- الإعلانات -

درپیش چیلنجز اور ہمارا کردار!

اس وقت پاکستان کو بین اقوامی سطح پر جن چیلنجز کا سامنا ہے ۔ایران اور سعودی عرب کے درمیاں جو تلخی بڑھ رہی ہے اس کی زد میں دیگر خلیجی ممالک بھی آرہے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ اس صورتحال کو جلد از جلد کنٹرول کیا جا ئے ۔ ہم خود کو مو جو د صورتحال میں الگ نہیں رکھ سکتے کیو نکہ اس کے نتیجے میں شیعہ سنی آگ بڑھتی جائے گی جس سے پاکستان بھی بچ نہیں سکے گا۔عالم اسلام کو چاروں طرف سے جن چیلنجز کا سامنا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ عالم اسلام کا دفاعی، سیاسی ، معاشی اور علاقائی سطح پر ایک بہتر اتحاد اور عالم اسلام کو دوٹوک مو قف اپنانا چائیے۔ٰیہ امر اطمینان بخش ہے کہ پاکستان کے مقتدر ادارے اپنے فیصلے خود کرنے لگے ہیں ورنہ ماضی کی یہ ایک روایت ہے رہی ہے کہ پاکستان میں اپوزیشن نے ہمیشہ برملا طور پر امریکہ کو پاکستان کا نااعتبار دوست ٹھہرایا ہے ،لیکن اقتدار میں آنے کے بعد انہوں نے امریکہ کی چھتری میں حکومت کرنے میں اپنی عافیت سمجھی ہے۔ اس تناظر میں یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ روز اول سے ہم سامراج کے حق میں استعمال ہوئے ہیں اور آج بھی سامراج ہمیں کھلونا بنانے پر تلا ہوا ہے اور ایک تسلسل کے ساتھ ہم آگے کے جانب بڑھ رہے ہیں اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے اتحادی کے طور پر مشہور ہیں ، اور سرمایہ دارانہ نظام کے جرائم میں برابر کے شریک ہیں ۔یہ کہنا کہ موجودہ حکمران اس راستے پر چل پڑے ہیں درست نہیں ان کے لیئے تو اس راستے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے ملک کو موجودہ ڈگر پر چلانے کیلئے اسے بھر حال اس راستے پر چلنا ہوگا جس کے نقوش ماضی کے حکمرانوں نے چھوڑے تھے ۔ہمارے پہلے وزیر اعظم نوابزادہ لیاقت علی خان نے مئی 1950 ؁ء کو امریکہ کا وزیر اعظم پاکستان کی حیثیت سے اپنا پہلا دورہ کیا تھا اس دورے کا مقصد انہوں نے پاکستان کیلئے دفاعی امداد کا حصول قرار دیا تھا جس کیلئے اکتوبر 1947 ؁ء میں پاکستان امریکہ سے مطالبہ کر چکا تھا آئندہ پانچ سال کی ضروریات کے لئے پاکستان کو امریکہ کی طرف سے دو ارب ڈلر کی امداد کی ضرورت ہوگی چنانچہ وزیر اعظم لیاقت علی خان اس عزم اور ارادے سے امریکہ کے دورے پر روانہ ہوئے تھے اور بظاہر کامیاب لوٹے تھے ۔وزیر اعظم لیاقت علی خان نے اپنے پہلے دورے میں امریکی حکام سے اپنی بات چیت میں انہیں یہ باور کرایا تھا کہ پاکستان ہمیشہ سرمایہ دارانہ نظام معیشت سے جڑا رہے گا اور اس نظام کے استحکام کے لیئے امریکہ کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرتا رہیگا اور انہوں نے امریکہ کو یہ بھی یقین دلایا کہ’’ ہم جانتے ہیں کہ آپ جارحیت کا مقابلہ کرنے کا عزم کر چکے ہیں اس کام میں آپ پاکستان کو اپنا دوست پائینگے ‘‘ چنانچہ ان کی اس یقین دہانی کے بعد پاکستان کا ہر حکمران ان کے اس عہد کو نبھانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرسکتا ہے اور اس طرح پاکستان اور امریکہ کی دوستی قائم اور دائم ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دوستی کا سفر جاری ہے۔یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ جنوبی کے حوالے سے امریکی قومی سلامتی کونسل نے جنوری 1951 ؁ء کو یہ قراداد منظور کر لی تھی اور اس وقت کے امریکی صدر ٹرومین نے اس پر دستخط ثبت کئے تھے کہ ہمیں جنوبی ایشا میں ایک ایسا رویہ چائیے جو امریکہ اور اسکے اتحادیوں کی اس بات میں مدد کریں زمانہ امن میں جن چیزوں کی خواہش ہوتی ہے انہیں اور اور زمانہ جنگ میں جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے ان کو اس علاقے سے حاصل کر سکیں اور ان میں سے کوئی چیز سویت یونین حاصل نہ کر سکے ۔