- الإعلانات -

بھارتی الزامات کا کچرا،مذاکرات سے بھاگنے کا بہانہ

آخر بلی تھیلے سے باہر آہی گئی ہے۔مودی سرکار نے پاکستان سے سیکریٹری خارجہ مذاکرات پٹھان کوٹ حملے کی موثر تحقیقا ت سے مشروط کردئیے ہیں۔بھارت کا مطالبہ ہے کہ ذمہ داروں کے خلا ف سخت کارروائی ہی پاک بھارت تعلقات کو آگے بڑھاسکتی ہے۔اسے کہتے ہیں ’’من حرام حجتاں ڈھیر‘‘ یعنی جب کسی کام کو نہ کرنے کی ٹھان لی ہو تو پھر حیلے بہانے ڈھیروں مل جاتے ہیں۔اس بات کا خدشہ حملے کی کارروائی کے دوران ہی ہوگیا تھا کہ اب مودی حکومت کو ایک نیا بہانہ مل گیا ہے۔وزیراعظم پاکستان نے تعلقات میں ہونے والی حالیہ پیشرفت کو آگے بڑھانے کے لئے خود مودی سے رابطہ کیا تا کہ بھارتی میڈیا جو شور مچا رہا اس سے مذاکرات ہونے کی جو نئی امید پیدا ہوئی ہے وہ ختم نہ ہو جائے،لیکن حیلہ سازی میں بھارت نے نئی مثال قائم کرتے ہوئے سیکریٹری خارجہ مذاکرات جو 15جنوری سے ہونے ہو جا رہے تھے کومشروط کرکے ملتوی کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔ بھارت نے وزارت خارجہ کو پیغام دے دیا ہے کہ پاکستان نے بھارت کی طرف سے فراہم کئے جانے والے ثبوتوں کی روشنی میں سخت کارروائی کی اور اس ساری صورتحال سے بھارت کو آگاہ کیا تو اسی صورت میں بات چیت آگے بڑھے گی۔یہ کتنی افسوس ناک بات ہے کہ ابھی یہ بھی واضح نہیں ہوا کہ جو ثبوت دیئے گئے ہیں آیا وہ اس قابل اور معتبر ہیں بھی یا نہیں کہ کسی کے خلاف کارروائی کی جاسکے مگربھارت نے نہ کھیلنے کا شور پہلے ہی مچا دیا ہے۔معلوم ہوا ہے کہ جو ثبوت فراہم کئیے گئے ہیں اس پر حتمی رائے قائم کرنا مناسب نہیں ہے۔بھارت کو چاہئے کہ وہ پاکستان کو مکمل دستاویزات اور تفصیلی ثبوت فراہم کرے تاکہ پاکستان موثر تحقیقات کرکے بھارت کے تحفظات دور کرسکے۔یہ کام کرنے کی بجائے بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سوراپ کی ایک ہی رٹ ہے کہ حملہ آور سرحد پار سے آئے تھے ‘پاکستان کو قابل عمل معلومات دے دیں ‘دیکھناہے پاکستان کیا کارروائی کرتاہے۔ بھارت نے دوستی کا ہاتھ بڑھایا تاہم سرحد پار سے دہشت گرد حملے برداشت نہیں کرینگے۔ 15جنوری سے پہلے کیاہوتاہے‘اس دوران حالات میں کافی تبدیلی آ سکتی ہے‘پاکستان کی جانب سے کرائی گئی یقین دہانیوں پر کام ہوا تو حالات یقیناًمثبت سمت میں جائیں گے‘پاکستان سے متعلق ہماری پالیسی واضح ہے۔
بھارتی وزارت خارجہ کا یہ دھمکی آمیز لہجہ جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف ہے۔وزیر اعظم نواز شریف نے اپنے بھارتی ہم منصب نریندر مودی سے ٹیلیفونک بات چیت میں انہیں پٹھانکوٹ حملے میں مکمل تعاون کا یقین دلایا تھا لیکن شاید وزیراعظم نوازشریف کی یہ کوشش رائیگاں گئیں۔دراصل مودی حکومت بہانے تراش کر بھارت ایک بار پھر بھاگنا چاہتا ہے۔ پٹھانکوٹ واقعہ افسوسناک اور مودی کے اچانک دورہ لاہور سے پیدا ہونیوالی سازگار فضا کو سبوتاژ کرنے کی سازش ہے۔حملہ سے پیدا ہونے والی صورتحال اور اس پر بعض بھارتی شکروں کے تبصرے اور تجزیوں پر گہری نظر رکھنے والے مبصرین کی رائے ہے کہ بھارتی سیکیورٹی اداروں اورحکومتی کے مشیروں کو مودی کی پاکستان سے اچانک قربت قطعاً پسند نہیں آئی جسے سبوتاژ کرنے کے لئے یہ ڈرامہ سٹیج کیا گیا۔دہشت گرد تو پہلے ہی دن مارے گئے لیکن اگلے تین دن پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے اس ڈرامے کو طول دیا گیا۔ پاکستان کی جانب سے مذمت کی گئی اور دہشت گردی کے خاتمہ کی حکمت عملی میں مکمل تعاون کا یقین دلایا گیا، اس کے باوجود بھارت کی ہٹ دھرمی جاری ہے ۔ پاکستان کی اس مثبت سوچ اور تعلقات میں بہتری کی خواہش کے برعکس بھارت کی جانب سے ہمیشہ پاکستان کے معاملہ میں شک و شبہ کا اظہار کیا جاتا ہے اور بھارت میں دہشت گردی کی جو بھی واردات ہو اس کا ملبہ پاکستان پر گرانے میں لمحہ بھر دیر نہیں لگائی جاتی چنانچہ جس طرح پہلے ممبئی حملوں اور پھر امرتسر میں پولیس تھانے میں دہشت گردی کا ملبہ بھی پاکستان پر ڈالا گیا، اسی طرز عمل کا مظاہرہ بھارتی حکام کی جانب سے پٹھانکوٹ حملہ کے حوالے سے بھی اپنایاگیا ہے۔ بھارتی حکام نے زہر افشانی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جو پاکستان کے معاملہ میں ان کے مائنڈ سیٹ کی عکاسی ہے جبکہ اس تناظر میں اب تک کا بھارتی طرز عمل بد گمانی والا ہی ہے حالانکہ پٹھانکوٹ حملہ کے بارے میں خود بھارتی ایجنسیاں ایس پی گورداسپور کو حراست میں لے کر اس حوالے سے تفتیش کر رہی ہیں کہ دہشت گردوں کو اس حملے کیلئے سہولت بھارت کے اندر سے ہی فراہم ہوئی ہے۔ بی بی سی نے بھی ایک رپورٹ میں سوالات اٹھائے ہیں کہ دہشت گردوں نے پولیس افسر اور اس کے دوست کو زندہ کیوں چھوڑ دیا اور ائربیس کے قریب بھارتی فوجی نفری تعینات ہونے کے باوجود وہاں نیشنل سکیورٹی گارڈ کیوں آئی اور علاقے پر شدت پسندوں کی موجودگی کی معلومات ہونے کے باوجود حملہ آوروں کو ائربیس میں داخل ہونے سے کیوں نہ روکا جا سکا، بی بی سی کی رپورٹ میں اور بھی ایسے سوالات اٹھائے گئے ہیں جن سے پٹھانکوٹ حملہ میں بھارت کی اپنی سکیورٹی فورسز میں سے کسی کے ملوث ہونے کا عندیہ ملتا ہے ۔
چنانچہ جب اس حملے کے کھرے بھارت کی جانب نکل رہے ہیں تو پہلے بھارتی متعلقہ ایجنسیوں کو اس واقعہ کی جامع تحقیقات اپنے گھر سے پہلے کرنی چاہئیں۔ ایس پی گورداسپور سے تفتیش نے معاملے کو مزید الجھا دیا ہے،بھارتی انٹیلی جنس ادارے دعووں کے باوجود اب تک یہ جاننے میں بھی ناکام ہیں کہ دہشت گرد آئے کہاں سے تھے؟ نیشنل انٹیلی جنس ایجنسی کے اعلیٰ عہدے داروں نے ایس پی گورداسپور سلویندر سنگھ سے تفتیش کی اور اغوا سے متعلق دعویٰ کی حقیقت جاننے کی کوشش کی تو مزید الجھ کر رہ گئے۔ پولیس کو دیئے گئے بیان میں سلویندر سنگھ نے دعویٰ کیا تھا کہ دہشت گرد اردو، ہندی، پنجابی اور کشمیری زبان بول رہے تھے لیکن تفتیش کاروں نے جب اسے کشمیری زبان سنائی تو وہ شناخت نہیں کر سکا۔ تفتیشی حکام کو ایس پی گورداسپور کے مندر جانے سے متعلق بیان میں بھی مکمل حقیقت نظر نہیں آرہی۔ ادھر جنگی جنون میں مبتلا بھارتی آرمی چیف جنرل دلبیر سنگھ سہاگ نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ نرمی کی پالیسی اختیار کرنے سے ملکی سلامتی خطرے میں پڑ رہی ہے، پالیسی تبدیل کرنا ہو گی، سرحد پار سے دہشت گردوں کے حملے روکنے کیلئے موثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، بھارتی فوج سرحد پار دہشت گردوں کے کیمپوں کیخلاف کارروائی کیلئے تیار ہے۔ ایسی اشتعال انگیزی یقیناًنامناسب بھی ہے اور نقصان دہ بھی۔ بھارتی پارلیمنٹ پرحملے اور سمجھوتہ ایکسپریس کی آتشزدگی سمیت کئی واقعات کا الزام بھی پاکستان پر دھرا گیا جو بعدازاں جھوٹ ثابت ہوئے،حتی ٰکہ وکی لیکس نے بھی ان کو جھوٹ کا پلندہ کہا اور کہا کہُ اس وقت امریکہ نے بظاہربھارت کی دلجوئی کیلئے بھارتی الزامات کی حمایت کا عندیہ دیا تھا لیکن دراصل امریکہ نے اُن الزامات کو کچرے کے ڈھیر میں ڈال دیا تھا۔