- الإعلانات -

مقبوضہ کشمیر : مفتی سعید کاانتقال اور یومِ حق خود ارادیت

مقبوضہ کشمیر کے وزیراعلیٰ مفتی سعید اگلے روز دہلی میں انتقال کر گئے۔ انہیں پھیپھڑوں میں انفیکشن تھا۔ مفتی سعید 12 جنوری 1936ء کو ایک جاگیردار گھرانے میں پیدا ہوئے تھے اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری لے کر انہوں نے کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں شروع کی تھیں۔ اندرا گاندھی نے انھیں کشمیر میں کانگریس کی کمان سونپی تھی اور دہلی میں سیاسی جلاوطنی کے دوران انھوں نے مسلم خطوں میں انتخابات جیتے اور جنتا دل کے دور حکومت میں بھارت کے پہلے مسلمان وزیرداخلہ بن گئے۔ گذشتہ برس یکم مارچ کو مفتی سعید نے دوسری مرتبہ جموں و کشمیر کے وزیراعلی کا عہدہ سنبھالا تھا لیکن اقتدار کی سالگرہ سے پہلے ہی وہ علیل ہوگئے۔ مفتی سعید کی دو بیٹیاں محبوبہ مفتی، ڈاکٹر روبیہ سعید اور ایک بیٹا تصدق مفتی ہیں۔ ان میں سے صرف محبوبہ مفتی سیاست میں ہیں جن کی مفتی سعید کی جانشین کے طور پر ریاست کی وزیرِ اعلیٰ بننے کی خبریں گرم ہیں۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ مفتی سعید کے انتقال کے بعد ان کی بیٹی محبوبہ مفتی وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالیں گی۔مرحوم ساری عمر بھارت کے رحم و کرم پر رہے اور کشمیریوں کو ان کا احق خود ارادیت دینے میں ناکام رہے۔ انکی زندگی میں کشمیریوں کی طرف سے آخری یوم حق خود اراردیت صرف دوروز قبل ہی5جنوری کو منایا۔کشمیری عوام کو ان سے ہمیشہ ہی گلہ رہا کہ مرحوم اقتدار کے مزے تو لیتے رہے لیکن کشمیری عوام کے لئے کچھ نہ کیا۔ ’’حق خود ارادیت‘‘ کشمیر یوں کا جائز مطالبہ ہے کیونکہ یہ ان کا اپنا گھڑا ہو امطالبہ نہیں بلکہ 1949 میں اسی دن اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اتفاق رائے سے یہ قرار داد منظور کی تھی کہ کشمیری عوام کو مستقبل کا فیصلہ کرنے کیلئے استصواب رائے کا موقع دیا جائے گا۔شومئی قسمت کہ پچھلے 66برس سے یہ موقع فراہم نہ کیا گیا،اس ظلم اور زیادتی کے خلاف کشمیری ہر سال پانچ جنوری کو عالمی برادری کو ضمیر جھنجوڑتے ہیں۔بھارت عالمی ضمیر کی بے حسی فائدہ اُتھاتے ہوئے اپنے قبضے کو جہاں طول دے رہا ہے وہاں اسے مزید مضبوط بنانے میں مصروف ہے۔ ایسے میں پاکستان اپنے اصولی موقف پر قائم رہتے ہوئے کشمیریوں کی اخلاقی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہی بات بھارت کو قطعاً قبول نہیں ،وہ چاہتا ہے کہ پاکستان کشمیر کو بھول کر دیگر معاملات پر بات چیت کرے۔تنازعہ کشمیر بھارت کا پیدا کردہ ہے اسے یواین کی قراردوں کے آگے ستینڈر کرنا ہوگا۔یہی اس کا واحد حل ہے۔اگرچہ مودی نے گزشتہ ایک دو ہفتوں کے دوران پاکستان سے تعلقات کو نارمل رکھنے کی ایک کوشش کی ہے لیکن اس سے یہ کہنا قبل ازوقت ہے کہ وہ کشمیر ایشو پر کیا پیشرفت کرنے پر آمادہ ہے۔بھارت کی اب تک کی چالوں سے تو کوئی خیر کی توقع نہیں کی جاسکتی۔اس سلسلے میں اگر گزشتہ برس کا طائرانہجائزہ لیا جائے تو وہ بھارت کی روایتی ہت دھرمی کا واضح ثبوت ہے،اس سلسلے میں سال 2015 لائن آف کنٹرول پر بھارتی جارحیت اورگولہ باری کا بدترین سال ثابت ہوا۔سال بھر بھارتی فوج نے 68 بار لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی جس کے نتیجہ میں رینجرز کے آٹھ جوانوں کے علاوہ 25 پاکستانی شہری جن میں بچے ،خواتین، اور بوڑھے شامل تھے شہید ہوئے جبکہ ایک سوتیس افراد زخمی ہوئے۔پچھلے برس 2جنوری 2015 کو بھارتی سکیورٹی فورسز نے شکر گڑھ سیکٹر پر گولہ باری سے نئے سال کاآغاز کیا تھا۔ 65 برسوں سے کشمیری اپنے جدوجہد کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ نہتے کشمیریوں نے 6 لاکھ اپنے شہداء، 10 ہزار لاپتہ افراد، 67 سو نامعلوم قبروں کے کتبوں کو فراموش نہیں کیا اور بھارتی افواج اور پولیس کے آگے سینہ سپر دیوار ثابت ہورہے ہیں۔ پاکستان کی موجودہ حکومت بھی بھارتی حکومت اور سیاسی قوتوں سے دوست کے راگ الاپ رہی ہے۔ مگر پاکستان کی تمام سیاسی قوتوں کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے بھارت میں چاہے جو بھی حکومت ہو، انکی سوچ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے ایک جیسی رہے گی۔ انسانی حقوق کی تنظیم جموں و کشمیر ہیومن رائٹس موومنٹ نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجوں کے مظالم کے حوالے سے اپنی تحقیقاتی رپورٹ شائع کی جس کے مطابق 1947ء سے موجودہ سال کے اختتام تک پانچ لاکھ افراد شہید اور 9988 خواتین کی بے حرمتی کی گئی۔ جبکہ ایک لاکھ دس ہزار بچے یتیم ہو چکے ہیں بھارت کے کالے قوانین پوٹا’ ٹاٹا اور آفسپا کے تحت 24 افراد مختلف جیلوں میں عمر قید کاٹ رہے ہیں۔ شہید کئے گئے افراد میں زیادہ تر تعداد گیارہ سال سے 60 سال تک کے بچوں اور بوڑھوں کی ہے مگر اقوام متحدہ ان مظالم پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے آخر کب تک۔