- الإعلانات -

دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیوں کو فوری روکنا ہوگا

چیف آف آرمی سٹاف نے ضرب عضب آپریشن پر مکمل اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد تنظیموں اور ان کی سرگرمیوں کو کسی صورت بھی برداشت نہیں کیا جائے گا۔ جنرل راحیل نے حال ہی میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کئے جانے والے دہشت گردی کے خلاف آپریشنوں کو سراہا اور کہا کہ ان آپریشنوں کے ذریعے دہشت گردوں کے نیٹ ورک اور ان کے گٹھ جوڑ توڑنے میں اہم کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں۔ آرمی چیف نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی وہ پائیدار امن اور سلامتی کی صورتحال کے حصول تک آپریشن پر توجہ برقرار رکھیں۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں 70کے لگ بھگ جہادی یا طالبان گروپ پائے جاتے ہیں۔ ان میں 30 گروپ ایسے ہیں جو کہ ریاست اور معاشرے کے اندر اپنے نظریات بندوق یا تشدد کے ذریعے مسلط کرنا چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لئے وہ فکری یا سیاسی جدوجہد کی بجائے باقاعدہ جنگ کرتے آئے ہیں۔ اسی جنگ کے نتیجے میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران پاکستان میں 50ہزار سے زائد انسان لقمہ اجل بنائے گئے جبکہ اب بھی یہ لڑائی رکنے کا نام نہیں لے رہی اور فورسز کے علاوہ عام لوگ بھی روزانہ کی بنیاد پر اس جنگ کا نشانہ بن رہے ہیں۔ محققین کے مطابق جہادی تنظیموں یا گروپوں کی بنیادیں مختلف ادوار میں رکھی جاتی ہیں۔ 60کی دہائی میں کشمیر کی آزادی کے لئے بعض گروپ قائم ہوئے۔
کالعدم جہادی تنظیمیں اسلام اور پاکستان کیلئے خطرہ ہیں۔ ماضی میں کالعدم تنظیموں نے انتہاپسندی دہشت گردی کو فروغ دیکر پا کستان کی سالمیت و بقا کو خطرے میں ڈال دیا اور آج پھر یہ انتہاپسند دہشت گرد ایک بار پھر سیاسی جماعتوں کا سہارا لیکر انتہاپسندی، دہشت گردی کو طول دینا چاہتے ہیں۔ جب ملک کی سالمیت و بقا کو ان انتہاپسند وں سے خطرات لاحق ہوئے اور پا کستان کو بین الاقوامی سطح پر دہشت گردی کی واچ لسٹ میں شا مل کیا گیا تو ان پر پابندی عائد کی گئی۔
اس حوالے سے پیمرا نے تمام ٹی وی چینلوں اور ریڈیو سٹیشنوں کو یہ ہدایت کی ہے کہ وہ کالعدم تنظیم لشکرِ طیبہ، جماعت الدعو اور فلاحِ انسانیت فانڈیشن سمیت تمام 72 کالعدم تنظیموں کی کوریج نہ کریں۔بظاہر اس میں اختلاف کی گنجائش کم ہے کہ کالعدم تنظمیوں میں بعض ایسی تنظیمیں موجود ہیں جو ہر قدرتی آفت کے موقعہ پر دکھی پاکستانیوں کی مشکلات حل کرنے میں پیش میں پیش رہتی ہیں مگر بعض ایسی بھی ہیں جن کی سرگرمیاں یقینی طور پر درست نہیں۔ آبادی کے اعتبار سے ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں 95 کالعدم تنظیمیں قرار پاچکی ہیں۔ وفاق اور صوبوں میں کالعدم تنظمیوں کے خلاف کام کرنے والے حکام کے مطابق اس وقت بہتر کالعدم تنظیموں کی بھی چانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔ تازہ حکم میں پیمرا حکام نے کالعدم تنظیموں کی فنڈنگ کے لیے میڈیا پر کسی بھی قسم کے اشتہارات چلانے کو بھی ممنوع قرار دیا ہے۔ یعنی کالعدم تنظیموں کی کسی قسم کی کوئی کوریج نہ کی جائے۔ کالعدم تنظیموں کی فنڈنگ کے لیے میڈیا پر کسی بھی قسم کے اشتہارات چلانا بھی منع قرارپایا ہے۔ یعنی ایسے پروگرام کو نشر کرنا یا س کا نشرِ مقرر ممنوع ہے جس سے لوگوں میں نفرت پیدا ہو یا نقصِ امن کا خدشہ ہو۔مذید یہ کہ اس قسم کا مواد نشر نہ کیا جائے جولوگوں کو تشدد پر ابھارے، اس کی معاونت کرے، ترغیب دیاور اسے اچھا بنا کر پیش کرے۔
وطن عزیر میں اس وقت تک امن وامان کی حقیقی صورت حال بحال نہیں ہوسکتی جب تک آئین اور قانون کا حقیقی معنوں میں نفاز عمل میں نہیں آجاتا۔اگرچہ اس حکم نامے میں کالعدم تنظیموں یا ان سے منسلک امدادی اور فلاحی اداروں کی سرگرمیوں کی ترویج کا ذکر نہیں تاہم ملک میں زلزلے اور سیلاب جیسی قدرتی آفات کے موقعے پر کالعدم تنظیمیں امدادی کارروائیوں میں پیش پیش نظر آتی ہیں۔ بظاہر یہ حکم ملک میں انتہا پسندی ختم کرنے کے لیے رواں سال کے اوائل میں متعارف ہونے والے’قومی ایکشن پلان’ کے بعد عمل میں آیا ہے۔
بلاشبہ وطن عزیزمشکل حالات سے گزر رہا ہے اسے ایک طرف دہشت گردی کے عفریت کا سامنا ہے تو دوسری جانب حکومتی نظم ونسق مثالی انداز میں اپنا کام کرنے سے تاحال قاصر ہے۔ وقت آگیا ہے کہ حکام محض عالمی سطح پر اپنی ساکھ بہتر بنانے سے ہٹ کر ٹھوس اقدامات اٹھائیں جن سے مسائل حقیقی معنوں میں حل ہوسکیں۔حکومت وقت موجودہ حالات میں ان عناصر پر بھی کڑی نظر رکھیں جو کالعدم تنظیموں سے نکل کر دوسری تنظیموں کے نام سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے اور یہ انشاء اللہ ہمیشہ قا ئم دائم رہیگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم آپس میں اتفاق اتحا د کیساتھ امن، محبت، بھائی چارگی کے فلسفے کو زیادہ سے زیادہ عام کریں۔