امریکی قومی سلامتی کونسل کے اس قراداد کی روشنی میں اگر اپنی گزشتہ ساٹھ سالہ تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ امریکہ نے جنگ اور امن ہر دو حالات میں ہمیں استعمال کیا ہے اگر چہ امریکہ نے ہمیں فوجی امداد دی اور اقتصادی قرضے بھی عنایت کئے لیکن اس کے بدلے میں ہماری آذادی سلب کی گئی اور ہمیں آلہ کار بنا کر اس نے ہمیں کمیونزم کے خلاف استعمال کیا اور سویت یونین کا راستہ روکنے کی کوشش کی اس طرح امریکہ نے دو فوائد حاصل کئے ایک یہ کہ اس نے یہاں اپنا معاشی اور سیاسی تسلط قائم کیا اور دوسرا یہ کہ اس نے سویت یونین کے خلاف ہمیں استعمال کیا اور زبردست کامیابی حاصل کی۔ہمارے وزیر اعظم کے پہلے دورہ امریکہ کے بعد اسی سال میں امریکہ کے ساتھ پاکستان کا فوجی ساز وسامان خریدنے کا معاہدہ ہوا اور اس کے دو سال بعد مزید معاہدات ان دونوں دوستوں کے درمیان طے پاگئے اور یوں دوستی کا سفر جاری ہوا جو آج تک جاری ہے اور آج بین الاقوامی دنیا میں ہماری شناخت بھی امریکہ کے دوست کی حیثیت سے مشہور ہے اور یہ ہماری پہچان ہے اور اس دوستی میں مزید گرم جوشی اس وقت پیدا ہوئی جب پاکستان 1954 ؁ٗ ؁ٗ ؁ء کو کا ممبر بنایا گیا اور ایک سال بعد 1955 ؁ء میں سینٹو کا رکن بنا ان معاہدات میں شمولیت سے ہم امریکہ کے تو قریب ہوگئے مگر پڑوسیوں کی نظروں ہم ناقابل اعتبار ٹھہرگئے ہمارا تعارف سامراج کیلیے ایک آلہ کار کی حیثیت سے مشہور ہوا سامراجی مفادات کو اپنا نصب العین بناکر اپنے خطے کے ممالک کو ہم نے اپنادشمن بنا لیا اور یوں ہمارا ملک ناعاقبت اندیش اور آلہ کار قیادت کی وجہ سے سامراج کے حق میں خوب استعمال ہو اور تسلسل کے ساتھ یہ سلسلہ جاری ہے ۔یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ سامراجی طاقتوں نے ہمیشہ فرعونی طرز سیاست کو اپنا کر اپنے عزائم کے پورا کیا ہے ،فرعون نے بھی تقسیم کرو اور حکومت کرو اوالہ فارمولا اپنایا تھا اور اسی فارمولے پر ہر دور میں سامراج نے بھی خوب عمل کیا ہے چنانچہ امریکہ نے ایک طرف کمیونزم کا ہوا کھڑا کر کے اس کا راستہ روکنے کیلئے کسی دور میں انتہا پسند مذہبی تحریکوں جماعتوں کی آکی نشوونماں کی اور انہیں پروان چڑھایا اور انہیں اسلحہ اور بود وباش فراہم کی سرد جنگ کے دوران امریکہ نے یہ حربہ خوب اپنایا جو کامیاب رہا اور جو بھی راستہ میں مزاحم ہوا اسے منظرہی سے ہٹادیا گیا اور یا عوام الناس میں اسکی حیثیت ہی مشکوک بنادی گئی جیسے سعودی عرب کے شاہ فیصل اور پاکستان میں ذولفقار علی بھٹواور صدام حسین جیسے لیڈروں کو راستے سے ہٹادیا گیا اور مصر کے جمال عبد الناصر فلسطینی لیڈر یاسر عرفات اور شام کے حافظ الاسد کی کردار کشی کی گئی اور ان کے خلاف محاذ کھڑا کیا گیا اور ان پر فتوے وغیرہ داغے گئے ر انہیں مطعون کیا گیا۔ایک طرف امریکہ نے تقسیم کرنے کی پالیسی اپنائی اور دوسری طرف اس نے ہماری معیشت کو نشانہ بنایا اور ملک کی سیاست کو کمزور کیا اس مقصد کیلئے اس نے اپنے سیاسی اور بیوروکریسی کو آ لہ کار کے طور پر استعمال کیا ہماری سیاست امریکہ کی تابع ہوگئی اور اور معاشی طور پر ہم مفلوج ہوگئے امداد اور قرضوں کے نام پر ہمارا استحصال کیا گیا اور یوں غریبوں کے نام پر حاصل کیا گیا قرضہ ملک کی غربت کا باعث ہوا ملک کی مصنوعات کو فیل کردیا گیا اور پورا ملک ملٹی نیشنل کمپنیوں کے تابع ہوگیا اور یوں امریکہ کے ساتھ ہمای دوستی کی پینگی ہمارے گلے کا روگ بن گیا اور محتاجی ہمارا مقدر ٹھر گئی اور اب جبکہ حالات نے پلٹا کہایا ہے اور ہمارے فیصلے خود ہونے لگے ہیں اور سوات اپریشن کے تناظر میں معلوم ہوتا ہے کہ سامراج کو زک پہنچ رہی ہے اور اس کا میڈیا چیخ رہا ہے دیکھتے ہیں حالات کیا پلٹا کھاتے ہیں۔