- الإعلانات -

سجن جندال، لوہے کے تاجروں کا بھارتی گروپ

قارئین کرام ! گزشتہ روز وزیراعظم پاکستان جناب نواز شریف کے ترجمان مصدق ملک نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے مبینہ طور پر ایک پریس کانفرنس میں لگائے گئے الزامات کے جواب میں کہا ہے کہ تردید کے باوجود عمران خان بھارتی اِسٹیل ٹائیکون سجن جندال کو وزیراعظم کا بزنس پارٹنر بنانے پر تُلے ہوئے ہیں ۔ اُنہوں نے وضاحت کی کہ بھارتی لوہے کے تاجر سجن جندال گروپ یا کسی بھارتی شہری کی تجارتی سرگرمیوں سے وزیراعظم کا کوئی کاروباری تعلق نہیں ہے۔ جناب مصدق ملک کی جانب سے اِس واضح تردید کے بعد اِس اَمر پر یقین کیا جانا چاہیے کہ سجن جندال گروپ کیساتھ وزیراعظم کے صاحبزادے حسین نواز شریف ، فیملی کے کسی رکن یا فرنٹ مین کے طور پر کسی اور عزیز یا احباب کا کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ جناب وزیراعظم کے ترجمان کی جانب سے یہ وضاحت اِس لئے بھی ضروری تھی کیونکہ عمران خان ہی نہیں بلکہ پاکستانی اور بیرونی میڈیا میں اتفاق گروپ اور سجن جندال گروپ کے درمیان افغانستان سے خام لوہے کی تجارت کے حوالے سے کافی حاشیہ آرائی کی جا رہی تھی۔ قبل اِس کے کہ عمران خان کے الزامات کا جائزہ لیا جائے دیکھنے کی بات یہ بھی ہے کہ سجن جندال کون ہیں اور میڈیا اور سیاسی حلقوں میں ایسی منفی قیاس آرائیوں کو مہمیز کیوں دی جا رہی ہے ۔سجن جندال بھارتی (JSW ) جے ایس ڈبلیو اِسٹیل کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر کے طور پر کام کر رہے ہیں جس کی شاخین ممبئی ہیڈکوارٹر کیساتھ بھارت کے چھ مختلف صوبوں میں قائم ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق جے ایس ڈبلیو اِسٹیل کے اثاثے 15 بلین امریکی ڈالر سے کہیں زیادہ ہیں۔یہ گروپ اِسٹیل کے علاوہ سیمنٹ ، انرجی انڈسٹری اور سافٹ ویئر میں بھی بخوبی کام کر رہا ہے۔ سجن جندال گروپ سے تعلق رکھنے والے کئی افراد بھارتی سیاسی جماعتوں بل خصوص بھارت کی دونوں اہم سیاسی جماعتوں حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس پارٹی سے قریبی تعلقات رکھتے ہیں ۔ سجن جندال کے چھوٹے بھائی نوین جندال 2014ء تک ریاست ہریانہ سے کانگریس پارٹی کے ٹکٹ پر لوک سبھا کے رکن رہے ہیں اور اب اپنی علیحدہ کمپنی چلا رہے ہیں جبکہ سجن کی اہلیہ سنگیتا جندال، جے ایس ڈبلیو فاؤنڈیشن کی چیف ہیں ۔حیرت ہے کہ ایک اور معروف بھارتی صحافی انجیلی اہوجہ نے اپنی 26 دسمبر 2015ء کی رپورٹ میں بھی اِس اَمر کا تذکرہ کیا ہے کہ سجن جندال کے لاہور میں قائم اتفاق گروپ کیساتھ تجارتی روابط موجود ہیں۔
یاد رہے کہ2011ء میں جندال گروپ کی قیادت میں ایک پرائیویٹ کنسورٹیم میں جس کے پاس 44 فی صد حصص ہیں جبکہ بقایا حصص سرکاری بھارتی اِسٹیل اتھارٹی کے پاس ہیں جندال گروپ اور بھارتی اِسٹیل نے افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی کی مدد سے افغان حکومت کیساتھ صوبہ بامیان میں واقع دوسرے نمبر پرموجود دنیا کے سب سے زیادہ خام لوہے کے ذخائر میں چار میں سے تین حصوں کا معاہدہ کیا تھا لیکن افغانستان میں جاری افغان طالبان کی مذاحمت اور پاکستان کی جانب سے لینڈ روٹ کے ذریعے خام لوہے کے اِن ذخائر کی بھارت منتقلی کی اجازت نہ ملنے کے باعث ابھی تک یہ آپریشن شروع نہیں ہو سکا ہے ۔ جندال گروپ اور انڈین اِسٹیل کی خواہش ہے کہ اُنہیں پاکستانی لینڈ روٹ کے ذریعے یہ سستا خام لوہا اور اِسکریپ افغانستان سے واہگہ یا کراچی پورٹ کے ذریعے بھارت لے جانے کی اجازت مل جائے تو بھارت اِسٹیل کی دنیا پر حاوی ہوسکتا ہے جبکہ بامیان سے متبادل راستے کے ذریعے اِس خام لوہے کی بھارت ترسیل لوہے کی قیمت میں گراں قدر اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔ بامیان میں خام لوہے کے ذخائر کا اندازہ 1.8 بلین ٹن لگایا گیا ہے جس کے تین چوتھائی کا معاہدہ بھارت کیساتھ ہو چکا ہے۔ حیرت ہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت کے خاتمے اور امریکہ اور نیٹو اتحاد کی قیادت میں افغانستان میں شمالی اتحاد اور حامد کرزئی حکومت اور اب صدر اشرف غنی کی حکومت کو سہارا دینے میں تو حکومت پاکستان پیش پیش رہی ہے لیکن کراچی اِسٹیل ملز کو خطے کا ایک ممتاز ادارہ بنانے کیلئے افغان خام لوہے کے سستے ذخائر کے حصول کیلئے ماضی کی حکومتوں نے کوئی قابل ذکر کوشش نہیں کی بلکہ اِس کے برعکس بین الاقوامی سازشوں کے تحت منافع دینے والے کراچی اِسٹیل ملز کو بتدریج نقصان کا ادارہ بنا کر نہ صرف کمزور کر دیا گیا ہے بلکہ اِس تباہ حال پروجیکٹ کو اب پرائیویٹائز کرنے کی تیاریاں زور شور سے جاری ہیں۔ جبکہ بھارتی مقتدر ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان خام لوہے کے ذخائر ہندوستان اِسٹیل کے حوالے سے بھارتی مسلح افواج کیلئے مقامی ذرائع سے تیار کی جانے والی اسلحہ جات کی ضروریات پورا کرنے میں کافی حد تک معاون ہو سکتے ہیں ۔
محترم قارئین ، پاکستان میں اِس متنازع معاملے کی غیر ضروری تشہیر سے قبل معروف بھارتی صحافی ، اینکر اور لکھاری برکھا دت نے وزیراعظم میاں نواز شریف کے لندن میں مقیم صاحبزادے حسین نواز شریف سے نئی دہلی میں خصوصی لنچ کے حوالے سے سجن جندال کے مراسم کا تذکرہ کیا تھا۔ اندریں حالات، بھارتی لکھاری برکھا دت کی کتاب میں نیپال میں سارک کانفرنس کے موقع پر نواز مودی خفیہ مذاکرات کے حوالے سے دی گئی تفصیلات بھی کافی معنی خیز ہیں ۔ اِن تفصیلات کے حوالے سے یہ اَمر حیران کن ہے کہ سارک کانفرنس سے قبل بھارتی وزیر اعظم نریندرمودی نے مبینہ طور پر وزیراعظم نواز شریف سے نیپال میں خفیہ ملاقات کرانے کا اہتمام کرنے کا ٹاسک سجن جندال کے نواز فیملی سے خصوصی تعلقات کے حوالے سے ہی سجن جندال کو دیا تھا لیکن تاحال ایسی کسی ملاقات کی میاں نواز شریف کی جانب سے تائید نہیں کی گئی ہے چنانچہ اِسی حوالے سے برکھا دت نے 25 دسمبر کو نریندو مودی کی اچانک لاہور آمد ، مودی نواز ملاقات اور تحائف کے تبادلے پر حال ہی میں اپنے دوست سجن جندال سے یہ گلہ شکوہ ضرور کیا ہے کہ اگر اُنہوں نے دونوں وزرأ اعظم کے درمیان نیپال میں ہونے والی خفیہ ملاقات کا تذکرہ غلط کیا گیا تھا تو جاتی امراء میں مودی نواز ملاقات کس ذریعے سے ممکن ہوئی تھی ؟ یہ اَمر بھی حیران کن ہے کہ گزشتہ برس ماہ جون میں نئی دہلی میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حلف وفاداری کی تقریب نئی دہلی میں منعقد ہوئی تو سجن جندال فیملی نئی دہلی میں موجود تھی جہاں لندن پوسٹ کی ایک تصویری مستند رپورٹ کیمطابق میاں نواز شریف نے نریندر مودی کی حلف وفارادی کی تقریب کے بعد سجن جندال کی فیملی کی جانب سے دی گئی چائے کی ایک خصوصی دعوت میں شرکت کی تھی جس کی فیملی فوٹو بھی لندن پوسٹ نے ڈیٹ لائین 16 جون 2014 کے حوالے سے شائع کی تھی ۔ لندن پوسٹ نے چائے کی اِس دعوت کے حوالے سے یہ سوال کوئی جواب دئیے بغیر شائع کیا تھا کہ "Why Sharif skipped meeting Hurriat leaders but attended steel baron tea party.” ۔ یعنی جناب نواز شریف نے کشمیری حریت قیادت کو چھوڑ کر بھارتی اِسٹیل ٹائیکون کی چائے کی دعوت میں کیونکر شرکت کی۔ چنانچہ، ایک میڈیا رپورٹ کیمطابق پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمران خان نے اِس اَمر پر اظہار افسوس کیا تھا کہ کشمیر حریت کانفرنس کی جانب سے وزیراعظم کے نئی دہلی قیام کے موقع پر ملاقات کی درخواست کی گئی تھی لیکن وزیراعظم نے حریت لیڈروں سے ملاقات کرنے کے بجائے سجن جندال کی چائے کی دعوت کو ترجیح دی۔ اِسی طرح سارک کانفرنس کے موقع پر نیپال میں نواز مودی مبینہ خفیہ ملاقات کا تذکرہ ہوا تو سجن جندال کھٹمنڈو میں موجود تھے۔ 25 دسمبر 2015ء میں بھارتی وزیراعظم نریندو مودی اچانک لاہور تشریف لائے تو بھی سجن جندال اپنی فیملی کے ہمراہ وزیراعظم کی نواسی کی شادی میں شرکت کیلئے لاہور میں موجود تھے۔ بقول مرزا غالب ……. ؂
جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجود
پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے ؟
یہ پری چہرہ لوگ کیسے ہیں ؟
غمزہ و عشوہ و ادا کیا ہے ؟