- الإعلانات -

پٹھان کوٹ کا سچ … ؟

جب نئے سال کا آغاز ہوا تو پوری دنیا کو یہ امید تھی کہ جنوبی ایشیاء کے لئے یہ سال سکون اور ترقی کی علامت ثابت ہو گا ۔ کیونکہ اس سے صرف ایک ہفتہ قبل یعنی پچیس دسمبر کو بھارتی وزیر اعظم کے دورہ لاہور کے نتیجے میں اچھا ماحول پیدا ہوا تھا لیکن اکتیس دسمبر اور یکم جنوری کی درمیانی شب ’’ پٹھان کوٹ ‘‘ میں دہشتگردی کے واقعے نے اس معاملے کو دھندلا کر رکھ دیا ہے اور آنے والے وقت میں سکون اور ترقی کے ضمن میں بہت سے سوال کھڑے کر دیئے گئے ہیں ۔
اس صورتحال کا تجزیہ کرتے خود بھارت کے کئی غیر جانبدار حلقوں نے کہا ہے کہ اس ضمن میں دہلی سرکار کو جلدی میں کسی فیصلے پر نہیں پہنچنا چاہیے کیونکہ مودی کے دورہ لاہور کی مخالفت میں خود بھارت کے اندر بہت سی مخالف آوازیں اٹھیں اور دہلی سرکار میں شامل کئی عناصر نے مودی سرکار پر شدید تنقید کی ۔ واضح رہے کہ شیو سینا کے سربراہ ’’ ادت ٹھاکرے ‘‘ اور ترجمان سنجے راوت نے کھل کر کہا کہ وہ پاک بھارت میں شروع ہونے والی اس بات چیت کو کسی بھی طور کامیاب نہیں ہونے دیں گے ۔ شیو سینا کے اخبار ’’ سامنا ‘‘ نے اپنے اداریہ میں لکھا کہ ان مذاکرات کو ناکام بنانے کے لئے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا ۔ سنگھ پریوار کے چند دیگر عناصر خاص کر وشو ہندو پریشد ( VHP ) اور بجرنگ دل کے رہنما ’’ پروین تگوڑیا ‘‘ اور ہندو مہا سبھا کے سربراہ ’’ کملیش تیواڑی ‘‘ نے اس ضمن میں بڑے سخت بیانات دیئے اور شدید زبان استعمال کی ۔ اسی وجہ سے ’’ منوج جوشی ‘‘ جیسے ممتاز صحافی نے کئی بھارتی ٹیلی ویژن چینلوں پر کھل کر کہا ہے کہ ’’ پٹھان کوٹ ‘‘ کے واقعے کے پسِ پردہ خود بھارت سے تعلق رکھنے والی کئی انتہا پسند تنظمیں اور افراد شامل ہو سکتے ہیں کیونکہ اس ضمن میں گورداسپور کے پولیس ایس پی ’’سلوندر سنگھ ‘‘‘ کا کردار بڑا عجیب نظر آتا ہے ۔ جس طرح سے انھوں نے بار بار بیان بدلے اس سے لگتا ہے کہ یا تو اس معاملے میں دہشتگرد ہندو گروہوں کا ہاتھ ہے یا پھر بھارت میں چل رہی سکھ تحریک بھی اس کے پیچھے ہو سکتی ہے کیونکہ یہ سوال نہایت اہمیت کا حامل ہے کہ گورداس پور کے ایس پی ’’ سلوندر سنگھ ‘ ‘ اپنے دو ساتھیوں ’’ راجیش ورما ‘‘ اور اپنے باورچی کے ساتھ رات کے بارہ بجے پٹھان کوٹ کے جنگل میں کیا کر رہے تھے ۔
اس کا جواب کوئی بھی نہیں دے پایا ۔ ایس پی کا کہنا ہے کہ وہ ’’ بانہال ‘‘ کے قریب ایک درگاہ میں متھا ٹیک کر واپس آ رہے تھے کہ راستے میں دہشتگردوں نے ان سے گاڑی چھین لی ۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ اپنے جیولر دوست ’’ راجیش ورما ‘‘ اور خانساماں ’’ موہن لعل ‘‘ کے ساتھ آدھی رات کو بغیر کسی ہتھیار اور باڈی گارڈ کے کیوں گئے تھے ۔ ذرائع کے مطابق ’’ پٹھان کوٹ ‘‘ ہوائی اڈے سے ایک کلو میٹر کے فاصلے پر واقع گاؤں ’’ تاج پورہ ‘‘ کے کھیتوں تک دہشتگرد ’’ سلوندر سنگھ ‘‘ کی سرکاری گاڑی میں گئے ۔ وہاں انھوں نے گاڑی چھوڑ دی اور پیدل ایک کلو میٹر کا فاصلہ طے کر کے’’ اکال گڑھ گرو دوارے‘‘ تک پہنچے اور پھر اس ہوائی اڈے کی عمارت میں داخل ہوئے ۔ہر کوئی بخوبی جانتا ہے کہ فوج اور ایئر فورس کے اڈوں پر حفاظت کے سخت انتظامات ہوتے ہیں اور ان میں داخل ہونا کوئی اتنی آسان بات نہیں ہوتی جب تلک کوئی اندر کا شخص مدد نہ کر رہا ہو ۔ ایسے میں واضح طور پر اس واقعے کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ اس میں بھارت سرکار کے سٹیٹ ایکٹرز کے شامل ہونے کے کچھ ثبوت نظر آتے ہیں ۔ ایسے میں دہلی سرکار کی طرف سے پاکستان کے مخالف الزام لگانے کو کسی بھی طور قابلِ رشک روش قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ اس سارے معاملے کا یہ پہلو بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس واقعے کے فوراً بعد پاکستان کے وزیر اعظم نے اپنے دورہ سری لنکا کے دوران وہیں سے بھارتی ہم منصب ’’ نریندر مودی ‘‘ کو ٹیلی فون کیا اور ان کے ساتھ تفصیلی بات چیت کی اور انھیں یقین دلایا کہ اس ضمن میں اگر پاکستان کا کوئی بھی فرد ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف سخت کاروائی ہو گی ۔ آٹھ جنوری کو اسلام آباد میں وزیر اعظم نواز شریف کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں پاک فوج کے سربراہ کے علاوہ دیگر سبھی اہم افراد شامل ہوئے اور سب نے پٹھان کوٹ میں ہونے والی اس واردات کی شدید مذمت کی اور اس ضمن میں پاکستانی حکومت اور عوام کی طرف سے پورے تعاون کا یقین دلایا گیا ۔
غیر جانبدار مبصرین نے پاکستان کے اس رویے کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ امید کی جا نی چاہیے کہ دہلی سرکار بھی اس سارے معاملے میں تحمل اور برداشت کا ثبوت دے گی اور بلاوجہ پاکستان پر کوئی الزام لگانے سے گریز کرے گی کیونکہ ایسی باتوں سے ماحول میں اور کشیدگی پیدا ہوتی ہے ۔ یاد رہے کہ BJP رہنما ’’ رام دیو ‘‘ ( یوگ گرو ) نے نو جنوری کو کہا کہ ’’ پٹھان کوٹ واقعے کے بعد پاکستان کو ایسی سخت سزا دی جائے کہ وہ ثبوت مانگنا بھول جائے اور اسے ثبوت دینا در اصل بھارت کی بزدلی کو ظاہر کرتا ہے ‘‘۔ ظاہر ہے ایسی اشتعال انگیزی ماحول کو کس قدر پراگندہ کر سکتی ہے ہر کوئی اس کا اندازہ کر سکتا ہے ۔
ہر کوئی بخوبی جانتا ہے کہ اس سے قبل بھی کئی مواقع پر دہلی سرکار کی طرف سے کئی بار بلا وجہ الزامات لگائے گئے مثلاً تیرہ دسمبر 2001 کو بھارتی پارلیمنٹ پر ہونے والی واردات میں بھی خود بھارتی حلقے شامل پائے گئے اور ایسا ہی اٹھارہ فروری 2007 کو سمجھوتہ ایکسپریس کی دہشتگردی کی واردات کے بعد بھی ہوا جب بھارتی فوج کے ’’ کرنل پروہت ‘‘ ، ’’ میجر اپادھیا ‘‘ ، ’’ سادھوی پرگیہ ٹھاکر ‘‘ اور سوامی اسیمانند وغیرہ نے خود بھارتی عدالتوں میں اعتراف کیا کہ سمجھوتہ ایکسپریس کی دہشتگرد ی انھوں نے کی تھی ۔ علاوہ ازیں صرف ایک برس قبل اکتیس دسمبر 2014 اور پہلی جنوری 2015 کی درمیانی رات کو بھی دہلی سرکار نے الزام لگایا کہ ایک پاکستانی کشتی ہتھیاروں سمیت بھارتی سمندری حدود میں داخل ہو رہی تھی جسے اسے تباہ کیا گیا ۔ لیکن بعد میں بھارتی کوسٹل گارڈ کے سر براہ ’’ لوشانی ‘‘ نے دہلی سرکار کے الزامات کو جھٹلاتے ہوئے یہ پردہ فاش کیا کہ یہ الزام سراسر جھوٹے اور بے بنیاد تھے ۔ ایسے میں غیر جانبدار حلقوں نے بجا طور پر کہا ہے کہ حالیہ دہشتگرد واقعے میں بھی پاکستان پر الزام دھرنے سے پہلے بھارت سرکار کو سوچنا ہو گا کہ بھارت کے وزیر دفاع ’’ منوہر پریارکر ‘‘ تیئس مئی کو ’’ آج تک ‘‘ ٹی وی چینل سے بات کرتے اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ اب بھارت سرکار نے دہشتگردی کے خاتمے کے لئے کانٹے سے کانٹا نکالنے کی پالیسی اپنا لی ہے یعنی اپنے دہشتگردوں کے ذریعے ہی ایسی صورتحال پیدا کی جائے جس سے ظاہر ہو کہ یہ وردات کسی دوسرے نے کی ہے ۔ اس ضمن میں امید ہے کہ امریکہ سمیت عالمی برادری ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا ٹھوس اور مثبت کردار ادا کرے گی ۔ خود وطنِ عزیز کے اندر بھی امن دشمن عناصر کی بیخ کنی کے لئے حکومت ، عوام اور میڈیا نیشنل ایکشن پلان اور ضرب عضب کی کامیابی میں زیادہ فعال کردار ادا کریں گے ۔