاکستان کا دورہ التوا میں رکھا گیا ہے ، دوسری جانب پٹھانکوٹ دہشت گردی کے حوالے سے بھارتی سلامتی کے مشیر اجیت کمار ڈول کا دورۂ چین منسوخ ہوا ہے ۔ بھارتی میڈیا اور ریاستی اداروں کی جانب سے افغانستان میں کابل ایئرپورٹ پر خود کش اور مزار شریف میں بھارتی قونصل خانے پر مبینہ طالبان حملے کیساتھ ساتھ بھارت میں ہونے والی دہشت گردی کے الزامات بلا کسی جواز کے پاکستان پر ثبت کئے جا رہے ہیں، پاکستان کی جانب سے بروقت سوچ بچار کی ضرورت مسلمہ ہے۔ حیرت ہے کہ اہم سلامتی امور پر نگاہ رکھنے اور خطے میں پاکستانی مفادات کا بروقت تحفظ کرنے کے بجائے وزیراعظم کو غیرملکی دوروں سے ہی فرصت نہیں ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ اگر پاکستان کسی حد کسی بڑی دہشت گردی سے محفوظ ہے تو اِسکا کریڈٹ آپریشن ضرب عضب کے چیف جنرل راحیل شریف کو ہی جاتا ہے۔ جناب وزیراعظم وقت کا تقاضا یہی ہے کہ پاکستان کو مسلم دنیا کی اہم ایٹمی طاقت ہونے کے ناطے ایران اور سعودی عرب کے درمیان بدترین بگڑتے ہوئے تعلقات میں بہتری لانے کیلئے اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے جبکہ بھارت کی جانب سے کسی بھی ممکنہ منفی ردعمل کا موثر جواب دینے کیلئے قوم کویکجہتی کی لڑی میں پرونے کیلئے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو صرف کرنا ہو گا اور اگر ضرورت پڑے تو ملک میں قومی ھکومت قائم کرنے سے بھی دریغ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ حالات کوئی بھی خطرناک ٹرن لے سکتے ہیں۔ بقول علامہ اقبال…….. ؂
وطن کی فکر کر ناداں ، مصیبت آنے والی ہے
تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں