- الإعلانات -

ایران، سعودی تنازعہ میں پاکستان کا ثالثی کردار

سعودی عرب اور ایران میں کشیدگی تو کافی عرصہ سے چل رہی تھی مگر سعودی عرب میں شیعہ عالم شیخ نمر سمیت 47افراد کو سزائے موت دینے سے کشیدگی میں مزید اضا فہ ہو چکا ہے۔ دونوں ملکوں کے مابین اس چپقلش سے مشرق وسطیٰ میں فرقہ وارانہ کشیدگی بھی خطرناک حد تک بڑھتی جا رہی ہے۔ اب دونوں ممالک کے مابین سفارتی تعلقات منقطع ہو نے سے یہ اندیشہ سر اْٹھا رہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں ایران اور سعودی عرب ایک دوسرے کے خلاف اپنی اپنی پراکسیز کو مزید فعال کر دیں گے،جس سے مشرق وسطیٰ کی پہلے سے خراب صورت حال مزید ابتر ہو سکتی ہے۔مشرق وسطیٰ کے اس حالیہ بحران نے پاکستان کو بھی ایک بڑی آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ اسی سلسلے میں سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیرنے پاکستان کے دورے میں وزیر اعظم نواز شریف، مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے ملاقاتیں کیں۔ سعودی وزیر خارجہ نے 34 اسلامی ممالک کے اتحاد پر پاکستانی رہنماؤں اور آرمی چیف کو اعتماد میں لیا۔وزیر اعظم نواز شریف نے ایران اور سعودی عرب کے اختلافات پرامن طریقے سے حل کرنے پر بھی زور دیا۔سعودی عرب اور ایران کے درمیان تلخی کے بعد اس دورے کو کافی اہمیت دی جارہی تھی کیونکہ سعودی وزیر خارجہ نے ملاقاتوں میں 34 اسلامی ممالک پر مشتمل اتحاد میں شمولیت اور کردار کے حوالے پاکستان قیادت کو اعتماد میں لینا تھا۔ سعودی عرب کی جانب سے 34 مسلم ممالک کے اتحاد کے اعلان اور اس میں پاکستان کی شمولیت پر ابتداء میں یہ خبریں گردش کرتی رہیں کہ سعودی اتحاد میں شامل کرنے کے حوالے سے پاکستان کو پہلے سے آگاہ نہیں کیا گیا، تاہم بعد میں پاکستانی دفتر خارجہ نے اس فوجی اتحاد میں باضابطہ شمولیت کی تصدیق کر دی تھی۔سعودی عرب کی زیر قیادت34ملکی اتحاد کا مقصد داعش جیسی تنظیمیں جو مسلمانوں پر کفر کے فتوے لگا کر مسلم معاشروں میں قتل و غارت گری پھیلارہی ہیں’ ان کی دہشت گردی ختم کرنا ہے اور یہ اس وقت کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ مسلمان ملکوں کو بیرونی سے زیادہ اندرونی خطرات درپیش ہیں اور دہشت گردی کا یہی و ہ فتنہ ہے جو پوری مسلم امہ کو اندر ہی اندر کھائے جارہا ہے۔ اب تو ہیلری کلنٹن نے بھی واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ داعش بنانے میں ان کا ہی کردار ہے۔ اس کے بعد بھی مسلمانوں کی آنکھیں نہ کھلیں تو اس پر افسوس کے علاوہ اور کیا کیا جاسکتا ہے؟۔سعودی وزیر خارجہ سے ملاقاتوں کے بعد جاری کردہ اعلامیہ میں سعودی عرب کی قیادت میں دہشت گردی کے خلاف اسلامی دنیا کے اتحاد کی واضح طور پر حمایت کی اور کہا گیا ہے کہ سرزمین حرمین شریفین کو کوئی خطرہ ہوا تو پاکستان سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہو گا۔سعودی عرب اور ایران کے مابین کشیدگی تاحال کم ہوتی دکھائی نہیں دے رہی۔ مسلم ملکوں میں بھی بعض لوگ سعودی عرب میں پھانسیوں کے معاملہ کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوششیں کر رہے ہیں جو کسی صورت درست نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس سے کسی مسلم ملک کو تو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا البتہ اسلام دشمن قوتیں اس کافائدہ ضرور اٹھائیں گی۔ اس لئے پھونک پھونک کر قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ بدقسمتی کی بات ہے کہ دنیائے کفر اس وقت پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ملکوں کو کمزور کرنے کیلئے خوفناک سازشیں کر رہا ہے۔ مسلم ملکوں میں تکفیر اور خارجیت کے بیج بونے کیلئے بے پناہ وسائل خرچ کئے جارہے ہیں اور فرقہ وارانہ قتل و غارت گری کو ہوا دی جارہی ہے۔ ان حالات میں چاہیے تو یہ تھا کہ مسلمان ملکوں میں باہم اتحاد کی کیفیت پیدا ہوتی اور وہ سب مل کر دشمنان اسلام کی سازشوں کا خاتمہ کرتے لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ وہ خودآپس میں دست و گریبان نظر آتے ہیں جس کی وجہ سے بیرونی قوتوں کو مسلم ملکوں میں اپنے مذموم ایجنڈے پورے کرنے کا موقع مل رہا ہے۔ ایران اور سعودی عرب میں کشیدگی صرف دونوں ملکوں ہی نہیں پوری مسلم دنیا کیلئے سخت نقصان دہ ہے۔مسلمان ملک اس وقت پاکستان کی جانب دیکھ رہے ہیں کہ وہ آگے بڑھ کر ان اختلافات کے خاتمہ کیلئے کردار ادا کرے۔ پاکستانی حکمران بھی بہت محتاط رویہ اختیا رکئے ہوئے ہیں اور کوشش کی جارہی ہیں کہ کسی طرح بات چیت کے ذریعہ اس تنازعہ کو ختم کیا جائے۔ ایسا کرنا بہت ضروری ہے۔ پاکستان ہی ایک ایسا ملک ہے جو یہ کردار ادا کر سکتا ہے۔ پاکستان ثالث کی حیثیت سے سعودیہ ایران کشیدگی ختم کرانے میں اپنا کردار ادا کرسکتاہے لہذا پاکستان کو کسی ایک طرف جھکاؤ نہیں رکھنا چاہیے۔پاکستان کو کسی دوسرے مسلمان ملک کے ساتھ تعلقات خراب نہیں کرنے چاہئیں۔ اگر یہ تنازعہ بڑھا تو نہ صرف مسلم ممالک بلکہ خود پاکستان کو بھی نقصان ہونے کا اندیشہ ہے جس کی وجہ سے انتہا پسندی بڑھ سکتی ہے۔ہمیں امید ہے کہ پاکستان کی کوششوں سے سعودی عرب اور ایران کے تعلقات بھی جلد بہتر ہوں گے اورکشیدگی کم کرکے تمام مسائل کے سیاسی حل نکالے جاسکیں گے۔پا کستان کے لئے سعودی عرب اور ایران کئی حوالوں سے اہم ہیں، مگر پاکستان کا اپنا مفاد اِسی میں ہے کہ پرائی جنگوں میں کودنے کی بجائے غیر جانبدارانہ اور توازن کی پا لیسی اپنا کر اپنے گھر کے مسائل پر ہی توجہ مرکوز کی جائے۔