- الإعلانات -

زرداری اور شریفوں کے سنہری ادوار

جناب زرداری صاحب فرماتے ہیں کہ نواز شریف نے 2015ء میں ڈاکٹر عاصم حسین مد ظلہ پر مقدمہ دائر کرکے ہم کو پچھلے سال کا ایک نادر سا تحفہ دیا تھا اوراب 2016ء میں منور تالپور صاحب پر مقدمہ قائم کرکے نئے سال کا تحفہ بھی دیا ہے اور یہ بات انہوں نے ہمیشہ یاد رکھنے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے لیکن شریفوں کی شرافت کے قائل بھی ساتھ ہی ایک پتے کی بات بھی کہ گئے کہ یہ مقدمات قائم کر کے نوازشریف نے اس مفاہمت کا خاتمہ کردیا جو میثاق جمہوریت کی صورت میں ہمارے مابین موجود تھی بالکل درست فرمایا لیکن قبلہ زرداری صاحب ہر پراڈکٹ کے قابل استعمال ہونے کی ایک حتمی تاریخ ہوتی ہے اس کے بعد استعمال متروک ہوجاتا ہے پھر آپ کے دہن مبارک سے نکلے ہوئے سنہری الفاظ کہ معاہدے قرآن حدیث نہیں ہوتے لیکن آپ لوگوں نے جمہوریت کی اتنی شدید خدمت کی کہ آپ کی پارٹی ہی کہیں ہوا میں تحلیل ہوگئی ویسے آپس کی بات ہے جمہوریت کی جسقدر خدمت آپ دونوں نے کی ہے اس سے زیادہ جمہور اور جمہوریت نے آپ کی کردی اب دیکھیں بلکہ یاد کریں کراچی کی وہ بھینی بھینی مہکی مہکی راتیں جب بمبینو میں اچھی اچھی فلمیں لگا کرتی تھیں خاصا رش ہوا کرتا تھا کراچی انتہائی پر امن اور غریب پرور شہر ہوا کرتا تھا تفریح کے وسائل بہت محدود ہوا کرتے تھے اور آپ کی ملوک طبیعت کے باعث آخر میں آنے والوں تک کو سینما ٹکٹ مل جایاکرتا تھا آپ نے کہاں سے سفر شروع کیا اورکیسا سہانا سفر تھا کہ حضور صدر پاکستان اور مسلح افواج کے سپریم کمانڈر کے منصب جلیلہ تک جا پہنچے اس دوران آپ نے جمہوریت کے لئے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں لیکن ایک بات ہے کہ آپ کا یہ دور بھی امن و امان کا مثالی دور تھا شیر بکریوں کے گلے میں بانہیں ڈالے پھرتے تھے کوئی ٹارگٹ کلنگ نہیں تھی بس کبھی کبھی طالبان تفنن طبع کے لئے ایک آدھ پھلجھڑی چھوڑ دیا کرتے تھے آپ نیلسن منڈیلا تک کہلائے شکرکریں کہ معاملہ یہیں تک رہا ورنہ پارٹی میں ایسے ایسے جان نثار لوگ بھی موجود ہیں جو آپ کو قائد اعظم بنانے پر تلے ہوئے تھے لیکن ساتھ ہی ایسے جلنے والے بد خواہ بھی موجود ہیں جو اس قربانی کو جمہوریت نہیں جیب تراشی کے لئے جیل جانے کا الزام دیتے ہیں اور کھربوں کے اثاثہ جات کی بات کرتے ہیں جو اگر ہیں تو آپ کی محنت اور حلال کی کمائی ہی ہوگی نا ؟بہرحال دل چھوٹا نہ کریں ہم آپ کی قربانی کے قدردان ہیں اور ان قربانیوں کے بھی جو دی گئیں۔ادھرنوازشریف صاحب کا سفر بھی ماشااللہ کسی سہانے سفر سے کم نہین رہا صنعتی خاندان کے فرد تھے لیکن جب گورنمنٹ کالج میں داخلہ ملا تو وہ بھی بطور ایتھلیٹ یعنی پہلوان کہاں جناب ائرمارشل اصغر خان کی تانگہ پارٹی جہاں سے انہوں نے اپنی عملی سیاست کا آغاز کیا بھٹو مرحوم نے افتاد طبع کی رو میں جب صنعتیں قومیں تو شریف خاندان سے سب کچھ لے لیا گیا مجبورا بیرون ملک چلے گئے اور جب حالات نے پلٹا کھایا جنرل ضیاء4 الحق اقتدار میں آئے اور خوب آئے تو ان کے آنے کے بعد جنرل غلام جیلانی خان جو لاہور کے کور کمانڈر اور پنجاب کے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر تھے کی نظر انتخاب جناب نواز شریف پر پڑی جو نہایت خوب رو اور وجیہ نوجوان تھے پہلے پہل تو جناب پنجاب کے خزانوں کے وزیر بنائے گئے ساتھ ہی ان کے ضبط شدہ اثاثے انہیں اوران کے خاندان کو واپس مل گئے تو ماشاء اللہ ان کے ذاتی کاروبار پر ہن برسنا شروع ہوا برکتیں ہی برکتیں اور پھر چل سو چل ان کی صنعتیں ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو گئیں دن دونی اور رات چوگنی ترقی ہونے لگی ترقی کی رفتار دیکھ کر راکٹ کو بھی رشک آنے لگا حکومت میں تجربے پر تجربے ہوتے رہے اور تجربہ حاصل ہوتا رہا اور مسلسل ہو رہا ہے اور یہ پاکستان کی سب سے زیادہ حکومتی تجربہ کار پارٹی کہلاتی ہے جس کا ہر وزیر با تدبیر اسی تجربے کاری کی بنیاد پر حسن انتظام کی اعلیٰ ترین صلاحیتوں سے مالا مال ہے نندی پور قطر گیس میٹرو بیرون ملک ڈالر بانڈوں کی فروخت اور امن و امان کی مثالی صورت حال اسی تجر بے کاری کی مرہون منت ہے اس حسن انتظام کا ایک اور مثالی مظاہرہ گدھوں کی دو لاکھ کھالوں کی برآمد سے بھی ہوتا ہے جو غالبا عوامی جمہوریہ چین کو برآمد کی گئیں اس سے حاصل ہونے والے گوشت کا سراغ لگناباقی ہے کبھی نہ کبھی سراغ لگ ہی جائے گا اتنی بھی کیا جلدی ہے اب چونکہ نوازشریف صاحب کا کوئی ذاتی کاروبار نہیں رہا لہذا چند ہی ہزار ٹیکس ادا کرتے ہیں بی بی شازیہ مری صاحبہ نے انتہائی مہنگی گھڑی میاں صاحب کی کلائی کی زینت ہونے کی نشان دہی کی وہ بھی اسمبلی میں بی بی جی کیا آپ کو اپنی بات کا پورا یقین ہے ؟ اور ہمارے کئی بڑے بڑے سیاستدان میاں صاحبان کے چھوٹے چھوٹے گھروں پر تنقید کرتے ہیں اور ان کو جاگیریں بلکہ محلات قرار دیتے ہیں بھئی مخالفت کی بھی کو ئی حد ہوتی ہے نواسی کی شادی میں 8 کروڑ کا ہار تحفے میں دینا بھی محض افسانہ لگتا ہے مخالفین تو پھر مخالفین ہوتے ہیں ایویں ہی شگوفے چھوڑتے رہتے ہیں لہٰذا دل چھوٹا نہ کریں۔