- الإعلانات -

پٹھان کوٹ ایئر بیس حملہ،مذاکرات کے التوا کا جواز تو نہیں

بھارتی سرحدی شہرپٹھان کوٹ کے ائیر بیس پر 12-13 روز قبل ہونے والے حملے نے کسی کے ہوش اڑائے ہوں یا نہ اڑائے ہوں مگر لگ یہ رہا ہے کہ اعلیٰ بھارتی حکام کی دماغوں کی ’لسی ‘ ضرور بن گئی نئی دہلی حکومت کی مرکزی کابینہ کے وزراء کے آپس کے اختلافی بیانات ملاحظہ فرمالیں کوئی کچھ کہہ رہا ہے اور کوئی کچھ دور کی کوڑی لارہا ہے ‘ اِسی طرح سے نئی دہلی کے متعلقہ بیوروکریٹس حلقوں کا حال ہے ائیر بیس پر ہونے والے اِس حملہ کے شکوک وشبہات کی ایک طویل فہرست ہے تفتیشی مضمون نگاروں سمیت دنیا بھر کے انویسٹی گیٹیو رپورٹوں کے ہاتھوں میں ‘ جن میں سوالات کی بھرماراپنی جگہ اُن کے جوابات تاحال کسی کے پاس نہیں ہیں، پٹھان کوٹ کی مقامی پولیس کے اسٹار افسرکو یہ دہشت گرد موقع پر ہلاک کیئے بغیر بس اُس سے اُس کی سرکاری گاڑی چھین کر سڑک پر اُسے زندہ چھوڑ دیتے ہیں یہ بڑا اہم نکتہ ہے اب تک دنیا بھر میں جہاں کہیں دہشت گردی کا کوئی واقعہ ہوا حملہ آور دہشت گرد وں نے ایسے موقعوں پر ’انسانیت نوازی ‘ کی ایسی کوئی مثال نہیں چھوڑی دیکھ لیجئے پاکستانی سرحد کے نزدیک 2 ؍جنوری سال2016 ء کے شروع ہونے کے دوسرے روز بھارتی فوجیوں کی وردیوں میں ملبوس ’گمنام ‘ حملہ آورں کا ایک مسلح گروہ پٹھان کوٹ ائیر بیس کے رہائشی علاقے میں کیسے گھس آیا اور حساس علاقہ کے احاطہ میں اِس گروہ نے اندھا دھند فائرنگ کر کے اِس حملے میں 7 بھارتی فوجیوں کو ہلاک کیا اِس مبینہ واقعہ پر وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے پریس کو پہلی اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ یہ حملہ آور جن کی تعداد پانچ ہے جن کے خلاف سریع الحرکت جوابی کارروائی کے لئے پٹھان کوٹ میں بھارتی سیکورٹی فورسنز کے اسپیشل دستے پہنچا دئیے گئے ہیں مگر ‘ چند گھنٹوں کے بعد عالمی میڈیا سمیت خود بھارتی میڈیا کو یہ سنکر بڑی حیرت ہوئی کہ علاقے میں دو ااور حملہ آور ابھی تک وہاں موجود ہیں جن کی تلاش کا کام ابھی مکمل نہیں ہوا ہے اور سرچ آپریشن جاری ہے جبکہ پہلی اطلاع میں راج ناتھ سنگھ جی نے کسی ٹھہراؤ کے بغیر ، کسی جانچ پڑتال کے بنا یہ تک کہہ دہا تھا کہ’ یہ حملہ آور پاکستان سے پٹھان کوٹ آئے تھے؟‘ اِس بار بھی بھارت نے غیر سنجیدہ رویہ اپنایا اور جلد بازی کرڈالی جیسے کہ ممبئی دھماکوں کے موقع بھارت نے اپنایا تھا بھارت ہی پر کیا منحصر! امریکا کی سنیئے ،سی آئی اے نے پینٹاگان سمیت وائٹ ہاؤس کو جیسابریف کیا یقیناًسی آئی اے کی دی گئی اِس مبہم بریفنگ پر صاد کر کے امریکی وزارتِ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے اِس امیّد کا اظہار کرڈالا کہ امریکا پرامید ہے کہ ’پاکستان پٹھان کوٹ میں بھارتی ایئر بیس پر حملہ کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائی کرے گا‘ یہ کیسی بات کی گئی ہے ؟پاکستان کیسے معلوم کرسکتا ہے کہ ’پڑوسی ملک بھارت کے سرحدی علاقے پٹھان کوٹ کے ائیربیس پر حملہ آور کون لوگ تھے پٹھان کوٹ میں اُن کے سہولت کار کون تھے ؟ پھر پاکستان اُن کے اِس مبینہ حملہ کے خلاف کوئی کارروائی کرئے تو کیسے کرئے ‘ جان کربی پاکستان کی اِس زمینی حقیقت کو کیا خود نہیں جانتے کہ پاکستان گزشتہ ڈیڑھ برس سے خود بحیثیتِ ایک مہذب ملک شمالی وزیرستان میں اُن انسانیت کے دشمنوں کے خلاف خود ایک بڑی جنگ میں مصروفِ عمل ہے، جنہوں نے کئی برسوں سے پاکستانی معاشر ے کو خونریز دہشت گردی کا نشانہ بنا رکھا تھا دہشت گردی کو اُس کی جڑ بیخ سمیت اکھاڑ پھینکنے میں آپریشن ضربِ عضب کی کامیابیوں کو دنیا بھر میں سراہا جارہا ہے کیا امریکا نہیں سمجھتا کہ پاکستان پہلے سے عسکریت پسند ‘ انتہا پسنددہشت گردوں کے خلاف عملاً میدان میں اتر کر دہشت گردی کے خاتمے کی ایک نئی تاریخ رقم کررہا ہے پھر جان کربی کا یہ کہنا کیا مذاق نہیں کہ ’پاکستان جنگجو گروپس ‘ کو نشانہ بنائے‘شمالی وزیر ستان سے پاکستان بھر میں کسی نہ کسی شکل میں پاکستانی سیکورٹی فورسنز اور سویلین سیکورٹی ادارے دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے میں ایک ایک لمحہ کو قیمتی تصور کرتے ہیں اور وہ اپنا یہ کام اپنی سرزمین کو دہشت گردوں سے پاک کرنے تک جاری رکھنے کا بارہا عزم و ارادہ ملکی وعالمی سطح پر کرچکے ہیں براہِ کرم امریکی حکام سی آئی اے اور را کی ترجمانی کا فریضہ ادا کرنے سے باز رہیں اور خطہ کی سنگین صورتحال کو سنبھالا دینے میں اپنا رول ادا کریں چونکہ بھارت اور پاکستان کے مابین معاملات بہت حساس نوعیت کی نہج پر پہنچ چکے ہیں جیسا بین السطور بیان ہوا کہ پٹھان کوٹ ائیر بیس میں یہ جو کوئی بھی حملہ آور تھے جنہوں نے چاہے وہ بھارتی فوجی تھے مگر تھے تو انسان ‘ جنہیں اِن دہشت گردوں نے مار ڈالا اپنی جگہ یہ ایک نہایت افسوس ناک اور قابلِ مذمت واقعہ ہے بجائے اِس کے بھارتی حکومت اور اُن کے اہم وزراء اِس واقعہ پر اپنی سیاست کو چمکائیں اُنہیں ہر قیمت پر اصل گنہگاروں کو کٹہرے میں لانے کی جانب توجہ دینی چاہیئے اور جیسا کہ پاکستان نے کہا ہے کہ اگر اُن کے پاس دہشت گردی سے نمٹنے کی پیشہ ورانہ اہلیت و صلاحیت نہیں تو پاکستان اُن کی مدد کرنے کو تیار ہے چونکہ پاکستانی فورسنز دہشت گردوں کی عسکری نفسیات کو بھارت سے بہتر سمجھتی ہے کچھ تحفظات کے ساتھ بحیثیتِ پاکستانی قوم کے پٹھان کوٹ ائیر بیس حملہ کے سلسلے میں بھارت کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ’نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کے سربراہ شرد کمار کے اِس بیان کو نہایت مثبت قرار دیتے ہیں جس میں وہ ہمیں فی الحال کسی سیاست میں الجھے نظر نہیں آتے بلکہ اُنہوں نے صاف کہہ دیا ہے کہ ’پٹھان کوٹ ائیر بیس پر ہوئے حملہ پر کسی شواہد کے بغیر پاکستان پر براہِ راست الزام نہیں لگایا جاسکتا ‘ اُن کا ایک تفصیلی بیان پاکستانی اخبارات میں شائع ہوا ہے اب آر ایس ایس اور بی جے پی یا بھارت کی وہ ’نان اسٹیٹ ‘ کردار کیا بھاڑ جھونکیں گے جو پٹھان کوٹ ائیر بیس حملے کو جواز بنا کر پاکستان اور بھارت کے مابین سیکریٹری سطح کے مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی ٹھانے ہوئے ہیں ہمیں پاکستانی ہونے کے ناطے اپنی جگہ بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی سے کئی منطقی نوعیت کے باوزن اختلافات ضرور ہیں اُنہیں ہم گجرات سمیت کئی مقامات پر مسلمانوں کا واضح دشمن جانتے ہیں ’صبح کا بھولا شام کو گھر واپس آجائے تو اُسے بھولا نہیں کہتے ‘ کاش ! کہ وہ ایسے ہوکر دکھا دیں ویسے لگتا نہیں ، آج نہیں تو کل یا پھر چند روز بعد معلوم دنیا کو پتہ چل جائے گا کہ ’پٹھان کوٹ ائیر بیس حملہ پر پاکستان کی جانب سے بڑھایا جانے والا اعتماد مزید ٹھوس روش اختیار کرتا ہے یا نہیں ‘ خدانخواستہ ‘ اگر ایسا نہیں ہوتا جس کے نتیجہ میں پاکستان اور بھارت خارجہ سیکریٹریوں کے مذکرات پر کوئی شب خون مارا جاتا ہے تو ہم یہ سمجھنے میں یقیناًحق بجانب ہوں گے کہ بھارت کے اپنے اندر کچھ ایسی طاقتور نادیدہ قوتیں ضرور موجود ہیں جو جنوبی ایشیا کی دو ایٹمی پڑوسی ملکوں پاکستان اور بھارت کے مابین بڑھتی ہوئی خلیج کو پاٹنا نہیں چاہ رہے ہیں۔